دوسروں کی پگڑےاں اچھالنے والے زےر عتاب


Image
تحرےرٜاظہر تھراج
جیو ٹی وی کی ایک سابقہ اینکر نادیہ خان کا مارننگ شو انتہائی مقبولیت اختیار کرگیا۔ وہ اپنی مقبولیت کے نشے میں مبتلا ہو کر ہر ایک کو رگیدنے لگ گئی اور اسی خمار میں دبئی میں اپنے پروگرام کی گیسٹ کے انڈین شوہر کو دھمکا کر اپنا پروگرام بند کروا بیٹھی۔ اس کے بعد وہ اب تک دوبارہ پہلے والا سٹیٹس بحال نہ کرواسکی،ماضی میں مایا خان سما ٹی وی سے اٹھی اور اپنے بولڈ پروگرام سے مقبول ہوگئی۔ پھر اسی نشے میں اس نے ایک پروگرام کیا جس میں لائیو نوجوان جوڑوں کو پارک میں دکھا کر بدنام کردیا۔ سوشل میڈیا پر مہم چلی اور وہ معافی مانگ کر ایک سال تک غائب ہو گئی۔ اب بیچاری کسی چینل پر بیٹھی اپنے زخم چاٹ رہی ھے،مبشر لقمان کی شہرت ایک بلیک میلر کی تھی اور دنیا ٹی وی میں بیٹھ کر اس نے اپنی صلاحیتوں کو خوب استعمال کیا۔ وہ بہت تیزی سے آگے جارھا تھا کہ وہ بھی قدرت کے انتقام کا شکار ہوگیا۔ اس نے بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض سے پیسے لے کر جیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف ایک پیڈ پروگرام کیاجس کے آف لائن کلپس سوشل میڈیا پر آگئے۔ مبشر لقمان بھی ذلیل و خوار ہو کر دنیا ٹی وی سے نکل گیا اور کئی مہنے غائب رھا۔ آجکل وہ اے آر وائی کا بیڑہ غرق کرنے میں مصروف ھے،ڈاکٹر عامر لیاقت نے رمضان فروشی کا نیا آئیڈیا نکالا اور راتوں رات اس کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوگیا۔ وہ بہت تیزی سے نوٹ چھاپنے والی مشین بن گیا اور پھر ایک دن رمضان میں ہی اس کی بھی آف لائن کلپس مارکیٹ میں آگئیں جن میں وہ بے ہودہ زبان کا استعمال کرتا پایا گیا۔ آج تک وہ اپنے اوپر لگنے والا داغ نہ مٹا سکا،نادیہ خان کے بعد شائستہ واحدی جیو پر لائی گئی اور وہ چھچھورے پن کی نئی حدیں کراس کربیٹھی۔ جوڑوں کی شادیاں کروانے کے نام پر بے ہنگم پروگرام جس میں ڈانس، گانا بجانا اور ایسی ہی دوسری لغویات تھیں، اسی نے شروع کیا اور پھر تمام چینلز نے کاپی کرنا شروع کردیا،بالآخر شائستہ واحدی قدرت کے انتقام کا شکار ہوکر ایسی غلطی کربیٹھی کہ اب اس کا دوبارہ منظر پر آنا مشکل ہوگیا،مقصد کہنے کا یہ ھے کہ اللہ ہر ایک کی رسی دراز کرتا ھے لیکن ایک خاص حد تک۔ پھر جب رسی کھنچتی ھے تو چاھے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ھو، وہ دھڑام سے نیچے ضرور گرتا ھے،جیو ہو، اے آروائی ہو یا دوسرے چینلز۔ ان سب نے قوم کے اخلاق تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بجائے اس کے کہ تعمیری پروگرام کرتے، انہوں نے فحاشی اور بلیک میلنگ کا سہارا لینا شروع کردیا۔ ان سب کی رسی کھینچے جانے کا عمل شروع ہوگیا ھے۔آج جےو کا لائسنس معطل ہوا ہے تو  کل کسی اور کی باری ہوگی۔۔۔۔۔جو اپنی بارےوں کا انتظار کرےں۔

India ka naya wazeer-e-azam!!!


  Image
    

 17ستمبر 1950 کو گجرات کے مہسانہ ضلعے میں ایک غریب خاندان میںجنم لےنے والا،جس کا باپ ٹرےنوں مےں چائے بےچنے والا، ماں جس کی لوگوں کے گھروں مےں کام کرنے والی،کانگرےسی شہزادے کو شکست دے کر بھارت کا وزےراعظم بن گےا ،نرےندرمودی کی سیاسی زندگی جتنی سرخیوں میں رہی ہے، ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں لوگ اتنا ہی کم جانتے ہیں،نریندر دامودر داس مودی متنازع شخصیت کے مالک ہیں اور ان کے چاہنے والے اور انھیں ناپسند کرنے والے دونوں ہی اپنی محبت اور نفرت میں حد سے گزر جاتے ہیں،مودی کے مخالفین انھیں تفرقہ پیدا کرنے والی شخصیت گردانتے ہیں، جبکہ چاہنے والوں کے لیے ان کے کئی اوتار ہیں، کہیں وہ ہندوتوا کے پوسٹر بوائے ہیں، تو کہیں تبدیلی اور اقتصادی ترقی کی علامت، یا پھر ایک ایسے مضبوط رہنما جو ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔ان کے ایک بھائی نے ایک انٹرویو میں برطانوی وےب سائٹ کو بتایا تھا کہ انھوں نے اپنی زندگی قوم کے نام وقف کر دی ہے۔جوانی میں ہی ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس میں شمولیت اختیار کی، 70 کی دہائی سے پرچارک یا تنظیم کے مبلغ کے طور پر کام کر نا شروع کر دیا۔مودی کے بارے مےں کہا جاتا ہے کہ وہ شروع سے ہی بی جے پی کے لیڈر لال کرشن اڈوانی کی سرپرستی حاصل رہی ہے اور انھی کی مدد سے وہ سنہ 2001 میں پہلی مرتبہ گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے، مودی کے وزیر اعلٰی بننے کے چند ہی مہینوں بعد فروری 2002 میں گجرات میں ہندو مسلم فسادات ہوئے جو آج تک ان کے گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں۔ آمرانہ شخصیت کے مالک ہےں،اس کی  جھلک  مسٹر اڈوانی، سشما سوراج اور مرلی منوہر جوشی جیسے سینیئر رہنما¶ں کو کنارے لگانے سے ثابت ہو گئی ہے،  کہا جاتا ہے کہ وہ مخالفت برداشت نہیں کرتے اور اسی لیے بہت سے سیاسی تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ ایک سیکولر ملک میں سب کو ساتھ لے کر چلنا اور ملک کے جمہوری اداروں اور روایات کا احترام کرنا ہے ان کی سب سے بڑی آزمائش ہوگی۔بھارتی پارلیمان کی 543 نشستوں کے ابتدائی نتائج کے مطابق بی جے پی نے 278 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔بی جے پی کے وزیراعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی نے گجرات کے شہر وڈودرا میں جیت کے بعد عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ٴٴہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب خالص غیرکانگریسی حکومت آئی ہے،یہ انتخابات کئی طور پر اہمیت کا حامل ہے۔ ملک کے آزاد ہونے کے بعد زیادہ تر کانگریس کی حکومت رہی ہے اور اگر غیر کانگریسی حکومت آئی بھی ہے تو وہ کئی پارٹیوں کے اتحاد کی حکومت رہی ہےٴٴ۔ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار خالص طور پر غیر کانگریسی حکومت آئی ہے،وزیر اعظم بننے کے بعد مسٹر مودی کے سامنے دو بڑے چیلنج ہوں گے۔ بلندو بانگ وعدوں کو کیسے پورا کیا جائے اور مذہبی تفریق کو کیسے ختم کیا جائے۔ اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ اسے ختم کرنے کی کوشش کریں گے؟دوسری جانب ےہ دےکھنا ہے کہ وہ اپنے ہمساےوں سے کےا سلوک کرتے ہےں،پاکستانی وزےر اعظم مےاں نواز شرےف نے انہےں مبارک باد دےتے ہوئے پاکتان آنے کی دعوت دی ہے،اب دےکھنا ےہ ہے کہ مودی سرکار اس کا جواب مثبت دےتی ہے ےا منفی۔۔مےاں نواز شرےف اپنے سابقہ دور حکومت  مےں بھارتی قےادت کو بلا چکے ہےں۔اسی وجہ سے مذہبی حلقے مےاں صاحب کو بھارت نواز گردانتے ہےں۔بھارت مےں جہاں  بی جے پی کا مسلمانوں کےلےے مزاج انتہا پسندانہ ہے تو پاکستانےوں کےلئےے کےسے نرم ہوسکتا ہے؟ماہرےن کا خےال ہے کہ اگر نرےندر مودی کو حکومت چلانی ہے تومزاج بدلنا ہوگا،نہےں تو بھارت مےں اےک اور پاکستان بن جائے گا ۔

Turning point in South Asia


AImageuouth Asia two events are important.first is election in India .another is election in Afghanistan.both are important countries in region.the Nairainder modi will hold charge of new Indian government.every body know about the character of Modi.he is famous in world as a religious extremist.his previous speeches defined his next agenda.this is bad news for Pakistan.in Afghanistan,Abdullah,Abdullah is suspected as next president.he is anti Taliban and anti Pakistan.He will save Indian benefits than Pakistan.

Imrani U-Turn


Image
پاکستان کی دوسری بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے مئی 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دھرنوں کا اعلان کیا اور اسی سلسلے میں جماعت کے چیئرمین عمران خان نے کل اسلام آباد کے ڈی چوک میں چار نکاتی ایجنڈا بھی پیش کیا۔تاہم تجزیہ نگار سر کھجا رہے ہیں کہ جب پارلیمنٹ کا فورم موجود ہے، جب ایک صوبے میں حکمرانی ہے، تو دھرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ بات کل، عمران خان کے خطاب سے واضح ہونی چاہیے تھی جو نہیں ہوئی۔پی ٹی آئی کے مطالبات تو اچھے ہیں کہ الیکشن کمیشن کی از سرِ نو تشکیل ہو اور تمام جماعتیں ایک پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے قوانین پر بحث کرے۔ لیکن دوسری طرف وہ دھرنے بھی دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہی۔
گذشتہ سال کے انتخابات ایک قائم مقام حکومت کے تحت کروائے گئے۔ آزاد اور منصفانہ موحول میں ہوئے اور اگرچہ الیکشن کمیشن کے کام میں خامیاں تھیں، لیکن ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں سب کچھ ٹھیک تھا اور پنجاب میں سب کچھ خراب تھا۔ایسا ظاہر ہو رہا ہے کہ گرمیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں احتجاج کا موسم شروع ہو گیا ہے۔ حکومت پر پسِ پردہ عناصر دبا¶ ڈال رہے ہیں خاص کر کہ اس کو اگر طالبان کے ساتھ امن مذاکرات، سابق صدر پرویز مشرف کے غداری کے مقدمے اور نجی ٹی وی چینل جیو کے اینکر حامد میر پر حملے کے تناظر میں دیکھا جائے۔لوگ سوال پوچھتے رہے کہ عمران خان صاحب اچانک سے کہاں سے آگئے۔ یہ سارے عناصر چودھری شجاعت، طاہرالقادری اور عمران خان دوبارہ منظرِ عام پر آئے ہیں۔ اس کی کوئی تو وجہ ہوگی؟بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موسمِ احتجاج کا مقصد وسط مدتی انتخابات کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔نواز لیگ کہہ رہی ہے کہ جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں وہ جمہوریت اور ترقی کے خلاف ہیں۔ لیکن وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لاہور میں تحریر سکوائر بنایا تھا اور وہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف مینارِ پاکستان کے نیچے پنکھے جھل رہے تھے،پاکستان تحریکِ انصاف اس وقت کیوں احتجاج کر رہی ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ ایک سخت اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے کیونکہ عمران خان نے کئی بار پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون پر نورا کشتی کا الزام لگایا ہے،بعض ماہرین کہتے ہیں کہ عمران خان خود مسلسل توجہ کا مرکزبننا چاہتے ہیں اور اس کی تیسری وجہ پارٹی کے نوجوان کارکن ہیں جنھیں متحرک رکھنے کے لیے کوئی نہ کوئی سرگرمی تو درکار ہے

پاکستان چین دوستی


Image
پاکستان چین دوستی کو اس سال 63 سال مکمل ہو رہے ہیں،پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف حال ہی میں گوادر گئے،انہوں نے کہا ہے کہ گوادر فری پورٹ بنے اور پاکستان چین اقتصادی راہداری کے نتیجے میںگوادر دبئی، سنگاپور اور ہانگ کانگ کی طرح فری پورٹ بن سکتا ہے۔پاکستان چین اقتصادی راہداری کی بات گذشتہ کافی عرصے سے ہو رہی ہے مگر اس منصوبے کے حوالے سے موجود داخلی اور خارجی خدشات اور تحفظات اپنی جگہ ہیں اور ان سب کی موجودگی میں کیا گوادر کو سنگاپور بنانے کا خواب یا بلوچستان کی قسمت بدلنے کا خواب حقیقت بن سکے گا٘؟پاکستان چین اقتصادی راہداری (پی سی ای سی) چین کے شمال مغربی شہر کاشغر کو پاکستان کے جنوبی حصے سے ملاتی ہے، جس کے ذریعے چین کا رابطہ گلگت بلتستان سے ہو کر بلوچستان میں موجود گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ کے ذریعے بحیرہ عرب تک ہو سکتا ہے،پی سی ای سی منصوبے کا مقصد مواصلات کے علاوہ سمندری اور زمینی تجارت میں اضافہ کرنا ہے،گوادر بندرگاہ کا انتظام ان دنوں ایک چینی سرکاری کمپنی کے پاس ہے اور یہ ایرانی سرحد کے قریب واقع ہے جو آبنائے ہرمز کی جانب جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز خود تیل کی سمندر کے ذریعے نقل و حمل کا اہم راستہ ہے،یہ کوریڈور چین کو مغربی اور وسطی ایشیا سے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کی سہولت دیتا ہے اور ساتھ ہی اس سے پاکستان کے مالی حالات میں بہتری کی توقع بھی کی جا رہی ہے،پاک چین اقتصادی کوریڈور کا مقصد پاکستان کی سڑکوں، ریلوے اور پائپ لائنوں کی تعمیر نو کرنا ہے تاکہ سمندر کے ذریعے سامان کی ترسیل ہو سکے،چین پاکستان میں اس وقت 120 منصوبوں پر کام کر رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں 15 ہزار تک چینی انجینیئر اور تکنیکی ماہرین موجود ہیں،اسی کے حصے کے طور پر اقتصادی زون، صنعتی پارک، بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبے بھی شامل ہیں،چین اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعاون اس وقت 12 ارب ڈالر ہے جو چین کے دیگر ملکوں (جیسا کہ بھارت) کے ساتھ تجارتی تعلق کے مقابلے میں کم ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی توازن اس وقت چین کے حق میں ہے جو پاکستان کے ساتھ چین کی دور رس تعلقات کی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔دس ہزار پاکستانی طلبہ چین میں زیرِ تعلیم ہیں اور اس کے علاوہ ایک بڑی تعداد میں چینی پاکستانی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم ہیں، جیسے کہ اسلامک یونیورسٹی اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوجز، جہاں ایک کنفیوشس سینٹر بھی قائم ہے،پی سی ای سی منصوبے کا مقصد مواصلات کے علاوہ سمندری اور زمینی تجارت میں اضافہ کرنا ہے اور یہ پاکستان کو چینی علاقے کاشغر سے ملائے گا۔پی سی آئی کا ایک اہم مقصد پاکستانی اور چینی لوگوں کے درمیان ثقافتی تبادلہ بڑھانا ہے۔ یہ اپنی قسم کا پہلا ادارہ ہے جس نے چینی زبان کو پاکستانی تعلیمی اداروں کے نصاب میں متعارف کیا ہے۔ پی سی آئی کے مطابق ملک میں تین ہزار طالب علم چینی سیکھ رہے ہیں۔دفاعی تعاون کے علاوہ اس معاہدے کے بعد گذشتہ ایک سال کے دوران توجہ اب ثقافتی اور اقتصادی تعاون پر ہے۔رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ایک تہائی چینی پاکستان کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں جبکہ 23 فیصد بھارت کے بارے میں اور 42 فیصد امریکہ کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہیں۔ دوسری جانب 2013 میں تحقیقاتی تنظیم پیو کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق 81 فیصد پاکستانی چین کو پسند کرتے ہیں،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ فرق کس بات کی وضاحت کرتا ہے،کیا اس کی وجہ پاکستان میں سلامتی کے حوالے سے غیر پائیدار صورت حال ہو سکتی ہے، جس سے ماضی میں چینی بھی متاثر ہوچکے ہیں؟    "یاد رہے کہ چین کا پاکستان کی فوجی خود انحصاری میں نمایاں کردار رہا ہے اور 2008 سے 2013 کے درمیان آدھے سے زیادہ چینی ہتھیاروں کا وصول کنندہ پاکستان تھا،مئی 2014 میں جہاں نواز حکومت نے اپنا پہلا سال مکمل کیا ہے وہیں چین پاکستان تعلقات کو 63 سال پورے ہو رہے ہیں اور پی سی ای سی جیسے بڑے منصوبوں پر کام آگے بڑھ رہا ہے،اس حوالے سے سکیورٹی خدشات پر بھی بظاہر قابو پانے کی حکمتِ عملی نظر آتی ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خطے کے بدلتے حالات میں یہ حکمتِ عملی کس حد تک کارآمد ہو گی اور پاکستان جہاں اپنے داخلی سلامتی کے خطرات سے دوچار ہے کیا وہ ایک دوست ملک کے مفادات کی حفاظت کر پائے گا؟