Captain to jeet gya….!!!


ٴٴہر عمل کا اےک ردعمل ہوتا ہے،رفتار برابر لےکن سمت مختلف ہوتی ہےٴٴفزکس کی کتابوں مےں پڑھے نےوٹن کے قانون کی صحےح سمجھ تب آئی جب سات سالہ  ننھے فرشتے  عمار نے کہا ٴٴچاچو ٝکون بنائے گا نےا پاکستان۔۔۔عمران خان،عمران خان،،چار سالہ گڑےا طےبہ طوطلی آواز مےں بولیٴٴجلت و بہادری۔۔طاہر القادری،،اپنے ہی گھر مےں آئے انقلاب نے  تمام جمہوری دلےلوں کو شکست دےدی،مجھے اسملی ہال مےں بڑی بڑی تقرےرےں،بڑے بڑے دعوے کرنےوالے بونے لگنے لگے۔ےہ نعرے صرف ان دو بچوں کی زبان پر نہےں۔ قوم کا ہربچے،بوڑھے، جوان ،مرد وعورت کی زبان پر ہے،ےہ بچے کوئی ماڈرن علاقے کے رہائشی نہےں،بھاری فےسوں والے پرائےوےٹ سکولوں مےں نہےں پڑھتے،ےہ اس علاقے کے بچوں کی آواز ہے جہاں پےنے کو صاف پانی نہےں ملتا،کھانے کو اچھی خوراک نہےں،کوئی بےمار پڑ جائے تو ہسپتال لے جاتے دم توڑ جاتا ہے،ےہ بچے  جنوبی پنجاب کے اےک  اےسے سکول مےں علم کے حصول کی جدوجہد کررہے ہےں جس مےں  بےٹھنے کو ساےہ نہےں،پڑھانے کو قابل استاد نہےں،سائنس تو ہے لےبارٹری نہےں،بنےادی سہولےتےں نہےں۔
ےہ جو ردعمل   معصوم ذہنوں مےں جنم لے چکا ہے،وزےراعظم،وزےراعلٰی،کوئی سےاستدان شکست نہےں دے سکتا،بچے بھی ملک کے انتظامی سربراہ کو مجرم سمجھنے لگے ہےں، مثبت اور منفی دونوں ردعمل معاشرے کو اپنی لپےٹ مےں لے رہے ہےں،اےک جانبٴٴگلو بٹ ٴٴکے کردار نے جنم لےا ہے تو دوسری طرف ٴٴاوئےٴٴجےسی اصطلاح بھی فروغ پا رہی ہے،مےڈےا کے ذرےعے گھر گھر مےں پہنچنے والیٴٴعمرانی اقدارٴٴ نے باپ بےٹے،بہن بھائی،مےاں بےوی،دادا پوتا کی سوچوں مےںٴٴاختلافی انقلابٴٴ برپا کردےا ہے،کپتان اور علامہ کی تقرےر کا ردعمل رےڈ زون مےں بھی دےکھنے کو ملا ،سوشل مےڈےا  پہ تو اےسی اےسی انگلش،اردو،پشتو تھوڑی تھوڑی عربی مےں بھی گالےاں مل رہی ہےں،جو اب فےشن بنتی جارہی ہےں،ےہ زبانی ردعمل حکومتی حلقوں اور دھرنے بازوںدونوں طرف سے آرہا ہے،انقلابی ردعمل مےں پولےس کی پٹائی ہوئی،مےڈےا ورکرز،صحافےوں تک کی درگت بنی،ان تقارےر کے ردعمل مےں پارلےمنٹ مےں کل کے دشمن دوست بن گئے ہےں
لوگ کہتے ہےںعمران خان لیڈر نہیں سیاستدان بن گئے ہیں،نہےں نہےںٝ عمران آج بھی لےڈر ہے، آزادی مارچ ایک ماہ پورا کرنے کو ہے۔ کپتان ہر چند گھنٹے بعد جلسے اور ٹی وی کے ذریعے پوری قوم سے مخاطب ہوتے رہے۔ اس دوران عمران خان چاہتے تو قوم کی شعوری تربیت کرتے مگر انہوں نے اپنا موضوع گفتگو سیاستدانوں اور الیکشن نظام کی خامیوں ، دھاندلی الزامات اور وضاحتوں کو بنایا ۔
عمران خان کو ان کے اردگرد موجود دانش وروں نے یہ بتایا ہوگا مگر وہ مانتے کہاں ہیں کہ لیڈر جنون میں مبتلا نہیں ہوتا۔ وہ باغبان ہوتا ہے ، جسے معلوم ہوتا ہے کہ جو پودا ٟروایات اور اخلاقیاتٞمیں آج لگا رہا ہوں وہ کل کو درختٟمیرے کارکن کا کردار بن کر ٞدنیا کے سامنے ہو گا۔ عمران خان شاید 17برس کی سیاست کے دوران یہ سمجھ گئے ہیں کہ وہ اپنے کارکنان کی فکری، ذہنی اور نفسیاتی تربیت نہیں کر پائے۔اس لئے وقتی ابال کی بنیاد پرابتر سیاسی و سماجی زندگی کو بہتر کے بجائے مزید خراب کرنے کیلئے کنٹینر سیاست کے ذریعے میدان میں اتر آئے ہیں۔
آج ہمارے ٴٴکرتوتوںٴٴ پر اقبال شرمندہ ہے، قائد غمزدہ ہے۔ تحریک پاکستان کا ہر کارکن، ہر شہید، نالاں ہے، دنیا بلندیوں کو چھو رہی ہے تو ہم بستیوں کو۔
قوم بکھرچکی،فرقوں،علاقوں،زبانوں مےں۔۔۔کپتان صاحبٝ قوم کو ےکجا کےجئے،پاکستان اےک قوم کو ترستا ہے،خان صاحبٝ آپ جےت گئے۔آپ اےک اےسے طبقے کو مےدان مےں لائے ہےں جس کو کوئی نہ لا سکا،آج جنون آپ کے کے ساتھ ہے،جذبہ آپ کے پاس ہے۔بانوے کے ورلڈکپ پہ ےکجا ہونے والی قوم لوٹا دےجئے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s