سعودی عرب میں رہنے والے پاکستانیوں کا نوحہ


l5

موبائل کی گھنٹی بجی تو چونک گیا،سیٹ کی ایل سی ڈی پر دیکھا تو دیار مصطفٰیؐ سے بھائی کی کال تھی،میری خوشی تو دیدنی تھی لیکن دوسری جانب ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے صف ماتم بچھی ہو۔رندھی ہوئی،سسکیوں سے بھرپور آواز مجھے بھی رلا گئی،پانچ سال سے سعودی عرب میں محنت مزدوری کرتے بھائی کو ایک تو خاندان کا غم جدائی تھا،دوسرا عربیوں کے ڈھائے جانے والے ظلم کا دکھ۔بتا رہا تھا کہ دس دن سے کوئی کام نہیں مل رہا،مکان میں محصور ہیں،ایک ساتھی مارکیٹ سے کھانے کا سامان لینے گیا تو شرتوں(سپاہیوں)نے پکڑ کر جیل میں ڈال دیا،اب کھانے کو کچھ نہیں،کمانے کو کام نہیں،انتظامیہ کہتی کفیلوں کے پاس کام کرو،کفیل کہتے ہیں کام نہیں،دس دس ہزار ریال(چوبیس سو ریال فیس بقیہ رشوت) اقاموں پر خرچ کرنے کے باوجود گرفتار کیا جارہا ہے،l4پاکستانی سفارتخانہ ہے تو مدد نہیں کررہا،جائیں تو جائیں کہاں؟
اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں 70 لاکھ پاکستانی کام کررہے ہیں جو کہ ملکی آبادی کا تین فیصد ہیں، سب سے زیادہ پاکستانی سعودی عرب میں کام کاج کے سلسلہ میں موجود ہیں،جن کی تعداد 15 لاکھ سے زائد بنتی ہے، ان میں زیادہ تعداد مزدوروں کی ہے، سعودی عرب میں پاکستانیوں کے علاوہ دوسرے ممالک کے لوگ بھی محنت مزدوری کے سلسلہ میں موجود ہیں، ان میں بنگلہ دیشی، بھارتی، سری لنکن، مصری، سوڈانی، فلپائنی و دیگر شامل ہیں، ہیومن رائس واچ کی رپورٹ کے مطابق 9 لاکھ مصری، سوڈانی فلپائنی، 5 لاکھ انڈونیشی اور ساڑھے تین لاکھ سری لنکن باشندے موجود ہیں، ان سب میں پاکستانیوں کی تعداد زیادہ ہے، ہر ماہ تقریباً ہزاروں پاکستانی سعودی عرب منتقل ہو رہے ہیں۔
گھروالوں رشتہ داروں، دوست و احباب کیلئے سونے کا انڈہ سمجھے جانے والے افراددیار غیر میں اس طرح کے مسائل کا شکار ہیں کبھی کسی نے نہیں سوچا۔ ان کے شب و روز اذیت اور جبری مشقت میں گزرتے ہیں، ان پاکستانیوں کیلئے ہر دن ا سورج نئی مصیبتوں کیساتھ طلوع ہوتا ہے، مسلمان ممالک میں سب سے امیر ملک سمجھا جانیوالا یہ ملک اور سب سے بڑی بادشاہت اپنی رعایا پر غیر مسلموں سے بڑھ کر غیر انسانی سلوک کر رہی ہے، دنیا بھر کے مسلمان سعودی عرب کو اپنا مرکز و محور،مکہ اور مدینہ کو آنکھوں کا نورسمجھتے ہیں، آج انہی مقدس شہروں میں نبی رحمت کے امتی کفیلوں کے ظلم کا شکار ہیں،وہاں تو تنخواہ ہی نہیں دی جاتی، مل بھی جائے تو اتنی قلیل کہ ’’گنجی نہائے کیا نچوڑے کیا‘‘
ہر سال کفیلوں کو الگ سے بھاری رقم ادا کرنا پڑتی ہے، یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ کئی گھرانوں کے کئی افراد کے بھوکے مرنے کا سوال ہے جو اپنے پیارے کی آمدن کی آس میں ہوتے ہیں۔
یہ جدید دور کی جدید غلامی ہے جس پر آج سب خاموش ہیں،مانا کہ سمندر کے اس پار تو اپنا حق مانگنے پر پابندی ہے،یہاں کیوں زبانوں پر تالے لگے ہیں،یہاں کی صحافت جس کو لوگ معاشرے کا آئینہ سمجھتے ہیں اپنی ہی حکومت کو اس کا چہرہ دکھا دیں،ہم دلی تسکین کیلئے مغرب،یورپ،امریکہ،برطانیہ کو برا بھلا کہنا تو فرض سمجھتے ہیں،وہاں سے تو انسانی حقوق کی پامالی کی خبر کھبی نہیں آئی،حالانکہ یورپ میں تےئس لاکھ،امریکہ میں سترہ لاکھ اور افریقہ میں پچاس ہزار پاکستانی رہتے ہیں،اس رویے پر سعودی حکام سے منطق پیش کی جاتی ہے کہ غیر سعودیوں کو سعودی عرب کے شہریوں کے برابر حقوق حاصل نہیں۔میرے نبی نے تو خطبہ حجتہ الوداع میں سب کو برابری کی حیثیت دی ہے،بادشاہ اور غلام کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا ہے،آپ توعربی،عجمی،گورے،کالے میں تفریق ختم کرکے عالمی اصول سکھا گئے یہ کون ہوتے ہیں جو انسانوں میں تفریق پیدا کریں؟لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگردی کی وجہ مذہبی انتہا پسندی ہے،میرا جواب نفی ہے،دہشتگری کی اصل وجہ یہ معاشرتی،معاشی تفریق ہے جو دنیا کے امن کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے،یہ جب تک ختم نہیں ہوگی تو کل القائدہ تھے،آج داعش ہیں تو آنیوالے کل میں کسی اور شکل میں ہونگے۔

Advertisements

اب جلتے ہوئے خیمے نہیں دیکھے جاتے


ظلم جتنا بھی طویل ہوجائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ انجام کو پہنچ ہی جاتا ہے۔ خون بہتا ہے تو جم جاتا ہے، اندھیری رات کے بعد روشن صبح نے طلوع ہونا ہی ہوتا ہے،خبر گرم ہے کہ پاکستان اور چین کی کوششوں سے افغان حکومت اور طالبان امن مذاکرات کیلئے تیار ہوگئے ہیں اور رابطے بھی جاری ہیں۔ مہینوں پر محیط پس پردہ کوششوں سے ہونے والے رابطوں میں باقاعدہ مذاکرات کے لئے حتمی مقام طے کیا جارہا ہے۔کابل انتظامیہ نے بھی ان کوششوں اور پاک چین کردار کی تصدیق کردی ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے تو اس حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہا بھی ہے۔ دوسری جانب چین نے مذاکرات کے لئے میزبانی کی پیش کش کی ہے اور پاکستان توسہولت کار بننے کے لئے بھی تیار ہے۔ میڈیا رپورٹس کیمطابق مذاکرات کے لیے بیجنگ، دبئی یا اسلام آباد میں سے کسی ایک جگہ کا انتخاب کیا جائے گا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ 2013ئ میں بھی دونوں فریقین میں بات چیت کاامکان پیدا ہوا تھا۔ طالبان کو قطر کے دارلحکومت دوحہ میں دفتر کھولنے کی اجازت بھی ملی تھی۔ لیکن اُس وقت مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگئے تھے۔اب ایک بار پھر مذاکرات کا سلسلہ شروع ہورہا ہے۔ مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ اِس بار کامیابی کے امکانات کتنے ہیں؟ اِن مذاکرات میں پاکستان اورچین کا کردار کیا ہوتا ہے؟ کیا اِن دونوں ممالک کی کوششوں کے نتیجے میں مذاکرات کامیاب ہوجائیں گے؟ کیونکہ افغانستان میں پاکستان کے بغیر امن کی خواہش کسی مذاق سے کم ہر گز نہیں کیونکہ افغانستان میں امن کے تمام راستے پاکستان سے ہی گزرتے ہیں۔ پورے خطے میں ایسا کوئی ملک نہیں اور نہ ہی کسی ایسے ملک میں صلاحیت ہے کہ وہ پاکستان جیسا کردار ادا کرسکے۔
افغان سکیورٹی حکام نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ کابل نے سنکیانگ کے متعدد علیحدگی پسندوں کو گرفتار کرکے چین کے حوالے کیا ہے تاکہ چین کو ترغیب دلائیں کہ وہ پاکستان پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے۔
پاکستان چین دوستی،نئے منصوبے
پاکستان چین دوستی کو63 سال مکمل ہو چکے ہیں،پاکستان مےں چےن گوادر کو فری پورٹ بنانے کےلئے مصروف عمل ہے،پاکستان چین اقتصادی راہداری کے نتیجے میںگوادر دبئی، سنگاپور اور ہانگ کانگ کی طرح فری پورٹ بن سکتا ہے۔اس راہداری کے قائم ہونے سے افغانستان سمےت خطے کے تمام ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔پاکستان چین اقتصادی راہداری کی بات گذشتہ کافی عرصے سے ہو رہی ہے مگر اس منصوبے کے حوالے سے موجود داخلی اور خارجی خدشات اور تحفظات اپنی جگہ ہیں اور ان سب کی موجودگی میں کیا گوادر کو سنگاپور بنانے کا خواب یا بلوچستان کی قسمت بدلنے کا خواب حقیقت بن سکے گا؟پاکستان چین اقتصادی راہداری چین کے شمال مغربی شہر کاشغر کو پاکستان کے جنوبی حصے سے ملاتی ہے، جس کے ذریعے چین کا رابطہ گلگت بلتستان سے ہو کر بلوچستان میں موجود گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ کے ذریعے بحیرہ عرب تک ہو سکتا ہے،پی سی ای سی منصوبے کا مقصد مواصلات کے علاوہ سمندری اور زمینی تجارت میں اضافہ کرنا ہے،گوادر بندرگاہ کا انتظام ان دنوں ایک چینی سرکاری کمپنی کے پاس ہے اور یہ ایرانی سرحد کے قریب واقع ہے جو آبنائے ہرمز کی جانب جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز خود تیل کی سمندر کے ذریعے نقل و حمل کا اہم راستہ ہے،یہ کوریڈور چین کو مغربی اور وسطی ایشیا سے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کی سہولت دیتا ہے اور ساتھ ہی اس سے پاکستان کے مالی حالات میں بہتری کی توقع بھی کی جا رہی ہے،پاک چین اقتصادی کوریڈور کا مقصد پاکستان کی سڑکوں، ریلوے اور پائپ لائنوں کی تعمیر نو کرنا ہے تاکہ سمندر کے ذریعے سامان کی ترسیل ہو سکے،چین پاکستان میں اس وقت 120 منصوبوں پر کام کر رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں 15 ہزار تک چینی انجینیئر اور تکنیکی ماہرین موجود ہیں،اسی کے حصے کے طور پر اقتصادی زون، صنعتی پارک، بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبے بھی شامل ہیں،چین اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعاون اس وقت 12 ارب ڈالر ہے جو چین کے دیگر ملکوں (جیسا کہ بھارت)کے ساتھ تجارتی تعلق کے مقابلے میں کم ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی توازن اس وقت چین کے حق میں ہے جو پاکستان کے ساتھ چین کی دور رس تعلقات کی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔دس ہزار پاکستانی طلبہ چین میں زیرِ تعلیم ہیں اور اس کے علاوہ ایک بڑی تعداد میں چینی پاکستانی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم ہیں، جیسے کہ اسلامک یونیورسٹی اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوجز، جہاں ایک کنفیوشس سینٹر بھی قائم ہے،پی سی ای سی منصوبے کا مقصد مواصلات کے علاوہ سمندری اور زمینی تجارت میں اضافہ کرنا ہے اور یہ پاکستان کو چینی علاقے کاشغر سے ملائے گا۔پی سی آئی کا ایک اہم مقصد پاکستانی اور چینی لوگوں کے درمیان ثقافتی تبادلہ بڑھانا ہے۔ یہ اپنی قسم کا پہلا ادارہ ہے جس نے چینی زبان کو پاکستانی تعلیمی اداروں کے نصاب میں متعارف کیا ہے۔ پی سی آئی کے مطابق ملک میں تین ہزار طالب علم چینی سیکھ رہے ہیں۔دفاعی تعاون کے علاوہ اس معاہدے کے بعد گذشتہ ایک سال کے دوران توجہ اب ثقافتی اور اقتصادی تعاون پر ہے۔رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ایک تہائی چینی پاکستان کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں جبکہ 23 فیصد بھارت کے بارے میں اور 42 فیصد امریکہ کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہیں۔ دوسری جانب 2013 میں تحقیقاتی تنظیم پیو کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق 81 فیصد پاکستانی چین کو پسند کرتے ہیں،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ فرق کس بات کی وضاحت کرتا ہے،کیا اس کی وجہ پاکستان میں سلامتی کے حوالے سے غیر پائیدار صورت حال ہو سکتی ہے، جس سے ماضی میں چینی بھی متاثر ہوچکے ہیں؟    "یاد رہے کہ چین کا پاکستان کی فوجی خود انحصاری میں نمایاں کردار رہا ہے اور 2008 سے 2013 کے درمیان آدھے سے زیادہ چینی ہتھیاروں کا وصول کنندہ پاکستان تھا،مئی 2014 میں جہاں نواز حکومت نے اپنا پہلا سال مکمل کیا ہے وہیں چین پاکستان تعلقات کو 63 سال پورے ہو رہے ہیں اور پی سی ای سی جیسے بڑے منصوبوں پر کام آگے بڑھ رہا ہے،اس حوالے سے سکیورٹی خدشات پر بھی بظاہر قابو پانے کی حکمتِ عملی نظر آتی ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خطے کے بدلتے حالات میں یہٴٴحکمتِ عملیٴٴکس حد تک کارآمد ہو گی اور پاکستان جہاں اپنے داخلی سلامتی کے خطرات سے دوچار ہے کیا وہ ایک "دوست ملک”کے مفادات کی حفاظت کر پائے گا؟
ان تمام منصوبوں کی تکمےل تب ہی ممکن ہے جب خطے مےں امن ہوگا،امن تب ہوگا جب افغانستان مےں سکون ہوگا،یہ سب حقائق اپنی جگہ، مگر کہانی میں ایک ٹوئسٹ بھی ہے اور وہ ٹوئسٹ ہیں خطے کے دیگر ممالک کا کردار۔ ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ امریکا افغانستان میں اُسامہ کو پکڑنے نہیں بلکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے آیا تھا۔ جس کے لیے اُس نے جہاں لاکھوں لوگوں کو اِس کام کے لیے بھینٹ چڑھایا وہیں اپنے لاکھوں، کروڑوں ڈالر بھی ضائع کیے۔ اب افغانستان کے انسانوں سے تو شاید اُس کو کچھ لینا دینا نہ ہو، مگر اپنے لاکھوں، کروڑوں ڈالر کے لیے تو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اِس لیے یہ خدشہ ہے کہ اگرچہ وہ واپسی کا اعلان کرچکا ہے، مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ جانے کے بعد وہ اِس خطے کو آزاد چھوڑدے اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ افغانستان میں بتدریج بھارت کے اثرورسوخ میں اضافہ کررہا ہے۔
اگر میری یہ بات غلط ہے اور اللہ کرے غلط ہو تو پھر افغانستان، پاکستان اور پوری عالمی برادری تو یہاں قیام امن کے لئے مخلصانہ تعاون کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ اب آچکا ہے کہ برسوں سے جلتے ہوئے پہاڑوں، دہکتے ہوئے ریگزاروں میں محبت امن کے پھول کھلائے جائیں،امن کی پیاسی سرزمین کو پیار سے سیراب کیا جائے، جنگ کے ترانوں کو محبت کے سریلے نغموں سے مات دی جائے۔ اگرچہ ماضی میں یہ تجربہ ناکام ہوا ہے مگر اِس بار اُمید اور خواہش تو یہی ہے کہ افغانستان میں 13 سالہ آگ اور خون کے کھیل کے بعد محبت امن وآشتی کے پھول کھلیں گے۔
اب تو تارےک سوےرے نہےں دےکھے جاتے
      مجھ سے بکھرے ہوئے لاشے نہیں دیکھے جاتے
                           خالق ارض و سمائ رحم کی بارش کر دے
                                      اب تو جلتے ہوئے خیمے نہیں دیکھے جاتے

میں ڈھونڈنے کو زمانے میں جب وفا نکلا


terrorism

حکمران جماعت کے نمائندے، کارندے، سازندے سب چیخ چیخ کر اپنی گڈ گورننس کا پرچار کررہے ہوتے ہیں۔ ٹی وی آن کرو، اخبارات کھنگالو یا سوشل میڈیا پر جاو، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ملک میں امن قائم کردیا، اب ہرطرف محبت کے پھول کھلتے ہیں، کہیں سے کوئی گولی، دھماکے کی آواز نہیں آتی، ہم نے تیل سستا کر دیا۔ کرائے نچلی سطح پر لے آئے ہیں، عوام کو ریلیف دینے کیلئے آلو، بینگن، گاجر، مولی، چینی، آٹا سب کچھ سستا کردیا، روٹی دودھ بھی عوام کی پہنچ میں آگئے ہیں، کہنے کی حد تک تو سب اچھا ہے!!

ابھی کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے کہ حکومتی صاحب تعریفوں کے پل باندھ ہی رہے تھے کہ پشاور کی امام بارگاہ میں حملے کی اطلاع آگئی، جس میں کئی شہری مارے گئے، ٹی وی آف کرکے بازار پہنچا تو وہی پرانی قیمتیں، وہی عوام کا رونا، دھونا، جب پٹرول 112 روپے لیٹر تھا تب بھی روٹی 6 روپے کی تھی آج 70 روپے لٹر ہے تو وہی روٹی 6 روپے کی ہے کل پراٹھا 15 روپے کا تھا آج 20 روپے کا ملتا ہے، دودھ کی قیمت وہی 65 سے 70روپے لیٹر، فروٹ خریدنے جائیں تو وہی پرانی قیمتیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ مہنگائی، سبزی کا بھی وہی حال چاہے وہ چاہے کسی خوانچہ فروش سے لی جائے یا شیشے کی بنی دکان سے۔

سفر کریں تو مسافروں اور بسوں، ویگنوں کے ڈرائیوروں، کنڈیکٹروں کے درمیان ’’جنگ ‘‘چھڑی ہوتی ہے، حکومت نے کرائے نامے تو دے دیئے لیکن انہیں لاگو کون کروائے گا انتظامیہ بھی لاعلم اور عوام بھی لاعلم نظر آتے ہیں۔ پنجاب کے خادم اعلیٰ نے لاہور میں ٹریفک کو قابو کرنے کے لئے 2010ء میں لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی بنائی تھی۔ جو بہت تگ و دو کرنے کے باوجود اوورچارجنگ پر قابو نہیں پاسکی۔ وجہ اسے انفورسمنٹ انسپکٹرز کی کمی بتائی جاتی ہے، بیچارے کریں تو کیا کریں۔ لاہور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے لیکن انسپکٹرز کی تعداد صرف 180 ہے،جو ڈینگی مہم میں بھی ڈیوٹیاں دیتے ہیں، سیکرٹری آر ٹی اے کے ساتھ بھی صلاحیتیں کھپاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ 4 بجے تک تو دکھائی دیتے ہیں لیکن اُس کے بعد اللہ حافظ۔ جس وجہ سے ٹرانسپورٹرز دن کو تو ایماندار نظر آتے ہیں مگر رات ہوتے ہی تیور بدل لیتے ہیں۔

میرے ملک کے وزیر اعظم، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلٰی اگر عوام کے اتنے ہی خیر خواہ ہیں تو اپنی انتظامیہ میں اضافہ کریں، منتھلیوں کے بجائے عوام کی سننے والی پرائس کنٹرول کمیٹیاں بنائیں۔ پورے پاکستان میں لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی طرز کا ادارہ بنایا جائے ان کی نفری اتنی ہو کہ ان کو ہر جگہ پہنچنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے، اِس طرح ایک تو ٹریفک مسائل سے چھٹکارا مل جائے گا جبکہ دوسرا فائدہ نوجوانوں کو نوکریوں کی صورت میں ملے گا۔

67 برس ہو گئے پاکستان بنے، اس عمر میں تو بچے نہیں ملک بھی بالغ ہوجاتے ہیں، ہم ہیں کہ وہی روش، وہی طرز حکمرانی۔ کبھی کراچی میں امن و امان کا مسئلہ، آپریشن کا آغاز، دھرنوں کا پھوٹ پڑنا، پٹرول کی عدم دستیابی، پٹرول بحران کے ذمہ داروں کا عدم تعین، پھر ملک بھر کا اندھیروں میں ڈوب جانا، پھر تیل کی قیمتوں میں کمی اور تیل کا پٹرول پمپوں سے غائب ہوجانا۔ آج کل خبریں ہیں کہ اب چینی چور شکر کا بحران پیدا کرنے کے لیے سر جوڑ چکے ہیں اور حکومتی نابغوں نے اس بحران سے متوقع آمدنی کا حساب کتاب کرنے کے لیے کیلکولیٹر پکڑ لیے ہیں۔

کتنے ظلم کی بات ہے کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی اور ہمارے بچے آج بھی گندگی کے ڈھیر سے روزی تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ یہاں 1 دن کا بچہ ہو یا 99 سال کا بوڑھا ہر کوئی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا مقروض ہے۔ حکومت عوام کے نام پر انتہائی کڑی شرائط پر قرض حاصل کرتی ہے اور اس قرض سے جشن مناتی ہے۔ نوجوانواں کے پاس ڈگریاں ہیں لیکن روز گار نہیں، ہسپتال ہیں مگر سہولیات نہیں، تعلیمی ادارے ہیں مگر تعلیم نہیں، اسلام آباد کی ظالم سرکار یہ جان لیں کہ جس دن غریب اور مفلوک الحال عوام متحد ہوگئے وہ محلات اور بنگلوں میں رہنے والوں کے اقتدار کا آخری دن ہوگا۔

میاں صاحب! ہر ڈھلتی شام کے ساتھ زندگی کا ایک دن غروب ہوجاتا ہے، صبح کا سورج کس نے دیکھا؟ پاکستان میں اقتدار کا سورج تو دو فوجی ٹرکوں اور چند مفاد پرست سیاستدانوں کی ٹھوکر پر ہوتا ہے۔ جس نے تکبر کیا، دھڑام سے نیچے آ گرا۔ خواہ ٹرک ہو یا لفٹر، کرسی ہو یا کنٹینر۔ جو چیز خدا کو ناپسند ہےوہ ٹھیک ہو ہی نہیں سکتی۔ پاکستان کے لیے جانیں دینے والے غریب، مسکین، عاجز اور مومن لوگ تھے اور اس خطہ ارض کو یرغمال بنانے والوں کا انجام بھی سامنے ہے۔ شہادت حصول پاکستان کے لہو کا نام ہے، حصول اقتدار کے ’’مقتولوں‘‘کا نہیں۔ بولنے سے پہلے تولنے کی ضرورت ہے۔ سیلف ریسپکٹ خودداری کا جنازہ نکل چکا ہے۔ سیاست میں مخالفین پر رعب و دبدبہ سیاسی حکمت عملی سمجھی جاتی ہے لیکن پاکستان میں انداز سیاست (بازاری) ہوتا جا رہا ہے۔


150215081702_india_pakistan_fans_world_cup_976x549_reuters(1)

Game is not a war,game is only passion,excitement and essence of mind.If you take it as war it disturb you and your mind.

پاک فوج کا ادھورا سچ


141006202207_major_general_asim_bajwa_640x360_epa_nocredit

چودہ سال سے دہشگردی کی بھٹی مےں سلگتی قوم کی فوج کے منہ سے سچ نکل ہی گےا،پاک فوج کے ترجمان نے آخر ہمسائے کے روپ مےں چھپے دشمن کا بھانڈا پھوڑ دےا،جس کا اندےشہ  پہلے دن سے ہی ظاہر کےا جا رہا تھا بتانے مےں اتنی دےر کےوں؟
ترجمان پاک فوج نے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کرنےوالے گروپ کی نشاندہی بھی کردی ہے،ساتھ ساتھ حملے کی پےشگی اطلاعات سے لاعلمی کا بھی اظہار کےا ہے ان کا کہنا ہے کہ  تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان میں بدامنی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔اے پی اےس حملہ کرنےوالوں نے 4 راتیں جمرود میں گزارےںاور کارروائی سے قبل تہکال میں امام مسجد کے گھر ٹھہرے ،افغانستان کے صوبے کنٹر میں موجود  ملا فضل اللہ نے کارروائی کا حکم دیا۔انہوں نے امرےکی ڈرون حملوں کو بلا جواز قرار دےتے ہوئے ان کی مذمت بھی کی ہے۔بھارت پاکستان کی دہشتگردی کےخلاف جنگ کو کمزور کرنے کےلئے کنٹرول لائن پر دراندازی کرتا رہتا ہے۔باجوہ صاحب نے اےک بار پھرانکشاف کےا ہے کہ اے پی اےس حملے مےں 27افراد کا گروپ شامل ہے،پاک فوج کے ترجمان اس سے قبل فرما چکے ہےں کہ دہشگرد نو تھے جن مےں سے سات مارے گئے،اب بالکل نئی تعداد بتا دی ہے اور ساتھ ےہ بھی کہا ہے کہ آپ ہماری بات پر ےقےن کرہی لےں۔
حملہ آور چاہے جتنے ہی تھے،مارے گئے ےا زندہ ہےں،سوال پاک فوج کی کرےڈےبلٹی پر اٹھ رہے ہےں،عالمی برادری پاکستانےوں کی  قربانےوں پر شک کررہی ہے، ڈرون حملوں کی مذمت بھی کرتے ہےں اور شہرےوں کو مرتے ہوئے  بھی بے بسی سے دےکھتے ہےں،اگر ڈرون حملے پاکستان کی اجازت سے نہےں ہورہے تو روکے کےوں نہےں جاتے؟کےا پاکستان کا دفاع اتنا کمزور ہے کہ جو آئے جےسے آئے حملہ کرکے چلا جائے،خدانخواستہ کل بھارت کوئی ڈرون بھےج دےتا ہے ےا افغانستان سے حملہ ہوتا ہے کےا اسے بھی نہےں روکا جائےگا؟امرےکی تو پہلے بھی کئی بار کہ چکے ہےں کہ ڈرون حملے پاکستان کی اجازت سے ہورہے ہےں۔

مےڈےا کو ےہ کہ کر چپ کراےا گےا ہے کہ مناسب وقت آنے پر شورش زدہ علاقے کا دورہ کرواےا جائے گا،سوال  ےہ پےدا ہوتا ہے کہ پوری دنےا مےں مےڈےا کو جنگ کے مےدانوں مےں کورےج کی آزادی ہے تو پاک آرمی کےوں ہچکچا رہی ہے، اسرائےل کی فلسطےن پر بمباری کو پوری دنےا نے دےکھا،لمحہ بہ لمحہ تصاوےر بھی جاری ہوتی رہیں،عراق امرےکہ جنگ کی کورےج بھی ہوتی رہی،شام کے علاقوں مےں بھی مےڈےا نمائندے پہنچے ہےں۔
رہی بات بھارت کی تو  اگر طالبان کے پےچھے ہے تو اسے موثر جواب کےوں نہےں دےا جاتا؟ ےہ معاملہ اقوام متحدہ مےں کب پےش کےا جائے گا؟ بھارت کو بھارت کی زبان مےں ہی کےوں جواب نہےں دےا جاتا ہے۔
خوشی ہے کہ پاک فوج نے دےر سے سہی دشمن کےخلاب لب تو کھولے ہےں،اس کو ذمہ دار تو ٹھہراےا ہے،آج بھی پاکستان کی ہر ماں پاک فوج کو اپنے لخت جگر حوالے کرنے کوتےار ہے،بچہ بچہ ےہی چاہتا ہے کہ مےں فوجی بنوں،بہنےں شہےد بھائےوں پر فخر کرتی ہےں،بوڑھے باپ جب شہےد بےٹوں کے ماتھے چومتے ہےں توجگر پھٹنے کو آتا ہے،پھر بھی وہ اپنا دوسرا،تےسرا سب بےٹے قربان کرنے کو تےار ہوتا ہے،کبھی نہےں دےکھا کہ اےک ان پڑھ ٹرک ڈرائےور اپنے ٹرک کے پےچھے لکھوائے ہوکہ سےاستدانوں کو سلام،ےا کسی اور کی تصوےر لگائے ہوئے ہو،وہاں لفظ نظر آتے ہےں تو پاک فوج کو سلام کے نظرآتے ہےں،تصوےر لگی ہوتی ہے تو کسی آرمی آفےسر کی۔قوم صرف سچ جاننا چاہتی ہے ادھورا نہےں پورا پورا سچ۔ےہ اےک دو تو کےا پےنسٹھ کی جنگ کی طرح بےس کروڑ سر اپنے ملک کےلئے کٹنے کوتےار ہونگے۔