ےہ راگ سب جھوٹے ہےں۔۔۔؟


                                                                
                                                                                                                   Imageچھ تا سولہ جنوری کے دس روز میں کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر بھارت کے لانس نائک ہیمراج اور لانس نائیک سدھاکر سنگھ اور پاکستان کے لانس نائیک اسلم، حوالدار محی الدین اور لانس نائیک اشرف مارے گئے۔ یہ پانچوں تو اپنے اپنے وطن کے کام آگئے مگر ان کی قربانی چالاک کارپوریٹ پولٹیکل سیکٹر کے کام آئی،دہلی اجتماعی ریپ کیس کے بعد فارغ بیٹھے بھارتی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو ریٹنگ کا ایک نیا پہاڑ میسر آگیا۔ ٹی وی سکرین اور اخباری صفحے سے نکلنے والی تپش کی گرماہٹ نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی ہمنوا ذیلی تنظیموں کے لیے ایک اور نیا کام پیدا کردیا اور اس کے توڑ کے لئے منموہن حکومت نے بھی ٴٴچلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی،، کا فلسفہ اپنا لیا ۔ِپاکستانی نشرےاتی فضائ تو اسلام آباد کے قادری انقلاب کی مرغن نشریاتی غذا سے بھری پڑی تھی لہٰذا اس نے لائن آف کنٹرول کی جھڑپوں کو سائڈ ڈش کے طور پر برتا۔ حتیٰ کہ حافظ محمد سعید سے منسوب اس بیان کو بھی بھارتی میڈیا میں ہی جگہ مل سکی کہ جو بھی کسی بھارتی فوجی کا سر کاٹ کر سرحد پار لائے گا پانچ لاکھ روپے انعام پائےگا،بھارتیہ جنتا پارٹی کی رہنما سشما سوراج کی یہ جوابی غزل بھی پاکستانی میڈیا کے لیے چٹخارہ نہ پیدا کرسکی کہ اگر لانس نائیک ہمراج کا سر سرحد پار سے واپس نہیں آتا تو حکومت کو چاہیے کہ وہ دس پاکستانیوں کے سر کاٹ کر لائے، انڈین ہاکی لیگ میں شرکت کے متمنی نو پاکستانی کھلاڑیوں سے منتظمین نے معذرت کرکے ان کی واپسی کی سیٹیں کروادیں کیونکہ شیو سینا سمیت کئی تنظیموں نے ان کے خلاف مظاہرے شروع کردئیے تھے،حقےقت ےہ ہے کہ بھارت سے پاکستان کے ہاتھوں شکست پہ شکست برداشت نہےں ہو رہی،بھارتی لوگ،مےڈےا پاکستان کو دہشتگرد قرار دےتے نہےں تھکتا،مظلوموں کی آزادی کےلئے لڑنے والی لشکرطےبہ کو دہشگرد قرار دےنے والے شےو سےنا کی کارروائےوں کو بھول جاتے ہےں،تارےخ گواہ ہے کہ ہمےشہ بھارتی فوج نے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی،حالےہ جارحےت پر جب پاکستانی فوج نے منہ توڑ جواب دےا تو شور برپا کردےا،بھارتی شور الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے کے مترادف ہے، ےہ حقےقت ہے کہ بھارت پاکستان کا دشمن ہے اور دشمن ہی رہے گا،گولے پھےنکنے والوں کو پھول پےش نہےں کےے جاتے،ےہ امن کی آشا،ےہ نرم وےزا پالےےسی اور ےہ آزاد تجارت کے راگ سب جھوٹے اور بے معنی ہےں۔

Advertisements

میرے عزیزو۔۔۔اپنائیت کی آواز خاموش ہو گئی


Image
          جنوری رات 2 بجے اچانک فون کی گھنٹے بجی ، ایک افسوسناک اور غم ناک خبر نے مجھے سکتے میں ڈال دیا۔ خبر دینے والا میرا دوست قاضی حسین احمد صاحب کی دنیا سے رخصتی کی خبر دے رہا تھا۔ میری زبان سے اِنا للّٰہ و اِنّا اِلیہ راجِعون  نکل رہاتھا اور آنکھوں کے بند ٹوٹ چکے تھے، ساری رات اضطراب اور قاضی صاحب کی یادوں میں گزری، مجھے افسوس ہے کہ میں مرد مجاہد، اتحادامت کے داعی کے نماز جنازہ میں شریک نہ ہو سکا۔
ہم بچپن سے ایک ہی نعرہ سنتے آ رہے تھے کہ ٴٴظالموٝقاصی آ رہا ہےٴٴ جب بھی جماعت اسلامی کا ذکر ہوتا تو کہنے والے کی زبان پر خود بخود  قاضی صاحب کا نام آجاتا، قاضی صاحب جماعت اسلامی کی پہچان تھے،ان کی صاف گوئی اور بلند عزم نے مجھے بھی متاثر کیا ،جہاد سے محبت نے نرم گرم بستر سے  معسکر مےںپہنچا دیا، واپس لوٹا تو اسلامی جمعیت طلبہ کا حصہ بن گیا۔ میری قاضی صاحب سے واقفیت تب ہوئی جب جہاد کشمیر عروج پر تھا، ہم چونکہ دیہاتی علاقے میں رہنے والے تھے تو وہاں خبر کا ذریعہ صرف اخبار ہی تھا وہ بھی کبھی پہنچتا اور کبھی نہ پہنچتا، جب آپ سے منسوب کوئی خبر پڑھتا تو دل باغ باغ ہو جاتا، میری قاضی صاحب سے دو ملاقاتیں ہیں وہی میری زندگی کا اثاثہ ہیں، پہلی مرتبہ 2003ئ پنجاب یونیورسٹی کے اجتماع عام مےںملا، دوسری تفصیلی ملاقات اےک تقرےب مےں ہوئی، تقریب شروع ہونے میں ابھی دیر تھی اور قاضی صاحب وقت پر پہنچ چکے تھے، میں نے موقع پاتے ہی اُن سے ملاقات کر ڈالی، اُن کو اپنا تعارف کروایا اُن سے انٹرویو کے لیے ٹائم مانگا تو انہوں نے ساتھ بٹھا لیا، پہلے نوجوانوں کی بیداری اور اُن کے کردار  کے بارے میں بات کرتے رہے اور اُس کے بعد پاکستان مےںامریکی مداخلت پر سیر حاصل گفتگو کی،قاضی صاحب پاکستان مےں امرےکی مداخلت کے سخت مخالف تھے،دہشت گردی کےخلاف جنگ کے حامی نہےں تھے، میں نے اپنا کالم دکھایا تو انہوں نے وہیںبیٹھے بیٹھے پرھ ڈالا اور اس پر مجھے خوب داد بھی دی ،مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنے عظیم شخص کے ساتھ بیٹھا ہوں، اُن کی خوبصورت آواز آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے۔ جب بھی کبھی قاضی صاحب کسی جلسہ سے خطاب کرتے تو شرکائ کو میرے عزیزوٝ کہہ کر پکارتے، مجھے یاد ہے کہ انہوں نے مینار پاکستان گرائونڈ میں ہونے والے اجتماع عام کے اختتامی خطاب میں کہا تھا کہ شاید زندگی رہے نہ رہے انشائ اللہ جنت میں ملاقات ہو گی، وہ واقعی جنت کے مسافر تھے،قاضی صاحب کی وفات سے جہاں کروڑوں تحریکی کارکنوں کے سر پر آپ کا ساےہ نہےں رہا، وہاں میں بھی ایک شفےق قائد سے محروم ہو گیا ہوں۔ دنیا ایک تماشہ گاہ ہے، یہاں سب اپنی اپنی بولی بولتے ہیں اور اڑ جاتے ہیں اور کبھی لوٹ کر نہیں آتے، میں نے بھی یہی سمجھ کر یہ صدمہ برداشت کر لیا کوئی مرنے کے بعد زندہ رہنا چاہے تو وہ زندگی میں مرنے کی تیاری کرتا رہے، ایسی موت کا طلبگار رہے جس پر لاکھوں زندگیاں نثار ہوں۔ قاضی صاحب کے انتقال سے  اپنائےت کی آواز خاموش ہو گئی جو پھر کبھی سننے میں نصیب ہو۔

تحرےرٜاظہر تھراج
6 جنوری رات 2 بجے اچانک فون کی گھنٹے بجی ، ایک افسوسناک اور غم ناک خبر نے مجھے سکتے میں ڈال دیا۔ خبر دینے والا میرا دوست قاضی حسین احمد صاحب کی دنیا سے رخصتی کی خبر دے رہا تھا۔ میری زبان سے اِنا للّٰہ و اِنّا اِلیہ راجِعون  نکل رہاتھا اور آنکھوں کے بند ٹوٹ چکے تھے، ساری رات اضطراب اور قاضی صاحب کی یادوں میں گزری، مجھے افسوس ہے کہ میں مرد مجاہد، اتحادامت کے داعی کے نماز جنازہ میں شریک نہ ہو سکا۔
ہم بچپن سے ایک ہی نعرہ سنتے آ رہے تھے کہ ٴٴظالموٝقاصی آ رہا ہےٴٴ جب بھی جماعت اسلامی کا ذکر ہوتا تو کہنے والے کی زبان پر خود بخود  قاضی صاحب کا نام آجاتا، قاضی صاحب جماعت اسلامی کی پہچان تھے،ان کی صاف گوئی اور بلند عزم نے مجھے بھی متاثر کیا ،جہاد سے محبت نے نرم گرم بستر سے  معسکر مےںپہنچا دیا، واپس لوٹا تو اسلامی جمعیت طلبہ کا حصہ بن گیا۔ میری قاضی صاحب سے واقفیت تب ہوئی جب جہاد کشمیر عروج پر تھا، ہم چونکہ دیہاتی علاقے میں رہنے والے تھے تو وہاں خبر کا ذریعہ صرف اخبار ہی تھا وہ بھی کبھی پہنچتا اور کبھی نہ پہنچتا، جب آپ سے منسوب کوئی خبر پڑھتا تو دل باغ باغ ہو جاتا، میری قاضی صاحب سے دو ملاقاتیں ہیں وہی میری زندگی کا اثاثہ ہیں، پہلی مرتبہ 2003ئ پنجاب یونیورسٹی کے اجتماع عام مےںملا، دوسری تفصیلی ملاقات اےک تقرےب مےں ہوئی، تقریب شروع ہونے میں ابھی دیر تھی اور قاضی صاحب وقت پر پہنچ چکے تھے، میں نے موقع پاتے ہی اُن سے ملاقات کر ڈالی، اُن کو اپنا تعارف کروایا اُن سے انٹرویو کے لیے ٹائم مانگا تو انہوں نے ساتھ بٹھا لیا، پہلے نوجوانوں کی بیداری اور اُن کے کردار  کے بارے میں بات کرتے رہے اور اُس کے بعد پاکستان مےںامریکی مداخلت پر سیر حاصل گفتگو کی،قاضی صاحب پاکستان مےں امرےکی مداخلت کے سخت مخالف تھے،دہشت گردی کےخلاف جنگ کے حامی نہےں تھے، میں نے اپنا کالم دکھایا تو انہوں نے وہیںبیٹھے بیٹھے پرھ ڈالا اور اس پر مجھے خوب داد بھی دی ،مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنے عظیم شخص کے ساتھ بیٹھا ہوں، اُن کی خوبصورت آواز آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے۔ جب بھی کبھی قاضی صاحب کسی جلسہ سے خطاب کرتے تو شرکائ کو میرے عزیزوٝ کہہ کر پکارتے، مجھے یاد ہے کہ انہوں نے مینار پاکستان گرائونڈ میں ہونے والے اجتماع عام کے اختتامی خطاب میں کہا تھا کہ شاید زندگی رہے نہ رہے انشائ اللہ جنت میں ملاقات ہو گی، وہ واقعی جنت کے مسافر تھے،قاضی صاحب کی وفات سے جہاں کروڑوں تحریکی کارکنوں کے سر پر آپ کا ساےہ نہےں رہا، وہاں میں بھی ایک شفےق قائد سے محروم ہو گیا ہوں۔ دنیا ایک تماشہ گاہ ہے، یہاں سب اپنی اپنی بولی بولتے ہیں اور اڑ جاتے ہیں اور کبھی لوٹ کر نہیں آتے، میں نے بھی یہی سمجھ کر یہ صدمہ برداشت کر لیا کوئی مرنے کے بعد زندہ رہنا چاہے تو وہ زندگی میں مرنے کی تیاری کرتا رہے، ایسی موت کا طلبگار رہے جس پر لاکھوں زندگیاں نثار ہوں۔ قاضی صاحب کے انتقال سے  اپنائےت کی آواز خاموش ہو گئی جو پھر کبھی سننے میں نصیب ہو۔

دنیا کا آدھا کھانا ضائع ہو جاتا ہے


برطانیہ کی ایک تنظیم نے رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا کا آدھا کھانا تو ضائع ہو جاتا ہے ٖ ضائع ہونے والے غذائی اشیا کی مقداد دو ارب ٹن بتائی گئی ہے ٖ برطانیہ میں سبزیاں دیکھنے میں خوبصورت نہیں ہوتیں ٖ تیس فیصد سبزیاں اگائی ہی نہیں جاتیں ٖ 2050 تک غذائی اشیا کی پیداوار کےلئے عالمی سطح پر پانی کی طلب دس سے 13 ٹریلین کیوبک میٹر تک پہنچ سکتی ہے۔انسٹیٹیوٹ آف مکینیکل انجینئرنگ کے مطابق غذائی اشیا ضائع ہونے کی اہم وجوہات میں اس کو محفوظ رکھنے کے ناقص انتظامات، ایکسپائری کی تاریخ کا سختی سے اطلاق اور صارفین کی سستی شامل ہیں۔اس رپورٹ میں کہا گیا کہ برطانیہ میں تیس فیصد سبزیاں اس لیے اگائی نہیں جاتیں کیونکہ وہ سبزیاں دیکھنے میں خوبصورت نہیں ہوتی ہیں۔انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر فاکس نے کہاکہ غذائی اشیا کی جو مقدار ضائع ہوتی ہے وہ حImageیرت انگیز ہے رپورٹ کے مطابق ہر سال پوری دنیا میں جو چار بلین ٹن غذائی اشیا پیدا کی جاتی ہے اس کا تیس سے پچاس فی صد حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ امریکہ اور برطانیہ میں لوگ جو کھانا خریدتے ہیں اس کا نصف حصہ پھینک دیتے ہیں۔ڈاکٹر فاکس کے مطابق غدائی اشیا کی جو مقدار پوری دنیا میں ضائع کردی جاتی ہے وہ حیرت انگیز ہے جو کھانا ضائع کردیا جاتا ہے اسے دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی یا پھر بھوک سے مر رہے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا کہ جو کھانا کبھی کھایا ہی نہیں گیا اس کو پیدا کرنے کےلئے پانچ سو پچاس بلین کیوبک میٹر پانی کا استعمال ہوا تھا۔ادارے کا کہنا ہے کہ دو ہزار پچاس تک غذائی اشیا کی پیداوار کے لیے عالمی سطح پر پانی کی طلب دس سے تیرہ ٹریلین کیوبک میٹر تک پہنچ سکتی ہے۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جس طرح سے پوری دنیا کی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے اس کے تحت 2075 تک اضافی تین بلین افراد کا پیٹ بھرنے کی ضرورت ہوگی۔ڈاکٹر فاکس کا کہنا ہے پوری دنیا میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور مطالبات سے زمین، پانی اور توانائی کے ذرائع پر جو دبا پڑ رہا ہے اس کے پیش نظر انجینئروں کو چاہیے کہ وہ فصلوں کی پیداوار، انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ اور کھانے کو محفوظ رکھنے کے بہتر طریقہ کار بنائیں۔اس کے علاوہ ان کا بھی یہ کہنا تھا کہ ایسا کرنے کے لیے حکومتیں، ترقیاتی ادارے اور اقوام متحدہ جیسی تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کو غذائی اشیا ضائع کرنے کےلئے تاکید کریں۔

شتر مرغ انقلاب


قارئین آپ نے شتر مرغ کی کہانی تو سنی ہو گی جس میں کسی نے شتر مرغ سے پوچھا کہ تم اڑتے کیوں نہیں ہو؟ تو وہ بولا میں تو اونٹ ہوں، اونٹ بھی کبھی اڑتے ہیں، جب اِس سے کہا گیا تم اونٹ ہو تو بوجھ اٹھایا کرو، تو شتر مرغ ہنس کر بولا جا ٝ۔۔کہیں پرندے بھی بوجھ اُٹھاتے ہیں۔ آج ہمارے ملک کے سیاستدانوں کا حال بھی اِسی شتر مرغ جیسا ہی ہو گیا ہے، ہر ایک اپنی ذمہ داریوں اور کرتوتوںں کو ماننے کی بجائے دوسروں کے سر تھوپنے کی کوشش میں لگا ہے، دوسروں پر الزام لگاتے ذرا بھی نہیں ہچکچاتا، یہاں بڑے برے سیاسی شتر مرغ پائے جاتے ہیں، جِن کا ماضی بھی آلودہ، جِن کا حال بھی ناکام اور مستقبل بھی مشکوک نظر آتا ہے۔ پاکستان میں ایسے ایسے سیاسی شتر مرغ پائے جاتے ہیں جن کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ اب ایم کیو ایم کو ہی دیکھئے کہ اُس نے جاگیرداروں کی حکومت میں پانچ سال گزار دیئے، جب ووٹ لینے کا وقت آیا ہے تو اِ اپنی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے اور ساتھ ہی مشرف کو دس بار وردی میں منتخب کرنے کا اعلان کرنے والی ق لیگ بھی اِس میدان میں اُتر آئی ہے۔ یہ عوام کو بیوقوف بنانا نہیں تو اور کیا ہے۔ متحدہ اور ق لیگ  والے دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم حکومت میں بھی رہیں گے اور مارچ بھی کریں گے، اس کا مطلب تو صاف دکھائی دے رہا کہ یہ لانگ مارچ کسی تیسری قوت کے خلاف ہے۔ یہ طاقت کا اظہار عدلیہ کے خلاف بھی ہو سکتا ہے جِس نے ایم کیو ایم کے قائد کو طلب کر رکھا ہے، الطاف بھائی آج بھی اُسی جاگیر دارانہ نظام کے خلاف بڑھکیں مار رہے ہیں جس کی گود میں انہوں نے 25 سال گزارے ہیں۔ سلطان راہی اور منا بھائی کے انداز میں للکارتے ہوئے اصلی شیر ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ میڈیا اور علمائ کرام کو گالیاں دینا بھی ان کے خطاب کا حصہ بن چکا ہے، یہ وہی الطاف حسین ہیں جن کے نزدیک جاگیر داربڑے بڑے این آر او زدہ بدعنوان سیاستدان نہیں بلکہ عوام ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک عوام زندہ انسانوں کا نام نہیں بلکہ ایک سیاسی تصور، سیاسی اصطلاح ہیں، عوام جاگیرداروں، وڈیروں کے ٴٴہاریٴٴ ہیں، صنعت کاروں کے ٴٴمزدورٴٴ اور ان کے ٴٴکارکنٴٴ ہیں۔ ان کے نزدیک نعرے لگانے والے، دریاں بچھانے والے اور پوسٹر لگانے والے ہیں، عوام ووٹر ہیں، عوام ٹےکس دہندگان ہیں، عوام ان کا جمہوری ٴٴنقشہٴٴ ہیں، سیاسی  تعین اور تقریر کی لذت ہیں ان کے اس فلسفہ اور تصور کے مطابق عوام ہر جگہ موجود ہے، موجود نہیں تو اپنے حق کی وصولی کے لیے موجود نہیں، تاریخ بتاتی ہے، کتابوں کے، اخبارات کے صفحات سچ اگلتے ہیں کہ ایم کیو ایم وہ جماعت ہے جو اپنے مفادات کی خاطر زندہ انسانوں کو بوری بند لاشوں میں تبدیل کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی، جب سے کراچی میں ایم کیو ایم وجود میں آئی ہے روشنیوں کا شہر امن کو ترس گیا ہے۔ 11 جون1978ئ کو فوجی چھتری کے سائے تلے آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (APMSO) بنانے والا الطاف حسین آج پاکستان کا ڈان بن چکا ہے، جب سے یہ تنظیم وجود میں آئی کراچی کا امن تباہ ہونا شروع ہو گیا، تعلیمی اداروں میں قلم کی بجائے بندوق کتاب کے بجائے خنجر طلبائ کے ہاتھوں کی زینت بنے ،1984ئ میں مہاجر قومی موومنٹ کا باقاعدہ اعلان ہوا، الطاف حسین، الطاف بھائی بن گیا۔ 1991ئ میں نازیہ حسن سکینڈل سامنے آیا جس سے الطاف بھائی کی حسن پرستی عیاں ہے۔ 21 دسمبر کو الطاف بھائی پر حملہ ہوا، جو ان کے لیے غیر متوقع تھا اس حملے اور کراچی میں فوجی آپریشن کے بعد ٴٴاصلی شیرٴٴ پاکستان سے گئے اور ابھی تک واپس نہیں آئے ہیں، لیکن سچائی اور حقیقت سے کب تک بھاگتے رہیں گے۔ الطاف بھائی کی جماعت نے سوائے بینظیر کے ہر حکومت کا ساتھ دیا، ہر جاگیردار کے قددموں میںبیٹھے، آج کل بھی جاگیرداری کو  انجوائے کر رہے ہیں۔ یہی حال گجرات کے چودھریوں کا ہے پہلے نوازشریف کے ساتھ رہے، پھر جب فوجی دور آیا تو ان کے ساتھ مل گئے اور اب پیپلزپارٹی کی حکومت میں ایک ٹکٹ پر دو شو دیکھ رہے ہیں۔ رہی بات ڈاکٹر طاہر القادری کی تو وہ جبہ و دستار میں ایسی شخصیت ہیں جن سے ایمان بچانا مشکل ہے تو ریاست کیسے بچ پائے گی۔ کینیڈا کے برف زاروں سے تشریف لانے والے شیخ الاسلام بلٹ پروف کیبن اور کمانڈوز کے حصارمےںانقلاب کی باتیں زیب نہیں دیتیں، شیخ صاحب میڈیا کے بل بوتے اور عالمانہ بانکپن کی بنیاد پر قوم کے ہیرو بننا چاہتے ہیں، اتفاق مسجد سے منہاج القرآن کی بنیاد ڈالنے والے شیخ صاحب کی انتہا نائن زیرو میں ہو گی کسی نے نہیں سوچا تھا، شیخ صاحب کی یہ بغل گیری ٴٴارینج میرجٴٴ ہے یا ٴٴلوٴٴ کچھ  نہیں کہا جا سکتا، انتخابی سیاست سے دلبرداشتہ ہو کر کنارہ کش ہونے والے شیخ صاحب کا دوبارہ ٴٴانٴٴ ہونا بھی سوالیہ نشان ہے۔ اب تو نگران سیٹ اپ میں شامل ہونے کی بھی خواہش کا اظہار کر دیا ہے، شاید ایم کیو ایم اور ق لیگ بھی ہوا کا رخ دیکھ کر شیخ صاحب کو نگران وزیراعظم بنانا چاہتے ہیں تاکہ آئندہ بھی حکومت میں آنے کے چانسز کو برقرار رکھا جائے 14 جنوری کو انقلاب آتا ہے یا نہیں یہ بات کنفرم نہیں لیکن یہ بات پکی ہے کہ ایم کیو ایم کی اندر کی غلاظت باہر آ گئی ہے جس کا واضح ثبوت الطاف کی حالیہ تقریر ہے جس میں علمائ میڈیا اور عدلیہ کو دھمکیاں اور گالیاں بھی دی گئیں۔ عوام کی قسمت میں شائد اچھے دن ہوں نہ ہوں ،سےاستدانوں کا شتر مرغ انقلاب ضرور آ چکا ہے۔
ImageImage

مقبرہ ملا محمد صالح کمبوہ


تحریر محسن نسیم 
    فارسی ادب کی انتہائی اہم کتاب عمل صالح جو کہ عہد شاہجہانی اور مغل خاندان اور ہندوستان کی کئی اہم معلومات سموئے ہوئے ہے اس کتاب کے خالق اور مصنف ملا محمد صالح کمبوہ لاہور کی ایک معروف سڑک ایمپریس روڈ پر موجود ایک مقبرے میں مدفون ہیں، اس مقبرے کی تاریخ پر تحریر کرنے سے قبل ہم ایک نظر ان کی زندگی پر ڈالتے ہیں۔ ملا محمد صالح کمبوہ بادشاہ شاہجہان کے عہد کی انتہائی عالم فاضل شخصیات میں شمار کیے جاتے ہیں، آج عہد جدید میں بھی ان کی تحریر کردہ کتب فارسی ادب ہی اعلیٰ مقام رکھتی ہیں۔ ملا محمد صالح نے عمل صالح تحریر کی جو کہ اردو ادب میں شاہ جہان نامہ سے معروف ہے۔ فارسی ادب کے علاوہ اس کتاب کا ہندوستان کی تاریخ میں بھی اہم مقام ہے۔ اس کتاب کے فارسی سے کئی زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔  کتاب میں مغل دربار شاہجہان کے بچپن سے لیکر ان کی وفات تک کے واقعات قلمبند ہیں۔ محمد صالح کمبوہ اپنے علم اور لیاقت کے باعث  لاہور کے دیوان کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ انہوں نے موچی دروازے کے اندر ایک  بے مثال مسجد تعمیر کروائی جو کہ لاہور میں کاشی کاری کے حوالے سے وزیر خان مسجد کے بعد دوسری بڑی مسجد مانی جاتی تھی اس مسجد کی عمارت کا کچھ حصہ آج بھی موچی دروززے کے اندر دیکھاجاسکتا ہے، مسجد کے دروازے پر تعمیر کے کئی سال بعد بھی یہ شعر کئی سالوں تک دکھائی دیتارہا۔
بانی ای مسجد زیبا نگار
بندہ آل محمد صالح است
        ملاصالح ایک بہترین خطاط بھی تھے۔ انہوں نے اپنے عہد کی کچھ عمارتوں پر خطاطی بھی کی، وفات کے بعد ان کو بھی اسے  مقبرے میں دفن کیاگیا جو انہوں نے شیخ عنایت اللہ کیلئے تعمیر کروایا تھا، اس مقبرے میں آپ کے کچھ رشتہ داروں کی قبور بھی ہیں، آپ کی تاریخ وفات کے بارے میں مورخین مختلف آرائ رکھتے ہیں، نور احمد چشتی نے 1075ھ کنیا لال ہندی نے 1080ھ، سید محمد لطیف نے 1085ھ اور نقوش لاہور میں 1120ھ کے بعد کا عہد لکھا ہے۔
        اب ہم مقبرے کا حال بتاتے ہیں یہ عمارت تقسیم سے پہلے گنبد کمبوہاں کے نام سے جانی جاتی تھی بعض مورخین نے آپ کے مقبرے کو حضرت علی رنگریزۯ کی خانقاہ کے ساتھ تحریر کیا ہے ،دور حاضر میں یہ دونوں عمارتیں ایمپریس روڈ پرواقع میں شاہ جہان نامہ کا اردو ترجمہ میں ممتاز لیاقت نے لکھا ہے کہ ملا محمد صالح اپنی وفات نے کے بعد اپنے آبائی مقبرہ شیخ عنایت اللہ کے پہلو میں دفن ہوئے، یہ مقبرہ ایمپریس روڈ ریلوے روڈ کے دفاتر کے ساتھ متصل ہے اور گنبد کمبوہاں کہلاتا ہے۔  سنگ سرخ کی عمارت ہشت پہلو ہے سکھ دور میں مقبرے کو شدید نقصان پہنچا، قبریں مسمار کر کے سرخ سنگ  مرمر اتارلیاگیا اور بارود خانے میں بدل دیاگیا، انگریز عہد میں یہ کوٹھی میں بدل دیاگیا اور سیمور صاحب کی کوٹھی کہلاتا رہا جس کے گنبد باورچی خانہ اور بگھی خانے کے طور پر استعمال ہوتے رہے پھر دو اور کمرے بنا کر گرجے کے طور پر استعمال کیاجاتار ہا اور سینٹ اینڈریو پارش چرچ کہلاتا رہا۔ تاریخ کی دیگر کتب کےساتھ ساتھ پاکستان ریلوے کی جانب شائع کیے گئے کیلنڈر میں بھی اس مقبرے کی تصویر دی گئی تو اس کی تاریخ بیان کرتے ہوئے اس کو ریلوے ہیڈ کوارٹر کےساتھ ہی بنایا گیا ہے۔
        ان تمام حوالوں کو پیش کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ عہد حاضر میں اس مقبرے کی عمارت میں ایک سکول چلایا جارہا ہے اور اس کا انتظام عیسائی برادری کے پاس ہے، اس مقبرے تک رسائی کیلئے ریلوے سٹیشن سے حاجی کیمپ کی طرف جائےیں تو بائیں طرف چرچ کی عمارت ہے اس تمام احاطے میں تین اونچی شان والے گنبد دکھائی دیتے ہیں، مغل عہد کی اس عمارت کی مشاہبت انارکلی کے مقبرے سے ملتی ہے عام بندے کی اس مقبرے تک رسائی نہیں کیونکہ سکول انتظامیہ نے حال بند کررکھا ہے جبکہ سکول و چرچ انتظامیہ کاکہناہے کہ انہوں نے عدالت سے یہ فیصلہ لے رکھا ہے کہ ملا محمد صالح کا مقبرہ دلی میں ہے اس مقبرے کا ان سے کوئی تعلق نہیں اگر اس کی بات مان بھی لی جائے تو تب بھی یہ عمارت انگریز کی تعمیر کی گئی عمارتوں میں سے نہیں ہے، سکول انتظامیہ نے مقبرے کے گنبد کے نیچے آفس اور جماعتوں کے کمرے بنائے ہوئے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت اس بات سے ناواقف ہے کہ ہندوستان کی دو عظیم شخصیات کا جائے مدفن اسی عظیم گنبد میں ہے، لوگ چرچ سمجھ کر گزر جاتے ہیں، تقسیم کے بعد بھی کسی حکومت نے یہ کوشش نہیں کی کہ اس تاریخی مقبرے اور ورثے کو عام لوگوں کی رسائی میں لایا جاسکے اور نہ ہی کبھی محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے کوئی کوشش منظر عام پر آئی کہ اس مقبرے کو دوبارہ پہلے والی حیثیت میں بحال کیاجائے اور اپنے ثقافتی ورثے کو گمنامی سے بچایاجائے۔