دام میں خود صیاد آ گیا


54c78ed7af79d
امریکہ کے صدر باراک اوبامہ  کے دلی مےں جہاز سے اترتے ہی مودی نے ایسے بے تکلفانہ گلے لگایا کہ پسلیاں چرمرا گئی ہوں گی۔مےزبان  میڈیا دونوں رہنمائوں پر اےسے نظریں رکھے ہوئے تھا جےسے کوئی ملک مےں جاسوس گھس آےا ہو، کس نے کیا پہنا، کس نے کیا کھایا اور کون کیا کھلائے گا، سب کےمرے کی پہنچ میں تھیں، مودی کے لباس کی دھاری کا رنگ بھی بتا دیا ۔ لکھا کےا تھا وہ بھی عیاںکر دیا۔ بالی ووڈ کے اداکار کی طرح استقبال کئے جانے پر مہمان اوبامہ اور اُن کی اہلیہ بڑی خوش نظر آئیں۔ مہمان کی اہلیہ تو اس وقت موجود تھیں لیکن میزبان  کی پتنی اپنے گائوں میں معمول کے کاموں میں مصروف رہےں۔ دلی کیلئے بلایا ہی نہیں گیا۔ اس میں کیا حکمت ہے مودی ہی جانتے ہوں گے؟

خےر چھوڑےےٝ دونوں ممالک رازو نےاز  کے بعد سات بڑے اور اہم اعلان کئے گئے جن میں سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی معاہدے میں پیش رفت مزید دفاعی تعاون انسداد دہشت گردی کے مزید اقدامات، مزید تجارتی معاہدے کرنے، کلین انرجی، مذاکرات جاری رکھنے، سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون اور امریکہ اوربھارت کے قومی سلامتی کے مشیروں میں مزید ہاٹ لائنز کا قیام شامل ہے، جبکہ بھارتی سیکرٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک نے اگلے دس سال کے لئے معاہدے کر لئے ہیں۔ اب بھارت نیو کلیئر سیلاٹر گروپ میں شامل ہونے کے لئے بھی پرعزم ہے، امریکہ نے مختلف مدات میں بھارت کو 4 کھرب ڈالر سے زائد امداد دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

دونوںٴٴفطری اتحادےوںٴٴ کے حالےہ گٹھ جوڑ سے خطے میں طاقت کی تبدیلی کا گمان کےا جارہا ہے۔ اوباما نے جس لب و لہجے میں پاکستان کو دہشتگردی کے خاتمہ کے حوالے سے تنبیہہ کی وہ پاکستان کیلئے واضح پیغام تھا کہ اسے خطے میں امریکہ ہی نہیںبھارتی پالیسیوں اور اقدامات کی بھی اطاعت کرنا ہو گی۔ مشترکہ اعلامےے مےں بھی  دہشتگردوں کے نیٹ ورک کے پھیلائوکے حوالے سے امریکہ اور بھارت یکساں طور پر پاکستان کے ساتھ تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور افغانستان اور پاکستان میں اس نیٹ ورک کیخلاف آپریشن کی بھی مشترکہ حکمت عملی طے کر چکے ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اب بھی امریکہ پاکستان کو اپنا فرنٹ لائن اتحادی قرار دیتا ہے تو یہ سوائے منافقت کے اور کچھ نہیں ہو گا۔آرمی چیف جنرل راحےل شرےف کے دورہ چین سے امریکہ اور بھارت دونوں کو ٹھوس پیغام ملا ہے۔خطے کی بدلتی صورتحال پر روس بھی خاموش نہےں رہے گا۔ امرےکہ اور بھارت کے مابےن  نئی ٴٴمنگنیٴٴ سے روس اپنی انگوٹھی بھارت سے واپس لے سکتا ہے۔

index
پاکستان کیا کرے۔۔؟بنےادی سوال مگر اہم۔چونکہ صےاد خود دام مےں آگےا ہے تو پاکستان کے پاس بہترےن موقع ہے کہ  وہ بھی اپنی ترجیحات تبدیل کرے۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں امن کا قیام تو درکنار خواب دیکھنا بھی مشکل نظر آتا ہے۔ پاکستان کے پاس بھی آپشنز موجود ہیں اُن پر غور کرنا چاہئے، یہ پچاس کی دہائی کا دور نہیں کہ ایک ہی قسم کی خارجہ پالیسی انحصار کیا جائے۔ نہ ہی ےہ سرد جنگ کا زمانہ ہے کہ پرانے دشمنوں سے ہاتھ نہ ملاےا جاسکے۔روس پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا ہے تو پاکستان بھی بغل گےر ہوجائے۔  چین کی صورت ایک بہترین دوست موجود ہے،صرف چین پر انحصار نہیں کرنا چاہئے روس کے ساتھ تعلقات کو بھی فروغ دینا چاہئے ۔ دونوں ممالک کے مابین دہشتگردی کی روک تھام، نیو کلیئر پاور کے عدم پھیلائو، افغانستان اور خطے میں استحکام پر معاہدے ہونے چاہئیں۔ پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے معاشی تعلقات کی بہتری کیلئے روس کے ساتھ تعاون بڑھائے۔ نئے تعلقات کو ایک موقع ضرور ملنا چاہئے۔

امریکہ سے معاہدوں پر بھارت کی خوشی بجا ہے لیکن پاکستانی کےوں پرےشان ہےں؟پاکستانےوں کےلئے پرےشانی کی کوئی بات نہےں بلکہ  بھارتی ٴٴسورمائوںٴٴ کو یہ بات ضرور ذہن میں رکھنی چاہئے کہ امرےکہ جس کا دوست ہوا  اُسی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔عظیم امریکی مصنف نوم چومسکی کا خیال ہے کہ امریکہ کا دشمن ہونا اتنا خطرناک نہیں جتنا دوست ہونا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ جس کا دوست ہوا ہے تباہی اُس کا موجب بنی،افغانستان میں روس کو شکست دینے کیلئے افغانیوں سے ہاتھ ملایا تو انہی کی بینڈ بجا دی۔ پاکستان کو اتحادی قرار دیا تو آج دہشتگردی کے بھنور مےں چھوڑ کر اس کے دشمن کو ہی فطری اتحادی قرار دے رہا ہے، صدام کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھائیں، جب الو سےدھا ہوا تو مار دیا، ایران سے دشمنی کر کے دیکھی کچھ ہاتھ نہ آیا تو ٴٴمحبتٴٴ کے لئے بغل گیر ہو گیا، نریندر مودی کو اوباما جی بڑے اچھے لگتے ہیں۔ مودی صاحب! اپنا خیال رکھنا شروع کردےں اوباما نے آپ کو بھی پےار کی ٴٴجپھیٴٴ ڈالی ہے۔