ابلس بھی تجھے دےکھے تو مسلمان ہوجائے


ابلےس بھی تجھے دےکھے تو مسلمان ہوجائے
انقلاب،تبدےلی،اسلامی پاکستان،جمہوری پاکستان کے نعرے ہم روز سنتے ہےں۔روٹی،کپڑا،مکان،روزگار اچھی تعلےم کے دلکش پےکج بھی ملتے ہےں۔مسجدوں کے واعظ ہر جمعہ کے خطبہ مےں حکاےات،واقعات بےان کرکے ہمارے روےوں کو بدلنے کا درس دےتے ہےں۔ارکان اسلام پر پابند رہنے کے ساتھ ساتھ اپنے اردگرد رہنے والوں کے ساتھ اچھے برتائو کی بھی تلقےن کرتے ہےں،سماجی تنظےمےں مردہ معاشرے کو زندگی دےنے کی تگ و دو کرتی ہےں،ہم سنتے ہےں،پر عمل نہےں کرتے کےوں؟
ایک بنیادی سوال،ذہن میں ہروقت چبھنے والی ایک تکلیف دہ چبھن۔عےد آئی ہے،ےہ عےد بھی ہے اور قربان بھی۔ےہ ہمےں اےثار،محبت اور قربانی کا درس دےتی ہے۔  بازاروں میں، غریب کو لٹتے دیکھتاہوں، چوکوں،چوراہوں پر بے گناہوں کا بہتا خون ، اپنوں کے ہاتھوں معمولی جھگڑوں پر گردنیں کٹتی دیکھتا ہوں، غیرت کے نام پر بھائیوں کے ہاتھوں میں دم توڑتی بہنیں دیکھتا ہوں، تو  مجھ پہ گراں گزرتی ہے،اکثرسوچنے لگتا ہوں ،کےا ہم مسلمان ہےں؟بازاروں میں ذخیرہ اندوزی،دکانداروں کی گرانفروشی،سرکاری افسروں کی بدعنوانی،سیاسدانوں کی چالبازی،برائی کے اڈوں پر حرام کاری،جوئے کے اڈوں پر حرام خوری دیکھتا ہو تو سوچتا ہوں کیا ہم مسلمان ہیں۔۔؟
ہم شےعہ سنی،برےلوی دےوبندی مےں تقسےم ہوگئے، تقسیم ہی تقسےم وحدت کہیں بھی نہیں، نبی رحمتٔۖ تو فرما گئے مسلمان تو ایک جسم کی مانند ہیں،اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو سارا جسم بیقرار ہوجائے،ایک مسلمان کو تکلیف پہنچے تو دنیا کے سارے مسلمان اس تکلیف کو محسوس کریں،لیکن افسوس! تم جدا میں جدا،ساری امت جدا جدا
اب مےں راشن کی قطاروں مےں نظر آتا ہوں
اپنے کھےتوں سے بچھڑنے کی سزا پاتا ہوں
میرے خیال میں پاکستانی معاشرہ مردہ پرست ہو چکا ، زندگی میں کوئی نہیں پوچھتا مگر دم نکلتے وقت ہونٹوں پر دیسی گھی لگا دیا جاتا ہے تا کہ لوگ سمجھیں بڑے میاں دیسی گھی کھاتے کھاتے مرے ہیں۔  "ظالمو!  دیگیں چڑھا رہے ہو، اسے چند لقمے دے دیتے تو یہ یوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نا مرتا”۔

ہمارا معاشرہ  سود خوری، رشوت ستانی، مفت خوری، بھتہ خوری، بدعنوانی، جھوٹ، منافقت، اقربائ پروری کساد بازاری، ذخیرہ اندوزی، دہشتگردی، کام چوری، خوشامدی سیاست، بدعہدی، مکرو فریب جےسی  بیماریوں مےں مبتلاہے۔ عام باشندے سے لیکر مسند اقتدار پر براجمان خواص بےمار ہیں۔ یہاں کی صحافت تجارت بن چکی، یہاں علم کی بولی لگتی ہے اور قلم بکتے ہیں، سیاست بدنام ہوچکی، غیرت بے نام ہوچکی، یہاں کی تجارت پیشہ پیغمبری نہیں رہی، یہاں غریبوں کا خون چوسنے کیلئے ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہے، گرانفروشی کی جاتی ہے، تھانوں میں جائیں انسان کپڑے بھی اتروا کر نکلتا ہے، یہاں کے پولیس والے سگریٹ کی ڈبیا کی خاطر اپنا ایمان فروخت کردیتے ہیں، استاد، استاد نہیں رہا اور شاگرد، شاگرد نہیں رہا، علم دینے والے صنعتکار بن گئے اور علم حاصل کرنے والے سردار بن گئے ہیں۔ یہاں غریبوں کے بچے راتوں کو بھوکے سوجاتے ہیں اور بڑے بڑے گھروں اور توندوں والے پوچھنا تک گوارہ نہیں کرتے، یہاں انقلاب تب آئے گا جب معاشرے کا ہر فرد مسلمان بن کر سوچے گا، پاکستانی بن کر رہے گا، اپنے ہمسائے کا خےال رکھے گا،روتے ہوئے چہروں پر مسکراہٹےں لائے گا، تبدےلی،انقلاب  برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنے سے آئےگا،اقبالۯ کا معاشرہ،قائدۯ کا پاکستان تبدےلی لائے گا،نمازےں، روزے،زکواتہ ہم سب پر فرض ہےں،تقارےر اور بلندو بانگ دعوئوں سے کچھ نہےں ہوگا،اقبالۯ کےا خوب فرما گئے ہےں
حسن کردار سے نور مجسم ہوجا
کہ ابلےس بھی تجھے دےکھے تو مسلمان ہوجائے

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s