میرے عزیزو۔۔۔اپنائیت کی آواز خاموش ہو گئی


Image
          جنوری رات 2 بجے اچانک فون کی گھنٹے بجی ، ایک افسوسناک اور غم ناک خبر نے مجھے سکتے میں ڈال دیا۔ خبر دینے والا میرا دوست قاضی حسین احمد صاحب کی دنیا سے رخصتی کی خبر دے رہا تھا۔ میری زبان سے اِنا للّٰہ و اِنّا اِلیہ راجِعون  نکل رہاتھا اور آنکھوں کے بند ٹوٹ چکے تھے، ساری رات اضطراب اور قاضی صاحب کی یادوں میں گزری، مجھے افسوس ہے کہ میں مرد مجاہد، اتحادامت کے داعی کے نماز جنازہ میں شریک نہ ہو سکا۔
ہم بچپن سے ایک ہی نعرہ سنتے آ رہے تھے کہ ٴٴظالموٝقاصی آ رہا ہےٴٴ جب بھی جماعت اسلامی کا ذکر ہوتا تو کہنے والے کی زبان پر خود بخود  قاضی صاحب کا نام آجاتا، قاضی صاحب جماعت اسلامی کی پہچان تھے،ان کی صاف گوئی اور بلند عزم نے مجھے بھی متاثر کیا ،جہاد سے محبت نے نرم گرم بستر سے  معسکر مےںپہنچا دیا، واپس لوٹا تو اسلامی جمعیت طلبہ کا حصہ بن گیا۔ میری قاضی صاحب سے واقفیت تب ہوئی جب جہاد کشمیر عروج پر تھا، ہم چونکہ دیہاتی علاقے میں رہنے والے تھے تو وہاں خبر کا ذریعہ صرف اخبار ہی تھا وہ بھی کبھی پہنچتا اور کبھی نہ پہنچتا، جب آپ سے منسوب کوئی خبر پڑھتا تو دل باغ باغ ہو جاتا، میری قاضی صاحب سے دو ملاقاتیں ہیں وہی میری زندگی کا اثاثہ ہیں، پہلی مرتبہ 2003ئ پنجاب یونیورسٹی کے اجتماع عام مےںملا، دوسری تفصیلی ملاقات اےک تقرےب مےں ہوئی، تقریب شروع ہونے میں ابھی دیر تھی اور قاضی صاحب وقت پر پہنچ چکے تھے، میں نے موقع پاتے ہی اُن سے ملاقات کر ڈالی، اُن کو اپنا تعارف کروایا اُن سے انٹرویو کے لیے ٹائم مانگا تو انہوں نے ساتھ بٹھا لیا، پہلے نوجوانوں کی بیداری اور اُن کے کردار  کے بارے میں بات کرتے رہے اور اُس کے بعد پاکستان مےںامریکی مداخلت پر سیر حاصل گفتگو کی،قاضی صاحب پاکستان مےں امرےکی مداخلت کے سخت مخالف تھے،دہشت گردی کےخلاف جنگ کے حامی نہےں تھے، میں نے اپنا کالم دکھایا تو انہوں نے وہیںبیٹھے بیٹھے پرھ ڈالا اور اس پر مجھے خوب داد بھی دی ،مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنے عظیم شخص کے ساتھ بیٹھا ہوں، اُن کی خوبصورت آواز آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے۔ جب بھی کبھی قاضی صاحب کسی جلسہ سے خطاب کرتے تو شرکائ کو میرے عزیزوٝ کہہ کر پکارتے، مجھے یاد ہے کہ انہوں نے مینار پاکستان گرائونڈ میں ہونے والے اجتماع عام کے اختتامی خطاب میں کہا تھا کہ شاید زندگی رہے نہ رہے انشائ اللہ جنت میں ملاقات ہو گی، وہ واقعی جنت کے مسافر تھے،قاضی صاحب کی وفات سے جہاں کروڑوں تحریکی کارکنوں کے سر پر آپ کا ساےہ نہےں رہا، وہاں میں بھی ایک شفےق قائد سے محروم ہو گیا ہوں۔ دنیا ایک تماشہ گاہ ہے، یہاں سب اپنی اپنی بولی بولتے ہیں اور اڑ جاتے ہیں اور کبھی لوٹ کر نہیں آتے، میں نے بھی یہی سمجھ کر یہ صدمہ برداشت کر لیا کوئی مرنے کے بعد زندہ رہنا چاہے تو وہ زندگی میں مرنے کی تیاری کرتا رہے، ایسی موت کا طلبگار رہے جس پر لاکھوں زندگیاں نثار ہوں۔ قاضی صاحب کے انتقال سے  اپنائےت کی آواز خاموش ہو گئی جو پھر کبھی سننے میں نصیب ہو۔

تحرےرٜاظہر تھراج
6 جنوری رات 2 بجے اچانک فون کی گھنٹے بجی ، ایک افسوسناک اور غم ناک خبر نے مجھے سکتے میں ڈال دیا۔ خبر دینے والا میرا دوست قاضی حسین احمد صاحب کی دنیا سے رخصتی کی خبر دے رہا تھا۔ میری زبان سے اِنا للّٰہ و اِنّا اِلیہ راجِعون  نکل رہاتھا اور آنکھوں کے بند ٹوٹ چکے تھے، ساری رات اضطراب اور قاضی صاحب کی یادوں میں گزری، مجھے افسوس ہے کہ میں مرد مجاہد، اتحادامت کے داعی کے نماز جنازہ میں شریک نہ ہو سکا۔
ہم بچپن سے ایک ہی نعرہ سنتے آ رہے تھے کہ ٴٴظالموٝقاصی آ رہا ہےٴٴ جب بھی جماعت اسلامی کا ذکر ہوتا تو کہنے والے کی زبان پر خود بخود  قاضی صاحب کا نام آجاتا، قاضی صاحب جماعت اسلامی کی پہچان تھے،ان کی صاف گوئی اور بلند عزم نے مجھے بھی متاثر کیا ،جہاد سے محبت نے نرم گرم بستر سے  معسکر مےںپہنچا دیا، واپس لوٹا تو اسلامی جمعیت طلبہ کا حصہ بن گیا۔ میری قاضی صاحب سے واقفیت تب ہوئی جب جہاد کشمیر عروج پر تھا، ہم چونکہ دیہاتی علاقے میں رہنے والے تھے تو وہاں خبر کا ذریعہ صرف اخبار ہی تھا وہ بھی کبھی پہنچتا اور کبھی نہ پہنچتا، جب آپ سے منسوب کوئی خبر پڑھتا تو دل باغ باغ ہو جاتا، میری قاضی صاحب سے دو ملاقاتیں ہیں وہی میری زندگی کا اثاثہ ہیں، پہلی مرتبہ 2003ئ پنجاب یونیورسٹی کے اجتماع عام مےںملا، دوسری تفصیلی ملاقات اےک تقرےب مےں ہوئی، تقریب شروع ہونے میں ابھی دیر تھی اور قاضی صاحب وقت پر پہنچ چکے تھے، میں نے موقع پاتے ہی اُن سے ملاقات کر ڈالی، اُن کو اپنا تعارف کروایا اُن سے انٹرویو کے لیے ٹائم مانگا تو انہوں نے ساتھ بٹھا لیا، پہلے نوجوانوں کی بیداری اور اُن کے کردار  کے بارے میں بات کرتے رہے اور اُس کے بعد پاکستان مےںامریکی مداخلت پر سیر حاصل گفتگو کی،قاضی صاحب پاکستان مےں امرےکی مداخلت کے سخت مخالف تھے،دہشت گردی کےخلاف جنگ کے حامی نہےں تھے، میں نے اپنا کالم دکھایا تو انہوں نے وہیںبیٹھے بیٹھے پرھ ڈالا اور اس پر مجھے خوب داد بھی دی ،مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنے عظیم شخص کے ساتھ بیٹھا ہوں، اُن کی خوبصورت آواز آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے۔ جب بھی کبھی قاضی صاحب کسی جلسہ سے خطاب کرتے تو شرکائ کو میرے عزیزوٝ کہہ کر پکارتے، مجھے یاد ہے کہ انہوں نے مینار پاکستان گرائونڈ میں ہونے والے اجتماع عام کے اختتامی خطاب میں کہا تھا کہ شاید زندگی رہے نہ رہے انشائ اللہ جنت میں ملاقات ہو گی، وہ واقعی جنت کے مسافر تھے،قاضی صاحب کی وفات سے جہاں کروڑوں تحریکی کارکنوں کے سر پر آپ کا ساےہ نہےں رہا، وہاں میں بھی ایک شفےق قائد سے محروم ہو گیا ہوں۔ دنیا ایک تماشہ گاہ ہے، یہاں سب اپنی اپنی بولی بولتے ہیں اور اڑ جاتے ہیں اور کبھی لوٹ کر نہیں آتے، میں نے بھی یہی سمجھ کر یہ صدمہ برداشت کر لیا کوئی مرنے کے بعد زندہ رہنا چاہے تو وہ زندگی میں مرنے کی تیاری کرتا رہے، ایسی موت کا طلبگار رہے جس پر لاکھوں زندگیاں نثار ہوں۔ قاضی صاحب کے انتقال سے  اپنائےت کی آواز خاموش ہو گئی جو پھر کبھی سننے میں نصیب ہو۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s