Kashmir Is Our..!!


Kashmir Is Our..!!.

Advertisements

Kashmir Is Our..!!


2kashmir1

Pakistan Prime Minister Nawaz Sharif on Saturday raked up the Kashmir issue at the UN General Assembly,here and blamed India for "another missed opportunity” to address outstanding issues by cancelling the Foreign Secretary-level talks. Asserting that a "veil” cannot be drawn over the "core” issue of Kashmir, he said Pakistan is ready to work for resolution of this problem through negotiations. "Our support and advocacy of the right to self- determination of the people of Jammu and Kashmir is our historic commitment and a duty, as a party to the Kashmir dispute,” he said while addressing the annual UN General Assembly session. Needling India, Sharif said that more than six decades ago, the UN had passed resolutions to hold a plebiscite in Jammu and Kashmir. "The people of Jammu and Kashmir are still waiting for the fulfillment of that promise,”Many generations of Kashmiris have lived their lives under occupation, accompanied by violence and abuse of their fundamental rights. Kashmiri women, in particular, have undergone immense suffering and humiliation,” he said. For decades, attempts have been made, both under UN auspices and bilaterally in the spirit of the Lahore Declaration, to resolve this dispute, he said.
"The core issue of Jammu and Kashmir has to be resolved. This is the responsibility of the international community. We cannot draw a veil on the issue of Kashmir, until it is addressed in accordance with the wishes of the people of Jammu and Kashmir,” Sharif told the gathering. India had called off the Foreign Secretary-level talks in August after Pakistan High Commissioner Abdul Basit met Kashmiri Hurriyat leaders in New Delhi, ignoring India’s warning not to meet the separatist leaders. "Pakistan is convinced that we must remain engaged in the dialogue process for settling disputes and building economic and trade relations. Let us not ignore the dividends of peace.” Both India and Pakistan have separately stated that there was no planned meeting of Sharif and Prime Minister Narendra Modi on the margins of the UN session. Sharif, however, gave enough indications that Pakistan was not averse to resumption of the dialogue process with India.
I think,this was a real presentation of kashmir conflict presented by real and brave leader.Obviously,this is a conscious effort for peace in region.I think,the united nation having dual policy about Muslim world.This dual face of UNO is harmful for international peace.The quate of time is to resolve kashmir issue.The kashmirie’s can’t efford more blood for ”indian bloody game”.Everyone know,Kashmir is not a part of India.Kashmiries are Pakistani,Kashmir is integral part of Pakistan.Kashmir is our,we have Right to get by force,by negoition and any cost.

3

Mein Baghi Hon…!!!


baghi

میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
ان تختوں سے ، ان تاجوں سے
جو ظلم کی کوکھ سے جنتے ہیں
انسانی خون سے پلتے ہیں
جو نفرت کی بنیادیں ہیں
اور خونی کھیت کی کھاتے ہیں
میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
جو چاہے مجھ پر ظلم کرو
جن کے ہونٹ کی جنبش سے
وہ جن کی آنکھ کی لرزش سے
قانون بدلتے رہتے ہیں
اور مجرم پلتے رہتے ہیں۔ ۔ ۔
اُن چوروں کے سرداروں سے
انصاف کے پہرے داروں سے
میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
جو قوم کے غم میں روتے ہیں
اور قوم کی دولت دھوتے ہیں
وہ محلوں میں جو رہتے ہیں
اور بات غریب کی کہتے ہیں
اُن دھوکے باز لٹیروں سے
سرداروں اور وڈیروں سے
میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
جو عورت کو نچواتے ہیں
بازار کی جنس بناتے ہیں
پھر اس کی عصمت کےغم میں
تحریکیں بھی چلواتے ہیں
اُن ظالم اور بدکاروں سے
بازار کے اُن معماروں سے
میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
جو مسلک کے بیوپاری ہے
وہ سب سے بڑی بیماری ہے
وہ جن کے سوا سب کافر ہے
جو دین کا حرف آخر ہے
اُن جھوٹے اور مکاروں سے
مزہب کے ٹھیکیداروں سے
میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
جہاں سانسوں پر تعذیریں ہیں
جہاں بگڑی ہوئی تقدیریں ہیں
ذاتوں کے گورکھ دھندے ہیں
جہاں نفرت کے یہ پھندے ہیں
سوچوں کی ایسی پستی سے
اس ظلم کی گندی بستی سے
میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
جو چاہے مجھ پر ظلم کرو ۔ ۔ ۔ ۔
میرے ہاتھ میں حق کا جھنڈا ہے
میرے سر پر ظلم کا پھندا ہے
میں مرنے سے کب ڈرتا ہوں
میں موت کی خاطر زندہ ہوں
میرے خون کا سورج چمکے گا
تو بچہ بچہ بولے گا
میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں

شیر کوکتنا بھی سدھا لیں مگر وہ کیلے ہرگز نہیں کھاتا


1948076_707738605935590_610260792_n
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
ساس کتنے ارمانوں سے سو گھروں میں تانک جھانک کے بعد اپنے کلوٹے بیٹے کے لیے چاند سی بہو ڈھونڈھ لاتی ہے اور اگلے ہی روز وہی بہو جب پہلا قدم حجلہِ عروسی سے باہر رکھتی ہے تو ساس کا سنگھاسن ڈولنے لگتا ہے اور پھر فضا میں ایک ضعیف آہ گونجتی ہے ہائے کتنا بڑا دھوکا ہوا، جسے حور پری سمجھ کے لائی وہ تو میرے حق میں ڈائن نکلی۔۔۔

پھر گھر کے برتن ہتھیاروں میں بدل جاتے ہیں اور ایک روز آخری ڈوئی کمر پر ٹوٹنے کے نتیجے میں یا تو ساس باہر ہوتی ہے یا بہو ساس کے بیٹے کو اغوا کرکے علیحدہ ہوجاتی ہے اور کچھ ہی دنوں بعد ساس اپنے چھوٹے کلوے کے لیے ایک اور چاند سی بہو کی تلاش میں نکل پڑتی ہے۔ کسی ساس نے آج تک ریسرچ نہیں کی کہ وہ ہر بار ناکام کیوں ہوتی ہے؟

کسی دیسی ساس کی طرح پاکستانی سویلینز کو بھی ہر تین برس بعد ایک چاند سے چیف آف آرمی سٹاف کی تلاش کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے۔ چار پانچ کو شارٹ لسٹ کیا جاتا ہے۔ ان کے مزاج و نفسیات، خاندانی پس منظر، سروس ریکارڈ، سیاسی و مذہبی جھکا¶، ظاہری شخصیت سلیقہ، محکمہ جاتی شہرت وغیرہ کی ٹوہ لی جاتی ہے۔ مختلف رسمی و غیر رسمی ذرائع سے چھان پھٹک کروائی جاتی ہے۔ تب جا کے رشتہ بادلِ نخواستہ فائنل ہوتا ہے۔ چند دن ہنسی خوشی گذرتے ہیں اور پھر ڈویم ڈویا شروع ہوجاتا ہے۔

طنز، سازش، روٹھم روٹھی، رونا دھونا، زہریلی مسکراہٹوں کے تبادلے، محتاط گفتگو، گڑے مردے اور آخر میں ایک اعلانیہ جنگ جس میں عموماً ہار سینہ کوب ساس کی ہی ہوتی ہے۔

ان دنوں بڑی بہو سے تھکی ہاری سیاسی ساس کو آئی ایس آئی کے اگلے سربراہ کی شکل میں چھوٹی بہو کی تلاش ہے۔ مشکل یہ ہے کہ چونکہ خاندانی انتظام میں بڑی بہو بھی دخیل ہو چکی ہے لہٰذا اسے نئے بر کی تلاش میں شریک رکھنا ساس کی مجبوری ہے ورنہ ایک اور فساد کھڑا ہوسکتا ہے۔ ساس کی کوشش ہے کہ بہو بھلے قبول صورت ہو پر کام سے کام رکھے، بات بے بات بدتمیزی پے نہ اترے اور بڑی بہو کے ساتھ مل کے ایک اور محاذ نہ کھول دے۔
بڑی بہو اس تاک میں ہے کہ جو بھی چھوٹی بھابھی آئے ایسی ہو کہ اس سے پکا دوستانہ رہے تاکہ ساس کی چکنی چپڑی میں نہ آ جائے۔

اگر اس تمثیلی گفتگو سے ہٹ کر دیکھا جائے تو تمام پاکستانی سویلین حکمرانوں کی مشکل یہ رہی ہے کہ ان کی سیاسی قوت کا محور پارٹی کے بجائے چونکہ ان کی ذات، خاندان اور نو رتنوں کا ٹولہ ہوتا ہے اور وہ پارٹی کے ادارے کو ذاتی جاگیر کے طور پر دیکھتے، برتتے ہیں۔ چنانچہ انہیں لاشعوری طور سے پکا پکا یقین ہوتا ہے کہ باقی اداروں میں بھی جو شخص ٹاپ پر ہوتا ہے وہ اپنے ادارے کا مالکِ کل ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر ان اداروں کا سربراہ کوئی ایسا شخص ہو جس سے ان کی نبھ جائے تو سارے معاملات ٹھیک رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سپریم کورٹ کو ایک ادارے کے بجائے ایک وفادار یا آزاد خیال چیف جسٹس ( موافق یا مخالف ) کی شکل میں دیکھتے ہیں۔

فوج کے بارے میں بھی ان کا عقیدہ ہے کہ اگر چیف مرضی کا ہو تو پوری فوج کو سوچ سمیت قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔ بس یہی عقیدہ آگے چل کے بدعقیدگی پیدا کرتا ہے۔

یہ درست ہے کہ سپریم کورٹ ہو کہ فوج، دونوں میں یونٹی آف کمانڈ ہوتی ہے۔ مگر سیاسی سلطانی کلچر کے برعکس چیف جسٹس ہو کہ چیف آف آرمی سٹاف دونوں اپنے اپنے اداروں میں فرسٹ امنگ ایکوئیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چیف جسٹس برادر ججز کے بنا اور چیف آف آرمی سٹاف اپنے کور کمانڈرز اور پرنسپل سٹاف افسروں کے تعاون و مشاورت کے بغیر موثر ہو ہی نہیں سکتے۔ دونوں ادارے کسی سیٹھ کی ہٹی نہیں بلکہ انہیں ایک شیئر ہولڈنگ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی طرز پر چلایا جاتا ہے اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ دنیا بھر میں بورڈ روم کی پہلی ترجیح کمپنی کے مفادات و شہرت کا فروغ و استحکام ہے۔

اس تناظر میں کسی ادارے کے لیے چاند سی وفادار بہو کی تلاش ایک بے معنی اور دل کو تسلی دینے والی مشق کے سوا کچھ نہیں۔ اداروں کو اداروں کی طرح چلنے دیا جائے اور ان سے بحیثیت ادارہ ہی معاملات رکھے جائیں۔

شیر کو آپ کتنا بھی سدھا لیں مگر وہ کیلے ہرگز نہیں کھائے گا۔گوشت ہی کھائے گا بھلے کتنا ہی لاغر ہوجائے۔۔۔۔۔

میری ہنسی مجھے لوٹا دو


صدی کا تباہ کن سیلاب کشمیر، گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کو روندتا ہوا بحیرہ عرب کی جانب بڑھ رہا ہے، لاکھوں افراد کو بے گھر کرنے والا بے رحم پانی بڑے بڑے جاگیرداروں، رئیسوں، وقت کے فرعونوںص کی طاقت کا مذاق اڑاتا چھوٹی چھوٹی ٴٴجھگیوںٴٴ والوں کو بھی ساتھ لے گیا۔ مسکراتے بچوں کی مسکراہٹیں چھین گیا، پاک دامن عورتوں کی چادر چاردیواری تار تار کر گیا، عزت اور خودداری سے جینے والے بزرگ ایک ایک نوالے کے لئے حسرت کے ساتھ آسمان کی طرف تک رہے ہیں، اخبارات دیکھتے ہیں تو حسرت و یاس کی تصویریں ملتی ہیں، ٹی وی چینلز آن کرتے ہیں تو مصیبت زدہ لوگ گلے پھاڑ پھاڑ کر بچائو، بچائو کی دہائیاں دے رہے ہوتے ہیں، یہ سیلاب 2010ئ کی طرح آنے والی بے رحم موجوں کی طرح ایک آفت ہے، ایک عذاب ہے، اللہ تعالیٰ کے احکامات سے روگردانی کی سزا ہے، ہماری سستیوں، نااہلی اور گناہوں کا ردعمل ہے۔ اللہ کا غضب ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے ان آفتوں سےٴ ہم کمزور انسان ہیں، کمزور ملک کے باشندے ہیں، ہم میں برداشت کرنے کی قوت نہیں، ہم جو سیلاب سے محفوظ رہے ہیں متاثرین کی بے بسی کا مذاق نہ اڑائیں، جعلی کیمپوں اور فوٹو سیشن سے دنیا کو دھوکہ دے سکتے ہیں، مجبور لوگوں کو نہیں اور نہ ہی  پوری کائنات کے خالق اللہ تعالیٰ کو جو لمحوں میں دنیا کو بنانے اور ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہے، اللہ ان لوگوں کو بھی دیکھ رہا ہے جو صحیح معنوں میں خدمت کا حق ادا کر رہے ہیں اور ان کو بھی دیکھ رہا ہے جو سیاست اور دکھاوا کر رہے ہیں، خادم اعلیٰ پنجاب نے خادم ہونے کا ثبوت دے دیا، تمام خطرات سے بے خطر میاں شہباز شریف پیدل چل کر واٹر بوٹس کے ذریعے پھنسے لوگوں کو نکال رہے ہیں، ہیلی کاپٹر سے لٹک کر پانی میں پھنسی رعایا کو خوراک پہنچا رہے ہیں۔ جن قوموں کے ایسے حکمران ہوتے ہیں وہ ہر طوفان کا مقابلہ کر سکتی ہے، اور جس کے جذبے الخدمت فائونڈیشن کے کارکنان جیسے ہوتے ہیں وہ ہر دکھ کو ہنسی خوشی جھیل سکتے ہیں، جن کی ہمت مولانا عبدالستار ایدھی جیسی ہوتی ہے وہ قوم کبھی نہیں مر سکتی، نوجوانوں کی طرح کام کرنے والا، ملک کے چپے چپے میں دکھی انسانیت میں خوشی بانٹنے والا عبدالستار ایدھی زندگی کی امید بانٹ رہا ہے، حافظ محمد سعید کی جماعت الدعوة جس پر حکومت کی طرف سے پابندی ہے، جسے دنیا کے فرعون ٴٴدہشتگردٴٴ کہتے ہیں، پابندی کے باوجود فلاح انسانیت فائونڈیشن پورے جذبے کے ساتھ خدمت میں پیش پیش ہے۔ خانیوال میں بابا اسحاق کا ادارہ خدمت خلق محدود وسائل کے ساتھ نیکی کے کام میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ اسی طرح کئی تنظیمیں اپنے محدود وسائل کے باوجود انسانوں میں زندگی بانٹ رہی ہیں، ایسے حالات میں عمران خان کی تحریک انصاف کو سیلاب زدگان کی خدمت کر کے دل فتح کرنے چاہئیں تھے۔ علامہ طاہر القادری کی منہاج القرآن کو اپنے ہی آبائی علاقے اٹھارہ ہزاری کی فکر کرنی چاہئے تھی، منہاج القرآن تو ویسے ہی خیراتی ادارہ ہے، لوگوں کے چندوں سے لوگوں کی امداد کے لئے بنایا گیا تھا، افسوس کہ اقتدار کی کرسی کیلئے اٹھنے والی آواز کے نیچے سیلاب زدگان کی ٴٴچیخیںٴٴ دب گئیں اللہ کی رحمت ہو ان سب لوگوں پر جو مصیبت کے وقت اپنے بھائیوں کے پاس پہنچ رہے ہیں، عالمی برادری، مخیر حضرات، صاحب استطاعت لوگ فنڈز ان لوگوں کو دے سکتے ہیں، یہ لوگ پوری دیانت کے ساتھ خرچ کر رہے ہیں، تم مت دو اپنی امداد ایسے شخص، ایسی تنظیم کو جس کے ہاتھوں سے کرپشن کی بو آتی ہو، پاک آرمی کے کیمپوں میں چندہ دو جس کے سجیلے جوان ہر آفت، ہر مصیبت میں اپنی قوم کا ساتھ دیتے ہیں جنگ کے میدانوں میں سینے پہ گولی کھاتے ہیں تو سیلاب میں تیز پانی کی لہروں سے کھیلتے ہیں، ہوائوں میں عقابوں کی طرح پرواز کرتے ہیں تو خشکی پر شیروں کی طرح دشمن پر دھاڑتے ہیں، سلام ہے اُن مائوں کو جن کی کوکھ سے ایسے سپوت جنم لیتے ہیں، سلام ہے صوبیدار عناب گل شہید کو جو باراتیوں کو بچاتے ہوئے بے رحم لہروں سے لڑتے لڑتے جام شہادت نوش کر گیا، سلام ہے جنرل راحیل شریف کی سپہ کو جو وزیرستان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہی ہے، یہ وقت بیداری کا ہے، بھائی چارے کا ہے،  اتحاد اور محبت کا ہے، دکھ اور درد میں گھری انسانیت کو خوشیاں لوٹانے کا ہے، عید قربان قریب ہے اپنے بچوں کی طرح سیلاب متاثرین اور آئی ڈی پیز کے بچوں کو نہ بھولنا ، عورتیں چار دیواری مانگ رہی ہیں، بوڑھے عزت کی روٹی کو ترس رہے ہیں، بچے اپنی مسکراہٹیں مانگ رہے ہیں، اے ہم وطنوٝ سیاست کو چھوڑو، یکطرفہ صحافت کو دفعہ کرو،  تاجروٝ نیکی کی تجارت کرو۔ اپنے بچوں کی خوشیوں کو دیکھتے ہوئے ان بچوں کی خوشیوں کو یاد رکھو جو پکار پکار کر کہہ رہے ہیں میری ہنسی مجھے لوٹا دو، میری ہنسی مجھے لوٹا دو۔
ای میلAzharthiraj@yahoo.com:
فون نمبرٜ0333-6115614 گلبرگ III، لاہور

INQLABIO! YEH KYA HA….???


10554947
نوید کا کہنا تھا کہ وہ بہاولپور کے قریب ایک گا¶ں ٹامے والی کا رہائشی ہے اور دسویں جماعت کا طالب علم ہے۔

اُس لڑکے کا کہنا تھا کہ عوامی تحریک کے مقامی عہدیدار تنویر عباسی نے اُن کے گھر والوں کو بتایا کہ اُن کا بیٹا انقلاب مارچ میں شرکت کے لیے اسلام آباد جا رہا ہے اور وہ تین روز کے بعد واپس آجائے گا۔

نوید کا کہنا تھا کہ عوامی تحریک کے مقامی عہدیداروں نے اُن کے گھر والوں کو چھ ہزار روپے بھی دیے جو اُنھوں نے بخوشی قبول کر لیے۔ اُس نے کہا کہ اس کے علاقے اور قریبی گا¶ں سے 300 کے قریب زیر تعلیم نو عمر لڑکوں کو انہی شرائط پر اسلام آباد لایا گیا ہے۔

اس لڑکے کا کہنا تھا کہ 20، 20 لڑکوں پر مشتمل بٹالین بنائی گئی ہیں اور ہر بٹالین کا انچارج روزانہ انقلاب مارچ کی انتظامیہ کو لڑکوں کی حاضری کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔

نوید کا کہنا تھا کہ جو لڑکے پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہوئے ہیں اُنھیں بھی اپنے گھروں کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ اُنھیں قریبی علاقوں میں ہی رکھا ہوا ہے۔

اس لڑکے کے بقول اُنھیں 21 روز اسلام آباد میں ہوگئے ہیں اور جب وہ اپنے عہدیداروں سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں تو اُنھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد کے بس سٹینڈ پر اُن کے بندے کھڑے ہیں جو اُنھیں گھر جانے کی بجائے ٴٴاگلے جہاںٴٴ پہنچا دیں گے اور اُن کے گھر والوں کو بتا دیں گے کہ وہ پولیس کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں مارے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے انقلاب مارچ شروع کرنے سے پہلے کہا تھا کہ جو اس مارچ سے واپس آئے تو اُسے مار دیا جائے تاہم اگلے روز اُن کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے یہ بیان مذاق میں دیا تھا۔

گوجرانوالہ کے نواحی علاقوں جہاں پر اکثر خواتین گھروں میں کام کرکے گُزارا کرتی ہیں وہاں سے بھی اطلاعات کے مطابق 100 کے قریب خواتین کو اس انقلاب مارچ میں لایا گیا ہے اور اُن کے گھر والوں کو دس ہزار روپے مہینے کے حساب سے دیے گئے ہیں۔

گوجرانوالہ کے ایک رہائشی محمد اسلم کے مطابق لوہیا والہ بائی پاس اور دیگر نواحی علاقوں میں گذشتہ ماہ لا¶ڈ سپیکر پر اعلانات ہوئے جس میں خواتین کو انقلاب مارچ میں شرکت کرنے کی دعوت دی گئی اور کہا گیا کہ جن خواتین کے پاس شیر خوار یا دس سال سے کم عمر بچے ہیں اُنھیں بھی اپنے ساتھ لائیں تو اُنھیں تین سے پانچ ہزار روپے اضافی دیے جائیں گے۔

پاکستان عوامی تحریک کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات عمر ریاض عباسی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان خبروں کی تردید کی اور کہا کہ اس وقت انقلابی دھرنے میں جتنے بھی لوگ بیٹھے ہیں وہ اپنی مرضی سے بیٹھے ہیں اور اُنھیں نہ تو مجبور کیا گیا اور نہ ہی اُنھیں کوئی پیسے دیے گئے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری کے حکم پر آٹھ سو کے قریب ایسے مظاہرین اپنے گھروں کو واپس چلے گئے ہیں جن کے امتحانات ہیں یا پھر اُنھیں نوکری اور کاروبار کے مسائل ہیں۔

انقلاب مارچ میں شریک شرکا سے متعلق وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت شرکا کی تعداد چار سے لے کر پانچ ہزار تک ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان شرکا میں ایسے افراد کی تعداد قابل ذکر ہے جو منہاج القران کے ملازم ہیں۔

ملتان میں کشتی اُلٹنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہو گئی


ddfff

ملتان کے علاقے شیر شاہ میں بارات کو لے جانے والی کشتی اُلٹنے سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 17 ہو گئی ہے، مرنے والوں میں دولہا بھی شامل ہیں،تاہم دلہن کو بچالیا گیا۔دوسری طرف حافظ آباد کے گاؤں میں دو مکانوں کی چھتیں گرنے سے سات افراد جاں بحق ہو گئے۔وزیراعظم نواز شریف نے بھی شیرشاہ میں کشتی الٹنے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔