میں ڈھونڈنے کو زمانے میں جب وفا نکلا


terrorism

حکمران جماعت کے نمائندے، کارندے، سازندے سب چیخ چیخ کر اپنی گڈ گورننس کا پرچار کررہے ہوتے ہیں۔ ٹی وی آن کرو، اخبارات کھنگالو یا سوشل میڈیا پر جاو، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ملک میں امن قائم کردیا، اب ہرطرف محبت کے پھول کھلتے ہیں، کہیں سے کوئی گولی، دھماکے کی آواز نہیں آتی، ہم نے تیل سستا کر دیا۔ کرائے نچلی سطح پر لے آئے ہیں، عوام کو ریلیف دینے کیلئے آلو، بینگن، گاجر، مولی، چینی، آٹا سب کچھ سستا کردیا، روٹی دودھ بھی عوام کی پہنچ میں آگئے ہیں، کہنے کی حد تک تو سب اچھا ہے!!

ابھی کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے کہ حکومتی صاحب تعریفوں کے پل باندھ ہی رہے تھے کہ پشاور کی امام بارگاہ میں حملے کی اطلاع آگئی، جس میں کئی شہری مارے گئے، ٹی وی آف کرکے بازار پہنچا تو وہی پرانی قیمتیں، وہی عوام کا رونا، دھونا، جب پٹرول 112 روپے لیٹر تھا تب بھی روٹی 6 روپے کی تھی آج 70 روپے لٹر ہے تو وہی روٹی 6 روپے کی ہے کل پراٹھا 15 روپے کا تھا آج 20 روپے کا ملتا ہے، دودھ کی قیمت وہی 65 سے 70روپے لیٹر، فروٹ خریدنے جائیں تو وہی پرانی قیمتیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ مہنگائی، سبزی کا بھی وہی حال چاہے وہ چاہے کسی خوانچہ فروش سے لی جائے یا شیشے کی بنی دکان سے۔

سفر کریں تو مسافروں اور بسوں، ویگنوں کے ڈرائیوروں، کنڈیکٹروں کے درمیان ’’جنگ ‘‘چھڑی ہوتی ہے، حکومت نے کرائے نامے تو دے دیئے لیکن انہیں لاگو کون کروائے گا انتظامیہ بھی لاعلم اور عوام بھی لاعلم نظر آتے ہیں۔ پنجاب کے خادم اعلیٰ نے لاہور میں ٹریفک کو قابو کرنے کے لئے 2010ء میں لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی بنائی تھی۔ جو بہت تگ و دو کرنے کے باوجود اوورچارجنگ پر قابو نہیں پاسکی۔ وجہ اسے انفورسمنٹ انسپکٹرز کی کمی بتائی جاتی ہے، بیچارے کریں تو کیا کریں۔ لاہور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے لیکن انسپکٹرز کی تعداد صرف 180 ہے،جو ڈینگی مہم میں بھی ڈیوٹیاں دیتے ہیں، سیکرٹری آر ٹی اے کے ساتھ بھی صلاحیتیں کھپاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ 4 بجے تک تو دکھائی دیتے ہیں لیکن اُس کے بعد اللہ حافظ۔ جس وجہ سے ٹرانسپورٹرز دن کو تو ایماندار نظر آتے ہیں مگر رات ہوتے ہی تیور بدل لیتے ہیں۔

میرے ملک کے وزیر اعظم، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلٰی اگر عوام کے اتنے ہی خیر خواہ ہیں تو اپنی انتظامیہ میں اضافہ کریں، منتھلیوں کے بجائے عوام کی سننے والی پرائس کنٹرول کمیٹیاں بنائیں۔ پورے پاکستان میں لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی طرز کا ادارہ بنایا جائے ان کی نفری اتنی ہو کہ ان کو ہر جگہ پہنچنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے، اِس طرح ایک تو ٹریفک مسائل سے چھٹکارا مل جائے گا جبکہ دوسرا فائدہ نوجوانوں کو نوکریوں کی صورت میں ملے گا۔

67 برس ہو گئے پاکستان بنے، اس عمر میں تو بچے نہیں ملک بھی بالغ ہوجاتے ہیں، ہم ہیں کہ وہی روش، وہی طرز حکمرانی۔ کبھی کراچی میں امن و امان کا مسئلہ، آپریشن کا آغاز، دھرنوں کا پھوٹ پڑنا، پٹرول کی عدم دستیابی، پٹرول بحران کے ذمہ داروں کا عدم تعین، پھر ملک بھر کا اندھیروں میں ڈوب جانا، پھر تیل کی قیمتوں میں کمی اور تیل کا پٹرول پمپوں سے غائب ہوجانا۔ آج کل خبریں ہیں کہ اب چینی چور شکر کا بحران پیدا کرنے کے لیے سر جوڑ چکے ہیں اور حکومتی نابغوں نے اس بحران سے متوقع آمدنی کا حساب کتاب کرنے کے لیے کیلکولیٹر پکڑ لیے ہیں۔

کتنے ظلم کی بات ہے کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی اور ہمارے بچے آج بھی گندگی کے ڈھیر سے روزی تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ یہاں 1 دن کا بچہ ہو یا 99 سال کا بوڑھا ہر کوئی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا مقروض ہے۔ حکومت عوام کے نام پر انتہائی کڑی شرائط پر قرض حاصل کرتی ہے اور اس قرض سے جشن مناتی ہے۔ نوجوانواں کے پاس ڈگریاں ہیں لیکن روز گار نہیں، ہسپتال ہیں مگر سہولیات نہیں، تعلیمی ادارے ہیں مگر تعلیم نہیں، اسلام آباد کی ظالم سرکار یہ جان لیں کہ جس دن غریب اور مفلوک الحال عوام متحد ہوگئے وہ محلات اور بنگلوں میں رہنے والوں کے اقتدار کا آخری دن ہوگا۔

میاں صاحب! ہر ڈھلتی شام کے ساتھ زندگی کا ایک دن غروب ہوجاتا ہے، صبح کا سورج کس نے دیکھا؟ پاکستان میں اقتدار کا سورج تو دو فوجی ٹرکوں اور چند مفاد پرست سیاستدانوں کی ٹھوکر پر ہوتا ہے۔ جس نے تکبر کیا، دھڑام سے نیچے آ گرا۔ خواہ ٹرک ہو یا لفٹر، کرسی ہو یا کنٹینر۔ جو چیز خدا کو ناپسند ہےوہ ٹھیک ہو ہی نہیں سکتی۔ پاکستان کے لیے جانیں دینے والے غریب، مسکین، عاجز اور مومن لوگ تھے اور اس خطہ ارض کو یرغمال بنانے والوں کا انجام بھی سامنے ہے۔ شہادت حصول پاکستان کے لہو کا نام ہے، حصول اقتدار کے ’’مقتولوں‘‘کا نہیں۔ بولنے سے پہلے تولنے کی ضرورت ہے۔ سیلف ریسپکٹ خودداری کا جنازہ نکل چکا ہے۔ سیاست میں مخالفین پر رعب و دبدبہ سیاسی حکمت عملی سمجھی جاتی ہے لیکن پاکستان میں انداز سیاست (بازاری) ہوتا جا رہا ہے۔

Advertisements

One thought on “میں ڈھونڈنے کو زمانے میں جب وفا نکلا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s