جمہوریت ناکام،جمہور کو نئے نظام کی تلاش


جمہوریت آج کے زمانے میں سب سے زیادہ پسندیدہ اور کامیاب طرز حکومت ہے- کسی حد تک اس کا تعلق پہلی عالمی جنگ کے بعد دنیا کی بڑی بادشاہتوں اورشخصی حکومتوں کے زوال سے، اور دوسری عالمی جنگ میں جمہوری اتحادی طاقتوں کی فتح کے بعد مجموعی آواز سے ہے۔نوے کی دہائی کے اوائل میں جمہوریت کےخلاف طاقت کے آخری مرکز سوویت یونین کے ختم ہونے کے بعد ساری دنیا میں حکمرانی کا کوئی ایسا قابل ذکر ماڈل نہیں ہے جو جمہوریت کا مقابلہ کرسکے۔

تاہم دنیاکے سب سے گنجان آبادی والے بر اعظموں ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک میں جمہوریت کے فوائد عام لوگوں تک نہیں پہنچے- مشرق وسطیٰ میں انقلابےوں یا حکومتوں کی تبدیلی کے نتیجے میں چند طویل المیعاد آمروں کے ہٹائے جانے کے باوجود، یہ علاقہ مسلسل تشدد کی وجہ سے تباہی سے دوچار ہے اورہر روز نوزائیدہ جمہوریت کو چیلنج کرنے کے لیے نئی طاقتیں اٹھ کھڑی ہوتی ہیں

اور جہاں جمہوریت اب تک سینہ سپر ہے، جیسے پاکستان میں، وہاں کلیدی کارکردگی کے پیمانے جو عوامی بہبود پر اثر انداز ہوتے ہیں عوام کے حالات میں کسی طرح کی بہتری دکھانے میں بری طرح ناکام ہیں-پاکستان مےں آج بھی عام آدمی محرومےوں کا شکار ہے۔ یہاں کی صحافت تجارت بن چکی، یہاں علم کی بولی لگتی ہے اور قلم بکتے ہیں، سیاست بدنام ہوچکی، غیرت بے نام ہوچکی، یہاں کی تجارت پیشہ پیغمبری نہیں رہی، یہاں غریبوں کا خون چوسنے کیلئے ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہے، گرانفروشی کی جاتی ہے، تھانوں میں جائیں انسان کپڑے بھی اتروا کر نکلتا ہے، یہاں کے پولیس والے سگریٹ کی ڈبیا کی خاطر اپنا ایمان فروخت کردیتے ہیں، استاد، استاد نہیں رہا اور شاگرد، شاگرد نہیں رہا، علم دینے والے صنعتکار بن گئے اور علم حاصل کرنے والے سردار بن گئے ہیں۔ یہاں غریبوں کے بچے راتوں کو بھوکے سوجاتے ہیں اور بڑے بڑے گھروں اور توندوں والے پوچھنا تک گوارہ نہیں کرتے،جمہوری ملک کےا اےسا ہوتا ہے؟

اکثر اٹھنے والے سوالات کی، کہ یہ نتائج خود جمہوریت کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہیں یانہیں، درحقیقت یہاں کوئی جگہ نہیں- کیونکہ کچھ عرصے سے اس لفظ ‘جمہوریت’ کا استعمال ایک دلکش کہاوت کے طور پرعوام کے لیے سبز باغ کے وعدوں کے لیے استعمال ہوتا ہے- دوسری جانب، جمہوریت کے اصول، جیسے کہ شفاف حکمرانی اور کارکردگی کے پیمانے، پاکستان میں عوامی مباحث کا حصہ اتنا نہیں بنتے ہیں جتنا جمہوریت کی ضرورت-

چنانچہ جمہوریت کی حمایت میں ایسے جملے کہے جاتے ہیں جیسے ‘بہترین انتقام’ اور اس کی بدترین شکل بھی بہترین آمریت سے بہتر ہے۔ اس طرح کے موازنے کے لیے ضروری ہے کہ عوامی بہتری کے بارے میں اعداد و شمار کی رو سے درست اورتصدیق شدہ معلومات موجود ہوں اوربڑے پیمانے پرتسلیم بھی کیے جاتے ہوں- پبلک اخراجات اورترقیاتی بجٹ کے استعمال کے اعدادوشمار کے بارے میں یہ ابہام پالیسی اور فیصلہ سازوں کو بے خوف کر  دیتا ہے، اور موقع دیتا ہے کہ وہ عوام کی پوچھ گچھ کی پرواہ کیے بغیر اقدامات کریں۔

مثال کے طور پر، بنیادی اقدامات جیسے کہ داخلی اور خارجی قرضوں کے انتظام کا معاملہ لے لیجیے، براہ راست قرضے اورآئی ایم ایف کے پروگراموں میں شمولیت، عالمی مارکیٹ میں بانڈ کا اجرائ یا کرنسی نوٹوں کی چھپائی- پاکستان میں ان مالیاتی معاملوں کو طے کرنے کے فیصلے، جو فوراً افراط زراور ملک کی معیشت کی صحت پر طویل المدتی اثرات ڈالتے ہیں، وہ عوام کے منتخب کردہ پارلیمنٹ کے نمائندوں کی شمولیت اور منظوری کے بغیر کیے جاتے ہیں-

ہونا یہ چاہیے کہ، جمہوریت عوام کو سوالات کرنے کی اجازت دے، جنہیں حکومت کی روز کی کارکردگی اور ملک کے لیے طویل المدتی منصوبوں، خارجہ پالیسی سمیت سب معاملات کا جواب بھی ملنا چاہیے- داخلی جمہوری عمل کی کمی سیاسی پارٹیوں کے اندر پارٹی کے آفیشلز، اسمبلی کی سیٹوں اور وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزدگی کے طریقۂ کارسے بھی بالکل واضح ہے-

اکثروبیشتر، پارٹی کے سربراہ اور ان کے قریبی رشتہ دار انتخابات سے پہلے اور بعد میں پارٹی کے اوپر اپنی آہنی گرفت برقرار رکھتے ہیں- انتخابی پارٹیوں کیلیے جمہوری طرزعمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت کے علاوہ، یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ انتخاب شفاف ہو اور کسی کو اس میں شک بھی نہ ہو- اورپارٹی کی ساخت کے لیے بھی یہ کرنا ضروری ہے- بلکہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیے جیسے الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم ہونا چاہےے۔

بہرحال، جمہوریت اور شفافیت کے بارے میں ان خیالات کی تصدیق اسی وقت ہوسکتی ہے جب ملک کے اندربھی جمہوری عمل پر اتنا ہی یقین ہو- عوامی صحت اور تعلیم میں مسلسل گراوٹ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، آمدنی میں بہت زیادہ عدم توازن، کم ہوتی ہوئی فی کس آمدنی اور تقریباً تمام عالمی جانچ پڑتال کے پیمانوں میں ناقص کارکردگی جیسے کہ Millenium Development Goals، Human Rights Watch، Human Development Index اورTransparency International، کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا جمہوریت پاکستان جیسے ملک کیلئے درست ہے، کیونکہ منتخب نمائندے انہیں بہتر زندگی دینے میں بار بار ناکام ہوتے ہیں- جو لوگ ان کو منتخب کرتے ہیں۔

ناقص کارکردگی جس کا ترقیاتی پیمانہ میں اوپر ذکر ہوا ہے، اس کے علاوہ عوام کے لیے اعدادوشمار کی عدم موجودگی جس کی مدد سے عوام منتخب حکومت کی ترقی اوراس کی سمت کے بارے میں اندازہ لگا سکیں، ان حالات میں قومی مفاہمتی آرڈیننس (National Reconciliation Ordinance) جیسے اقدامات کی وجہ سے کئی سوالات جمہوریت کے مقاصد کے بارے میں اٹھتے ہیں- کیا جمہوریت پاکستان میں عوام کیلیے ہے یا ان ڈیموکریٹس کو انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کی یقین دہانی کیلیے ہے جبکہ عوام عموماً تکلیف ہی میں رہتے ہیں؟ اس پر مستزاد تباہ کاریوں کے حوالے سے انتظامی خرابیوں پر حکومتی عوامل کا احتساب نہ کرنے کی روایت ہے، جیسے اس سال تھر میں شدید قحط سالی یا کراچی ایئرپورٹ حملے میں لوگوں کے زندہ جل جانے کا واقعہ- لہٰذا ایسا لگتا ہے کہ جمہوریت صرف حکومتی اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے والا ایک اندھا اور خودپسند نظریہ ہے-

پاکستان میں جمہوریت کو پھلنے پھولنے کے لیے، عوام کی زندگیوں میں، ایک صاف ستھرے اورشفاف انداز میں، تھوڑی سی بہتری لانے کی ضرورت ہے، جن کا مفاد اس کا مقصد سمجھا جاتا ہے- اور جب تک ایسا ہو نہیں جاتا، لانگ مارچزاور انقلاب کے نعرے کے ذریعے نظام کو بدلنے کا مطالبہ، بجائے ایسی اصلاحات کے جو موجودہ جمہوری نظام میں زیادہ شفافیت اور احتساب کی روایت لائے، پاکستان میں جمہوریت کیلیے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح ہے-
جیسے سمے کا دھارا بہتا چلا جا رہا ہے، اسی طرح دنیا میں کسی چیز کو سکوت نہیں ہے۔ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔۔ ابتدائے آفرینش سے تبدیلی کا یہ عمل جاری ہے۔ خیروشر کی قوتوں کا ٹکرائو ہے، تو ساتھ طاقت وَر اور مظلوم کا تصادم بھی رواں ہے۔
نہ سمٹنے والی خواہشات جب اختیار اور طاقت کے ساتھ یک جا ہونے لگتی ہیں تو خلق خدا پابندیوں کے شکنجے میں جکڑی جاتی ہے۔ دوسروں کی خواہشوں کا نہ ختم ہونے والا سمندر ان کی بنیادی ضروریات کی تکمیل مشکل بنا دیتا ہے اور وہ اسے تقدیر کا لکھا سمجھ کر جیون گزار دیتے ہیں۔ مگر ہر دفعہ ایسا نہیں ہوتا، کبھی کہیں کوئی اَن ہونی بھی ہو جاتی ہے، جو ظالم کا ہاتھ پکڑکر جھٹک دیتی ہے۔۔۔ اسے یاد دلاتی ہے کہ وہ بھی اسی طرح کا ایک انسان ہے۔۔۔ کسی کی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق اس فرد کے سوا کسی کو نہیں۔ یوں طاقت کے بتوں کے مسمار کیے جانے کا عمل شروع ہو جاتا ہے، جسے انقلاب کا نام دیا جاتا ہے اور جس کے اگلے سرے پر آزادی کی نعمت موجود ہوتی ہے۔۔۔ لیکن ان سب کے بیچ ایک طویل صبرآزما جدوجہد، اتحاد، کٹھن قربانیوں کا راستہ ہوتا ہے۔ تب کہیں جاکر یہ انقلاب برپا ہوتے ہیں۔ اس کے بعد بھی ضروری نہیں کہ اس تبدیلی کا ثمر فوراً ہی مل جائے، بعض اوقات چیزوں کے اپنی جگہ واپس آنے میں بھی مزید کئی برس بیت جاتے ہیں۔
جمہورےت پسندوں کے روےے ہی جمہورےت کو نقصان پہنچاتے ہےں،جب جمہور کو انصاف نہےں ملتا تو وہ نئے سے نئے راستے تلاش کرتے ہےں،آج جمہور جمہورےت پسندوں کے روےوں سے بےزار ہے،ان سے چھٹکارا چاہتی ہے،اس سے قبل کہ جمہور کے ہاتھ منتخب نمائےندوں کی گردنوں تک پہنچے جمہوری نظام کے نقائص کو دور کرن ہوگا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s