نوکری ملنے کے امکاناتزیادہ روشن


indexاد اپنے انٹرویو کے دوران انٹرویو لینے والے/والوں سے سوالات کرتے ہیں، ان کو نوکری ملنے کے امکانات زیادہ روشن ہوجاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جو پہلے ہی کمپنی کے حوالے سے معلومات رکھتے ہوں اور انٹرویو کے دوران کمپنی سے متعلق اور اپنے کریئر کے حوالے سے سوالات کریں انہیں کمپنی کے ماحول میں گھل مل جانے میں آسانی ہوتی ہے۔

ان لیے کمپنی میں آگے کی راہیں بھی ہموار ہوجاتی ہیں جبکہ یہ عادت انہیں دیگر ساتھیوں سے بھی نمایاں کرتی ہے۔

ٹائم نے ایک آرٹیکل میں ایسے آٹھ سوالات بتائے ہیں جو آپ کے لیے انٹرویو کے دوران فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔
عہدے کا عنوان کافی نہیں

کسی بھی ملازمت کا عنوان اس کے تمام پہلو¶ں کو بیان نہیں کرتا۔ انٹرویو کے دوران آپ اپنے عہدے کے حوالے سے تفصیلات معلوم کریں کہ کمپنی آپ سے کیا امیدیں رکھتی ہے۔ اس سے آپ کو ملازمتوں کے درمیان انخاب کرنے میں مدد ملے گی۔
متعلقہ عہدے کی کمپنی کی گروتھ سے کیا تعلق ہے؟

اس سوال سے آپ کو اس کمپنی میں اپنی انفرادی گروتھ کے حوالے سے اندازہ ہوسکے گا۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ زیادہ فرق پیدا کرنے والے کردار میں خوش ہیں یا پھر آپ چھپے رستم کی طرح کام کرنا پسند کریں گے۔
میرے ساتھی کون ہوں گے؟

سب سے اچھے انٹرویوز میں تین سے چار افراد شامل ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے انٹرویو میں ایسا معاملہ نہیں ہے تو اس سوال کا استعمال کریں تاکہ ٹیم میں شامل افراد کے بارے میں آپ پہلے ہی معلومات رکھتے ہوں۔ اپنی نوکری کو ایک لمبی پرواز کی طرح سمجھیں جہاں برابر میں بیٹھا شخص آپ کے اس سفر پر اثر ڈال سکتا ہے۔
میرے کس عمل سے آپ کا کام آسان ہوگا؟

اس سوال سے آپ کو دو انداز میں فائدہ ہوگا: ایک تو یہ کہ آپ کو پتہ چل جائے گا کہ آپ پر کون سب سے زیادہ دبا¶ ڈالنے والا ہے جبکہ اپنے ساتھیوں کو خوش رکھنے کے حوالے سے بھی اس سوال کا جواب موزوں ثابت ہوسکتا ہے۔
اس نوکری کے لیے مجھے کس طرح کے ہنر کی ضرورت ہوگی؟

سوال کیجئے کہ اس ملازمت کے لیے آپ کو اپنے مرکزی ہنر کے علاوہ اور کون سے امور میں مہارت حاصل کرنا ہوگی۔ اس سے آپ کو یہ علم ہوگا کہ آیا کمپنی کسی ایسے شخص کی تلاش میں ہے جو انفرادیت پسند کرتا ہے یا پھر ٹیم میں کام کرنا چاہتا ہے۔ اس سے آپ کو بھی ذاتی طور پر فائدہ ہوگا اور خود کے نئے ہنر دریافت کرنے اور ان کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملے گا۔
کمپنی کے لیے کامیابی کی تعریف کیا ہے؟
انٹرویو کے دوران کامےابی کے آٹھ گر
اس سوال سے آپ یہ جان سکتے ہیں کہ آپ کی پوزیشن سے آپ کمپنی کی کامیابی میں کردار ادا کرسکیں گے یا نہیں۔ تفصیلات معلوم کیجئے کہ آپ سے کس طرح کے کام کی امید کی جائے گی جبکہ اس عہدے پر کام کرنے والے پرانے ملازمین سے بات چیت بھی سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کی مجھ سے اس مہینے، تین مہینے بعد اور ایک سال کے اندر کیا امیدیں وابسطہ ہیں؟

امکانات ہیں کہ آپ کو نوکری پر رکھنے والوں کے ذہنوں میں پہلے ہی سے آپ کے رول کے بارے میں منصوبہ ہوگا۔ پتہ کریں کہ وہ آگے آنے والے مہینوں میں آپ سے کیا امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ اور خود سے سوال کریں کہ کیا ان امیدوں کو پورا کرنا ممکن ہے۔
آپ کا مشن کیا ہے؟

یہ انٹرویو کے دوران اہم ترین سوالوں میں سے ایک ہے۔ ریسرچ کے مطابق ملازمین اس وقت سے زیادہ خوش ہوتے ہیں جب ان کے مالکان کے اہداف ان کے انفرادی اہداف سے مماثلت رکھتے ہوں۔

آپ ان سوالات کو ایک ہی کمپنی میں لیے جانے والے مختلف انٹرویوز میں بھی استعمال کرسکتے ہیں جس سے آپ کو صورت حال کی ایک بہتر تصویر مل سکتی ہےنوکری ملنے کے امکانات

Advertisements

باغی کا مستقبل۔۔۔۔؟؟؟


baghi
اکثر ےہی ہوا ہے کہ ضمنی الےکشن مےں وہی پارٹی کامےاب ہوتی ہے جس نے عام انتخابات مےں سےٹ جےتی ہوتی ہے،لےکن 2013ئ کے انتخابات کے بعد خالی ہونےوالی اکثر نشستوں پر ضمنی الےکشن پر نتائج مختلف آئے ہےں،متعدد سےٹوں پر تو شکست خوردہ جماعتوں نے ہی مےدان مارا ہے۔11ستمبر 2014ئ کو تحرےک انصاف کو بغاوت کرنےوالے جاوےد ہاشمی اےک بار پھر انتخابی دنگل مےں موجود ہےں،سوال ےہ ہے کہ اپنی بغاوت سے جمہورےت کو بچانے والے باغی اپنی سےٹ بچا پائےں گے؟

قومی اسمبلی کا حلقہ 149 ملتان دو ہمیشہ سے مخدوموں، قریشیوں اور ڈوگروں جیسے اہم سیاسی خاندانوں کا سیاسی اکھاڑہ ثابت ہوا ہے۔ ووٹروں پر وڈیروں کی گرفت اس علاقے میں اب بھی قائم ہے۔ اس مرتبہ کے ضمنی انتخاب میں بھی صورتحال کچھ زیادہ مختلف نہیں۔
مئی دو ہزار تیرہ میں تراسی ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے  جاوےد ہاشمی نے ےہاں سے کامیابی حاصل کی۔ گزشتہ برس انھوں نے اسلام آباد سے بھی کامیابی حاصل کی تھی لیکن یہ نشست انھوں نے ملتان کے حق میں چھوڑ دی تھی۔ اب وہ دوبارہ اپنے حلقے میں ووٹروں کے پاس گئے ہیں اور کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔ ساتھ ساتھ دعویٓ بھی کر رہے ہےں کہ کامےابی انہی کی ہوگی۔دوسری جانب تحریک انصاف کے لوگ سمجھتے ہیں کہ باغی بری طرح ہار جائے گا، وجہ چند روز قبل کا بڑا جلسہ ہوسکتا ہے۔ ملتان الیکشن کی دلچسپ بات بڑی جماعتوں کا براہ راست اس معرکے میں سامنے نہ آنا ہے لیکن در پردہ اپنی پسند کے امیدواروں کی مکمل حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں،جمعیت علما اسلام بھی ایک امیدوار کی حمایت کر رہی ہے۔ تحریک انصاف نے کوئی وجہ بتائے بغیر جاوید ہاشمی کے خلاف لڑنے سے انکار کیا ہے لیکن عامر ڈوگر کی کھل کر حمایت کر رکھی ہے لیکن حکومت کی جاوید ہاشمی کو حمایت سے نالاں ہے۔جماعت اسلامی نے کسی بھی امےدوار کی حماےت نا کرنے کا اعلان کےا ہے،قوی امےد ےہی ہے کہ سارے جماعتےےے اپنے پرانے ساتھی کو ہی ووٹ دےں گے۔پےپلز پارٹی نے  امےدوار تو کھڑا نہےں کےا لےکن آزاد امےدوار عامر ڈوگر انہی کے جانشےن ہےں،سابق وزےر اعظم سےد ےوسف رضا گےلانی ان کی پشت پر موجود ہےں۔اصل مقابلہ جاوید ہاشمی اور عامر ڈوگر کے درمیان ہی ہے۔ اونچے سیاسی درجہ حرارت میں پرامن انتخاب کروانا انتظامیہ کے لیے یقیناً بڑا چیلنج لیکن اس سے زیادہ بڑا امتحان اس حلقے کے سوا تین لاکھ ووٹروں کے لیے ہے کہ وہ سولہ تاریخ کو کسے ان کی رائے کا صحیح حق دار سمجھتے ہیں،مبصرین تاہم مانتے ہیں کہ سب سے زیادہ اس کھیل میں دائو پر جاوید ہاشمی کا سیاسی مستقبل لگا ہوا ہے۔
اصولوں کی سےاست کرنےوالے ہاشمی،فوجی بوٹوں کو سےاسی معاملات مےں مداخلت کو گناہ کبےرہ سمجھتے ہےں،نائن الےون کی بغاوت بھی اسی گناہ سے انکار تھا۔باغی کا ےہ انکار انصافےن کو پسند نہےں آےا،اسی لےے ان کو برا بھلا بھی کہا جا رہا ہے۔ان کو انتخابی مہم مےں بھی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ےہ بات عےاں ہے کہ بہت سارے ووٹر باغی سے بغاوت کرےں گے،عامر ڈوگر جےت جاتا ہے تو ےہ اس کی جےت نہےں ہوگی،جاوےد ہاشمی کے سےاسی مستقبل کی  شکست ہوگی،اس کو ن لےگ سہارا دے پاتی ہے ےا نہےں آج شام تک انتظار کرنا ہوگا۔

ماتم سے پہلے


 

644668_477927805561494_2138909679_n

”تو جس ملک کی حفاظت مردوں کی طرح نہ کرسکااس پراب عورتوں کی طرح کیوں روتا ہے، ،یہ ایک ماں کے الفاظ تھے۔۔۔ ویسے تو ممتا اپنے جگر گوشوں کو روتا دیکھ کر تڑپ اٹھتی ہے لیکن اس وقت اس ممتا کے دل میں نجانے کونسی تڑپ تھی جس نے یہ الفاظ کہنے پر مجبور کردیا، یہ الفاظ مسلمانوں کے اندلس (سپین) کے آخری تاجدار ابو عبداللہ کی ماں کے تھے، وہ ابو عبداللہ جس نے باپ کےخلاف بغاوت کر کے تخت پر قبضہ کیا اور بعد میں عیسائی حکمران فرنینڈو کو غرناطہ کی چابیاں تھمادیں، یوں اندلس کے اندر مسلمانوں کے آٹھ سو سالہ دور کا خاتمہ ہوگیا، وہ اندلس جو اس وقت پوری دنیا میں سب سے زیادہ علم اور شان و شوکت میں آگے تھا جب یورپ جہالت کے اندھیروں کے اندر بھٹک رہا تھا اور امریکہ ابھی دریافت ہی نہیں ہوا تھا ،جب یورپ کے گلی بازاروں کے اندر کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگے رہتے تھے اس وقت اندلس علمی، ثقافتی اور تہذیبی لحاظ سے ایک مینارہ نور تھا، عیسائی حکمران فرنینڈو نے ا بو عبداللہ کے ساتھ اتنی سی مہربانی کردی کہ اسے مراکش پہنچانے کیلئے بحری کشتیاں فراہم کردیں لیکن باقی مسلمانرں کے ساتھ جو ہوا اس پر آج بھی وہاں کی فضائیں نوحہ کناں ہیں“۔

آج جب پوری قوم امن ایوارڈ یافتہ ملالہ یوسفزئی پر ہونیوالے حملے پر ماتم کرتی نظر آتی ہے تو مجھے وہی غرناطہ کے مناظر یاد آنے لگے ہیں، اپنے ہی نشمین کو آگ لگا کر آج ہم رورہے ہیں، اگر ہم نے چند سال پہلے سوچا ہوتا تو آج یہ نوبت نہ آتی، آج تعلیم دشمن ایسی حرکت نہ کرتا، کوئی مسجد فاسفورس بموں سے نہ اڑائی جاتی، نہ مزاروں کو بارود سے چاک کیا جاتا اور نہ ہی سکولوں کی بنیادوں کو ہلایا جاتا ،نہ ڈرون گرتے اور نہ ہی بے گناہ معصوم مارے جاتے ،نہ ہی عافیہ جیسی ہونہار دختر کو غیروں کے ہاتھوں فروخت کیا جاتا ،نہ بلوچستان میں بدامنی ہوتی اور نہ ہی گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکتی، کراچی میں لسانیت پرستوں اور بھتہ خوروں کو لاشیں گرانے کی ہمت نہ ہوتی، میڈیا پر حکومتی ایوانوں میں، عوام میں عالمی سطح پر ایک ملالہ کے زخمی ہونے پر اتنا شور کیوں؟ اتنی آہ و زاری کیوں؟ کیونکہ اس نے لاکھوں افراد کے قاتل باراک اوبامہ کو اپنا آئیڈیل قرار دیا تھا، بی بی سی میں ڈائری لکھی تھی، اس کی ہمت، جرا¿ت اور عظمت کا سب کو اعتراف ہے لیکن
تم ایک ملالہ کو روتے ہو؟
میں نے کئی ملالہ دیکھی ہیں
میں نے خون میں لت پت بچوں کی
جانے کتنی لاشیں دیکھی ہیں
میں نے اجڑی مانگیں دیکھی ہیں
میں نے سونی گودیں دیکھی ہیں
میں نے ظلم، جبر فرنگ سے سسکتی روحیں دیکھی ہیں
میں نے اپنی دھرتی پہ اپنوں کی بوسیدہ لاشیں دیکھی ہیں
میں نے آگ کی لہریں دیکھی ہیں
تم ایک ملالہ کو روتے ہو؟
میں نے کئی ملالہ دیکھی ہیں

ڈالروں کی چمک میں آکر کوئی بھی حقیقت بیان نہیں کررہا، اسلام آباد میں 56ایکڑ اراضی امریکی سفارتخات کو کیوں الاٹ کی گئی ہے، آخر پاکستان میں اتنے بڑے سفارتخانے کی کیا ضرورت پیش آگئی، اس قلعہ نما سفارتخانے میں جدید ترین اسلحہ سے لیس بلیک واٹر کے ایک ہزار اہلکار سکیورٹی کے فرائض سرانجام دیں گے، دنیا بھر کے سفارتخانوں میں صرف 25میرین رکھنے کی اجازت ہے لیکن اس میں 350 کیا کررہے ہیں۔ Dyncop بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک کس لیے اسلام آباد لائے جائیں گے۔ ان تمام سوالوں کا جواب ہمیں ملک میں طول و عرض میں ہونیوالی بدامنی سے مل رہا ہے، پاکستان میں طالبان نام کی کوئی چیز نہیں، صرف یہی لوگ بھیس بدل کر پاکستان کو آگ میں جھونک رہے ہیں، اپنے زرخرید دانشوروں اور ”پالتوﺅں“ کے ذریعے اسلام کو بدنام کررہے ہیں، پاکستانی طالبان صرف اور صرف نظریہ ضرورت ہے نہ کہ تنظیم، یہ ایک اصطلاح ہے جو جس کے تحت ہر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی جاتی ہے، شمالی وزیرستان پر حملے کیلئے راہ ہموار کرنے کیلئے ملالہ یوسفزئی پر حملہ کروایا گیا،جس طرح سوات پر حملے کا جواز ڈھونڈنے کے لیے عورتوں کو کوڑے مارنے کی جعلی ویڈیو بنائی گئی، اس بار جو میدان جنگ سجنے جارہا ہے اس کے بہت بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔ ان بے سروسامان پاکستانیوں کو خود ہی آنیوالے سیلاب کے سامنے بند باندھنا ہوگا کیونکہ جن طبقوں کی دعوت پر یہ یہاں آئے ہیں وہ تو حالت جنگ میں ابوعبداللہ کی طرح قوم کو مصیبتوں میں چھوڑ کر بھاگ جائیں گے، پرویز مشرف قوم کو آگ کی بھٹی میں جھونک کر جا چکے، الطاف حسین لندن میں گوروں کی ثناءخوانی میں مصروف ہیں، رحمن ملک صاحب کے پاس دوہری شہریت ہے، شریف فیملی سعودی عرب چلی جائے گی، آصف زرداری صاحب دبئی میں جا گھسیں گے، اے این پی والے افغانستان اور روس چلے جائیں گے، فلوجہ اور نجف کی عوام کی طرح لڑنا غریبوں کا مقدر بن ہو جائے گا، اس سے پہلے کہ شکاری اپنی مچان بنا لے اس دھرتی سے نکالنا ہوگا ورنہ پھر کسے علم اس کے نشانے کی زد پر کسی کا گھر ہو، کسی کا بیٹا ہوا، باپ، ماں یا بہن ہو، ماتم سے پہلے طوفان مغرب کو روکنا ہوگا۔

 

ابلس بھی تجھے دےکھے تو مسلمان ہوجائے


ابلےس بھی تجھے دےکھے تو مسلمان ہوجائے
انقلاب،تبدےلی،اسلامی پاکستان،جمہوری پاکستان کے نعرے ہم روز سنتے ہےں۔روٹی،کپڑا،مکان،روزگار اچھی تعلےم کے دلکش پےکج بھی ملتے ہےں۔مسجدوں کے واعظ ہر جمعہ کے خطبہ مےں حکاےات،واقعات بےان کرکے ہمارے روےوں کو بدلنے کا درس دےتے ہےں۔ارکان اسلام پر پابند رہنے کے ساتھ ساتھ اپنے اردگرد رہنے والوں کے ساتھ اچھے برتائو کی بھی تلقےن کرتے ہےں،سماجی تنظےمےں مردہ معاشرے کو زندگی دےنے کی تگ و دو کرتی ہےں،ہم سنتے ہےں،پر عمل نہےں کرتے کےوں؟
ایک بنیادی سوال،ذہن میں ہروقت چبھنے والی ایک تکلیف دہ چبھن۔عےد آئی ہے،ےہ عےد بھی ہے اور قربان بھی۔ےہ ہمےں اےثار،محبت اور قربانی کا درس دےتی ہے۔  بازاروں میں، غریب کو لٹتے دیکھتاہوں، چوکوں،چوراہوں پر بے گناہوں کا بہتا خون ، اپنوں کے ہاتھوں معمولی جھگڑوں پر گردنیں کٹتی دیکھتا ہوں، غیرت کے نام پر بھائیوں کے ہاتھوں میں دم توڑتی بہنیں دیکھتا ہوں، تو  مجھ پہ گراں گزرتی ہے،اکثرسوچنے لگتا ہوں ،کےا ہم مسلمان ہےں؟بازاروں میں ذخیرہ اندوزی،دکانداروں کی گرانفروشی،سرکاری افسروں کی بدعنوانی،سیاسدانوں کی چالبازی،برائی کے اڈوں پر حرام کاری،جوئے کے اڈوں پر حرام خوری دیکھتا ہو تو سوچتا ہوں کیا ہم مسلمان ہیں۔۔؟
ہم شےعہ سنی،برےلوی دےوبندی مےں تقسےم ہوگئے، تقسیم ہی تقسےم وحدت کہیں بھی نہیں، نبی رحمتٔۖ تو فرما گئے مسلمان تو ایک جسم کی مانند ہیں،اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو سارا جسم بیقرار ہوجائے،ایک مسلمان کو تکلیف پہنچے تو دنیا کے سارے مسلمان اس تکلیف کو محسوس کریں،لیکن افسوس! تم جدا میں جدا،ساری امت جدا جدا
اب مےں راشن کی قطاروں مےں نظر آتا ہوں
اپنے کھےتوں سے بچھڑنے کی سزا پاتا ہوں
میرے خیال میں پاکستانی معاشرہ مردہ پرست ہو چکا ، زندگی میں کوئی نہیں پوچھتا مگر دم نکلتے وقت ہونٹوں پر دیسی گھی لگا دیا جاتا ہے تا کہ لوگ سمجھیں بڑے میاں دیسی گھی کھاتے کھاتے مرے ہیں۔  "ظالمو!  دیگیں چڑھا رہے ہو، اسے چند لقمے دے دیتے تو یہ یوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نا مرتا”۔

ہمارا معاشرہ  سود خوری، رشوت ستانی، مفت خوری، بھتہ خوری، بدعنوانی، جھوٹ، منافقت، اقربائ پروری کساد بازاری، ذخیرہ اندوزی، دہشتگردی، کام چوری، خوشامدی سیاست، بدعہدی، مکرو فریب جےسی  بیماریوں مےں مبتلاہے۔ عام باشندے سے لیکر مسند اقتدار پر براجمان خواص بےمار ہیں۔ یہاں کی صحافت تجارت بن چکی، یہاں علم کی بولی لگتی ہے اور قلم بکتے ہیں، سیاست بدنام ہوچکی، غیرت بے نام ہوچکی، یہاں کی تجارت پیشہ پیغمبری نہیں رہی، یہاں غریبوں کا خون چوسنے کیلئے ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہے، گرانفروشی کی جاتی ہے، تھانوں میں جائیں انسان کپڑے بھی اتروا کر نکلتا ہے، یہاں کے پولیس والے سگریٹ کی ڈبیا کی خاطر اپنا ایمان فروخت کردیتے ہیں، استاد، استاد نہیں رہا اور شاگرد، شاگرد نہیں رہا، علم دینے والے صنعتکار بن گئے اور علم حاصل کرنے والے سردار بن گئے ہیں۔ یہاں غریبوں کے بچے راتوں کو بھوکے سوجاتے ہیں اور بڑے بڑے گھروں اور توندوں والے پوچھنا تک گوارہ نہیں کرتے، یہاں انقلاب تب آئے گا جب معاشرے کا ہر فرد مسلمان بن کر سوچے گا، پاکستانی بن کر رہے گا، اپنے ہمسائے کا خےال رکھے گا،روتے ہوئے چہروں پر مسکراہٹےں لائے گا، تبدےلی،انقلاب  برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنے سے آئےگا،اقبالۯ کا معاشرہ،قائدۯ کا پاکستان تبدےلی لائے گا،نمازےں، روزے،زکواتہ ہم سب پر فرض ہےں،تقارےر اور بلندو بانگ دعوئوں سے کچھ نہےں ہوگا،اقبالۯ کےا خوب فرما گئے ہےں
حسن کردار سے نور مجسم ہوجا
کہ ابلےس بھی تجھے دےکھے تو مسلمان ہوجائے

جمہوریت ناکام،جمہور کو نئے نظام کی تلاش


جمہوریت آج کے زمانے میں سب سے زیادہ پسندیدہ اور کامیاب طرز حکومت ہے- کسی حد تک اس کا تعلق پہلی عالمی جنگ کے بعد دنیا کی بڑی بادشاہتوں اورشخصی حکومتوں کے زوال سے، اور دوسری عالمی جنگ میں جمہوری اتحادی طاقتوں کی فتح کے بعد مجموعی آواز سے ہے۔نوے کی دہائی کے اوائل میں جمہوریت کےخلاف طاقت کے آخری مرکز سوویت یونین کے ختم ہونے کے بعد ساری دنیا میں حکمرانی کا کوئی ایسا قابل ذکر ماڈل نہیں ہے جو جمہوریت کا مقابلہ کرسکے۔

تاہم دنیاکے سب سے گنجان آبادی والے بر اعظموں ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک میں جمہوریت کے فوائد عام لوگوں تک نہیں پہنچے- مشرق وسطیٰ میں انقلابےوں یا حکومتوں کی تبدیلی کے نتیجے میں چند طویل المیعاد آمروں کے ہٹائے جانے کے باوجود، یہ علاقہ مسلسل تشدد کی وجہ سے تباہی سے دوچار ہے اورہر روز نوزائیدہ جمہوریت کو چیلنج کرنے کے لیے نئی طاقتیں اٹھ کھڑی ہوتی ہیں

اور جہاں جمہوریت اب تک سینہ سپر ہے، جیسے پاکستان میں، وہاں کلیدی کارکردگی کے پیمانے جو عوامی بہبود پر اثر انداز ہوتے ہیں عوام کے حالات میں کسی طرح کی بہتری دکھانے میں بری طرح ناکام ہیں-پاکستان مےں آج بھی عام آدمی محرومےوں کا شکار ہے۔ یہاں کی صحافت تجارت بن چکی، یہاں علم کی بولی لگتی ہے اور قلم بکتے ہیں، سیاست بدنام ہوچکی، غیرت بے نام ہوچکی، یہاں کی تجارت پیشہ پیغمبری نہیں رہی، یہاں غریبوں کا خون چوسنے کیلئے ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہے، گرانفروشی کی جاتی ہے، تھانوں میں جائیں انسان کپڑے بھی اتروا کر نکلتا ہے، یہاں کے پولیس والے سگریٹ کی ڈبیا کی خاطر اپنا ایمان فروخت کردیتے ہیں، استاد، استاد نہیں رہا اور شاگرد، شاگرد نہیں رہا، علم دینے والے صنعتکار بن گئے اور علم حاصل کرنے والے سردار بن گئے ہیں۔ یہاں غریبوں کے بچے راتوں کو بھوکے سوجاتے ہیں اور بڑے بڑے گھروں اور توندوں والے پوچھنا تک گوارہ نہیں کرتے،جمہوری ملک کےا اےسا ہوتا ہے؟

اکثر اٹھنے والے سوالات کی، کہ یہ نتائج خود جمہوریت کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہیں یانہیں، درحقیقت یہاں کوئی جگہ نہیں- کیونکہ کچھ عرصے سے اس لفظ ‘جمہوریت’ کا استعمال ایک دلکش کہاوت کے طور پرعوام کے لیے سبز باغ کے وعدوں کے لیے استعمال ہوتا ہے- دوسری جانب، جمہوریت کے اصول، جیسے کہ شفاف حکمرانی اور کارکردگی کے پیمانے، پاکستان میں عوامی مباحث کا حصہ اتنا نہیں بنتے ہیں جتنا جمہوریت کی ضرورت-

چنانچہ جمہوریت کی حمایت میں ایسے جملے کہے جاتے ہیں جیسے ‘بہترین انتقام’ اور اس کی بدترین شکل بھی بہترین آمریت سے بہتر ہے۔ اس طرح کے موازنے کے لیے ضروری ہے کہ عوامی بہتری کے بارے میں اعداد و شمار کی رو سے درست اورتصدیق شدہ معلومات موجود ہوں اوربڑے پیمانے پرتسلیم بھی کیے جاتے ہوں- پبلک اخراجات اورترقیاتی بجٹ کے استعمال کے اعدادوشمار کے بارے میں یہ ابہام پالیسی اور فیصلہ سازوں کو بے خوف کر  دیتا ہے، اور موقع دیتا ہے کہ وہ عوام کی پوچھ گچھ کی پرواہ کیے بغیر اقدامات کریں۔

مثال کے طور پر، بنیادی اقدامات جیسے کہ داخلی اور خارجی قرضوں کے انتظام کا معاملہ لے لیجیے، براہ راست قرضے اورآئی ایم ایف کے پروگراموں میں شمولیت، عالمی مارکیٹ میں بانڈ کا اجرائ یا کرنسی نوٹوں کی چھپائی- پاکستان میں ان مالیاتی معاملوں کو طے کرنے کے فیصلے، جو فوراً افراط زراور ملک کی معیشت کی صحت پر طویل المدتی اثرات ڈالتے ہیں، وہ عوام کے منتخب کردہ پارلیمنٹ کے نمائندوں کی شمولیت اور منظوری کے بغیر کیے جاتے ہیں-

ہونا یہ چاہیے کہ، جمہوریت عوام کو سوالات کرنے کی اجازت دے، جنہیں حکومت کی روز کی کارکردگی اور ملک کے لیے طویل المدتی منصوبوں، خارجہ پالیسی سمیت سب معاملات کا جواب بھی ملنا چاہیے- داخلی جمہوری عمل کی کمی سیاسی پارٹیوں کے اندر پارٹی کے آفیشلز، اسمبلی کی سیٹوں اور وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزدگی کے طریقۂ کارسے بھی بالکل واضح ہے-

اکثروبیشتر، پارٹی کے سربراہ اور ان کے قریبی رشتہ دار انتخابات سے پہلے اور بعد میں پارٹی کے اوپر اپنی آہنی گرفت برقرار رکھتے ہیں- انتخابی پارٹیوں کیلیے جمہوری طرزعمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت کے علاوہ، یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ انتخاب شفاف ہو اور کسی کو اس میں شک بھی نہ ہو- اورپارٹی کی ساخت کے لیے بھی یہ کرنا ضروری ہے- بلکہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیے جیسے الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم ہونا چاہےے۔

بہرحال، جمہوریت اور شفافیت کے بارے میں ان خیالات کی تصدیق اسی وقت ہوسکتی ہے جب ملک کے اندربھی جمہوری عمل پر اتنا ہی یقین ہو- عوامی صحت اور تعلیم میں مسلسل گراوٹ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، آمدنی میں بہت زیادہ عدم توازن، کم ہوتی ہوئی فی کس آمدنی اور تقریباً تمام عالمی جانچ پڑتال کے پیمانوں میں ناقص کارکردگی جیسے کہ Millenium Development Goals، Human Rights Watch، Human Development Index اورTransparency International، کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا جمہوریت پاکستان جیسے ملک کیلئے درست ہے، کیونکہ منتخب نمائندے انہیں بہتر زندگی دینے میں بار بار ناکام ہوتے ہیں- جو لوگ ان کو منتخب کرتے ہیں۔

ناقص کارکردگی جس کا ترقیاتی پیمانہ میں اوپر ذکر ہوا ہے، اس کے علاوہ عوام کے لیے اعدادوشمار کی عدم موجودگی جس کی مدد سے عوام منتخب حکومت کی ترقی اوراس کی سمت کے بارے میں اندازہ لگا سکیں، ان حالات میں قومی مفاہمتی آرڈیننس (National Reconciliation Ordinance) جیسے اقدامات کی وجہ سے کئی سوالات جمہوریت کے مقاصد کے بارے میں اٹھتے ہیں- کیا جمہوریت پاکستان میں عوام کیلیے ہے یا ان ڈیموکریٹس کو انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کی یقین دہانی کیلیے ہے جبکہ عوام عموماً تکلیف ہی میں رہتے ہیں؟ اس پر مستزاد تباہ کاریوں کے حوالے سے انتظامی خرابیوں پر حکومتی عوامل کا احتساب نہ کرنے کی روایت ہے، جیسے اس سال تھر میں شدید قحط سالی یا کراچی ایئرپورٹ حملے میں لوگوں کے زندہ جل جانے کا واقعہ- لہٰذا ایسا لگتا ہے کہ جمہوریت صرف حکومتی اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے والا ایک اندھا اور خودپسند نظریہ ہے-

پاکستان میں جمہوریت کو پھلنے پھولنے کے لیے، عوام کی زندگیوں میں، ایک صاف ستھرے اورشفاف انداز میں، تھوڑی سی بہتری لانے کی ضرورت ہے، جن کا مفاد اس کا مقصد سمجھا جاتا ہے- اور جب تک ایسا ہو نہیں جاتا، لانگ مارچزاور انقلاب کے نعرے کے ذریعے نظام کو بدلنے کا مطالبہ، بجائے ایسی اصلاحات کے جو موجودہ جمہوری نظام میں زیادہ شفافیت اور احتساب کی روایت لائے، پاکستان میں جمہوریت کیلیے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح ہے-
جیسے سمے کا دھارا بہتا چلا جا رہا ہے، اسی طرح دنیا میں کسی چیز کو سکوت نہیں ہے۔ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔۔ ابتدائے آفرینش سے تبدیلی کا یہ عمل جاری ہے۔ خیروشر کی قوتوں کا ٹکرائو ہے، تو ساتھ طاقت وَر اور مظلوم کا تصادم بھی رواں ہے۔
نہ سمٹنے والی خواہشات جب اختیار اور طاقت کے ساتھ یک جا ہونے لگتی ہیں تو خلق خدا پابندیوں کے شکنجے میں جکڑی جاتی ہے۔ دوسروں کی خواہشوں کا نہ ختم ہونے والا سمندر ان کی بنیادی ضروریات کی تکمیل مشکل بنا دیتا ہے اور وہ اسے تقدیر کا لکھا سمجھ کر جیون گزار دیتے ہیں۔ مگر ہر دفعہ ایسا نہیں ہوتا، کبھی کہیں کوئی اَن ہونی بھی ہو جاتی ہے، جو ظالم کا ہاتھ پکڑکر جھٹک دیتی ہے۔۔۔ اسے یاد دلاتی ہے کہ وہ بھی اسی طرح کا ایک انسان ہے۔۔۔ کسی کی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق اس فرد کے سوا کسی کو نہیں۔ یوں طاقت کے بتوں کے مسمار کیے جانے کا عمل شروع ہو جاتا ہے، جسے انقلاب کا نام دیا جاتا ہے اور جس کے اگلے سرے پر آزادی کی نعمت موجود ہوتی ہے۔۔۔ لیکن ان سب کے بیچ ایک طویل صبرآزما جدوجہد، اتحاد، کٹھن قربانیوں کا راستہ ہوتا ہے۔ تب کہیں جاکر یہ انقلاب برپا ہوتے ہیں۔ اس کے بعد بھی ضروری نہیں کہ اس تبدیلی کا ثمر فوراً ہی مل جائے، بعض اوقات چیزوں کے اپنی جگہ واپس آنے میں بھی مزید کئی برس بیت جاتے ہیں۔
جمہورےت پسندوں کے روےے ہی جمہورےت کو نقصان پہنچاتے ہےں،جب جمہور کو انصاف نہےں ملتا تو وہ نئے سے نئے راستے تلاش کرتے ہےں،آج جمہور جمہورےت پسندوں کے روےوں سے بےزار ہے،ان سے چھٹکارا چاہتی ہے،اس سے قبل کہ جمہور کے ہاتھ منتخب نمائےندوں کی گردنوں تک پہنچے جمہوری نظام کے نقائص کو دور کرن ہوگا۔