اب جلتے ہوئے خیمے نہیں دیکھے جاتے


ظلم جتنا بھی طویل ہوجائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ انجام کو پہنچ ہی جاتا ہے۔ خون بہتا ہے تو جم جاتا ہے، اندھیری رات کے بعد روشن صبح نے طلوع ہونا ہی ہوتا ہے،خبر گرم ہے کہ پاکستان اور چین کی کوششوں سے افغان حکومت اور طالبان امن مذاکرات کیلئے تیار ہوگئے ہیں اور رابطے بھی جاری ہیں۔ مہینوں پر محیط پس پردہ کوششوں سے ہونے والے رابطوں میں باقاعدہ مذاکرات کے لئے حتمی مقام طے کیا جارہا ہے۔کابل انتظامیہ نے بھی ان کوششوں اور پاک چین کردار کی تصدیق کردی ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے تو اس حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہا بھی ہے۔ دوسری جانب چین نے مذاکرات کے لئے میزبانی کی پیش کش کی ہے اور پاکستان توسہولت کار بننے کے لئے بھی تیار ہے۔ میڈیا رپورٹس کیمطابق مذاکرات کے لیے بیجنگ، دبئی یا اسلام آباد میں سے کسی ایک جگہ کا انتخاب کیا جائے گا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ 2013ئ میں بھی دونوں فریقین میں بات چیت کاامکان پیدا ہوا تھا۔ طالبان کو قطر کے دارلحکومت دوحہ میں دفتر کھولنے کی اجازت بھی ملی تھی۔ لیکن اُس وقت مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگئے تھے۔اب ایک بار پھر مذاکرات کا سلسلہ شروع ہورہا ہے۔ مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ اِس بار کامیابی کے امکانات کتنے ہیں؟ اِن مذاکرات میں پاکستان اورچین کا کردار کیا ہوتا ہے؟ کیا اِن دونوں ممالک کی کوششوں کے نتیجے میں مذاکرات کامیاب ہوجائیں گے؟ کیونکہ افغانستان میں پاکستان کے بغیر امن کی خواہش کسی مذاق سے کم ہر گز نہیں کیونکہ افغانستان میں امن کے تمام راستے پاکستان سے ہی گزرتے ہیں۔ پورے خطے میں ایسا کوئی ملک نہیں اور نہ ہی کسی ایسے ملک میں صلاحیت ہے کہ وہ پاکستان جیسا کردار ادا کرسکے۔
افغان سکیورٹی حکام نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ کابل نے سنکیانگ کے متعدد علیحدگی پسندوں کو گرفتار کرکے چین کے حوالے کیا ہے تاکہ چین کو ترغیب دلائیں کہ وہ پاکستان پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے۔
پاکستان چین دوستی،نئے منصوبے
پاکستان چین دوستی کو63 سال مکمل ہو چکے ہیں،پاکستان مےں چےن گوادر کو فری پورٹ بنانے کےلئے مصروف عمل ہے،پاکستان چین اقتصادی راہداری کے نتیجے میںگوادر دبئی، سنگاپور اور ہانگ کانگ کی طرح فری پورٹ بن سکتا ہے۔اس راہداری کے قائم ہونے سے افغانستان سمےت خطے کے تمام ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔پاکستان چین اقتصادی راہداری کی بات گذشتہ کافی عرصے سے ہو رہی ہے مگر اس منصوبے کے حوالے سے موجود داخلی اور خارجی خدشات اور تحفظات اپنی جگہ ہیں اور ان سب کی موجودگی میں کیا گوادر کو سنگاپور بنانے کا خواب یا بلوچستان کی قسمت بدلنے کا خواب حقیقت بن سکے گا؟پاکستان چین اقتصادی راہداری چین کے شمال مغربی شہر کاشغر کو پاکستان کے جنوبی حصے سے ملاتی ہے، جس کے ذریعے چین کا رابطہ گلگت بلتستان سے ہو کر بلوچستان میں موجود گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ کے ذریعے بحیرہ عرب تک ہو سکتا ہے،پی سی ای سی منصوبے کا مقصد مواصلات کے علاوہ سمندری اور زمینی تجارت میں اضافہ کرنا ہے،گوادر بندرگاہ کا انتظام ان دنوں ایک چینی سرکاری کمپنی کے پاس ہے اور یہ ایرانی سرحد کے قریب واقع ہے جو آبنائے ہرمز کی جانب جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز خود تیل کی سمندر کے ذریعے نقل و حمل کا اہم راستہ ہے،یہ کوریڈور چین کو مغربی اور وسطی ایشیا سے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کی سہولت دیتا ہے اور ساتھ ہی اس سے پاکستان کے مالی حالات میں بہتری کی توقع بھی کی جا رہی ہے،پاک چین اقتصادی کوریڈور کا مقصد پاکستان کی سڑکوں، ریلوے اور پائپ لائنوں کی تعمیر نو کرنا ہے تاکہ سمندر کے ذریعے سامان کی ترسیل ہو سکے،چین پاکستان میں اس وقت 120 منصوبوں پر کام کر رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں 15 ہزار تک چینی انجینیئر اور تکنیکی ماہرین موجود ہیں،اسی کے حصے کے طور پر اقتصادی زون، صنعتی پارک، بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبے بھی شامل ہیں،چین اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعاون اس وقت 12 ارب ڈالر ہے جو چین کے دیگر ملکوں (جیسا کہ بھارت)کے ساتھ تجارتی تعلق کے مقابلے میں کم ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی توازن اس وقت چین کے حق میں ہے جو پاکستان کے ساتھ چین کی دور رس تعلقات کی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔دس ہزار پاکستانی طلبہ چین میں زیرِ تعلیم ہیں اور اس کے علاوہ ایک بڑی تعداد میں چینی پاکستانی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم ہیں، جیسے کہ اسلامک یونیورسٹی اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوجز، جہاں ایک کنفیوشس سینٹر بھی قائم ہے،پی سی ای سی منصوبے کا مقصد مواصلات کے علاوہ سمندری اور زمینی تجارت میں اضافہ کرنا ہے اور یہ پاکستان کو چینی علاقے کاشغر سے ملائے گا۔پی سی آئی کا ایک اہم مقصد پاکستانی اور چینی لوگوں کے درمیان ثقافتی تبادلہ بڑھانا ہے۔ یہ اپنی قسم کا پہلا ادارہ ہے جس نے چینی زبان کو پاکستانی تعلیمی اداروں کے نصاب میں متعارف کیا ہے۔ پی سی آئی کے مطابق ملک میں تین ہزار طالب علم چینی سیکھ رہے ہیں۔دفاعی تعاون کے علاوہ اس معاہدے کے بعد گذشتہ ایک سال کے دوران توجہ اب ثقافتی اور اقتصادی تعاون پر ہے۔رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ایک تہائی چینی پاکستان کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں جبکہ 23 فیصد بھارت کے بارے میں اور 42 فیصد امریکہ کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہیں۔ دوسری جانب 2013 میں تحقیقاتی تنظیم پیو کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق 81 فیصد پاکستانی چین کو پسند کرتے ہیں،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ فرق کس بات کی وضاحت کرتا ہے،کیا اس کی وجہ پاکستان میں سلامتی کے حوالے سے غیر پائیدار صورت حال ہو سکتی ہے، جس سے ماضی میں چینی بھی متاثر ہوچکے ہیں؟    "یاد رہے کہ چین کا پاکستان کی فوجی خود انحصاری میں نمایاں کردار رہا ہے اور 2008 سے 2013 کے درمیان آدھے سے زیادہ چینی ہتھیاروں کا وصول کنندہ پاکستان تھا،مئی 2014 میں جہاں نواز حکومت نے اپنا پہلا سال مکمل کیا ہے وہیں چین پاکستان تعلقات کو 63 سال پورے ہو رہے ہیں اور پی سی ای سی جیسے بڑے منصوبوں پر کام آگے بڑھ رہا ہے،اس حوالے سے سکیورٹی خدشات پر بھی بظاہر قابو پانے کی حکمتِ عملی نظر آتی ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خطے کے بدلتے حالات میں یہٴٴحکمتِ عملیٴٴکس حد تک کارآمد ہو گی اور پاکستان جہاں اپنے داخلی سلامتی کے خطرات سے دوچار ہے کیا وہ ایک "دوست ملک”کے مفادات کی حفاظت کر پائے گا؟
ان تمام منصوبوں کی تکمےل تب ہی ممکن ہے جب خطے مےں امن ہوگا،امن تب ہوگا جب افغانستان مےں سکون ہوگا،یہ سب حقائق اپنی جگہ، مگر کہانی میں ایک ٹوئسٹ بھی ہے اور وہ ٹوئسٹ ہیں خطے کے دیگر ممالک کا کردار۔ ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ امریکا افغانستان میں اُسامہ کو پکڑنے نہیں بلکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے آیا تھا۔ جس کے لیے اُس نے جہاں لاکھوں لوگوں کو اِس کام کے لیے بھینٹ چڑھایا وہیں اپنے لاکھوں، کروڑوں ڈالر بھی ضائع کیے۔ اب افغانستان کے انسانوں سے تو شاید اُس کو کچھ لینا دینا نہ ہو، مگر اپنے لاکھوں، کروڑوں ڈالر کے لیے تو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اِس لیے یہ خدشہ ہے کہ اگرچہ وہ واپسی کا اعلان کرچکا ہے، مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ جانے کے بعد وہ اِس خطے کو آزاد چھوڑدے اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ افغانستان میں بتدریج بھارت کے اثرورسوخ میں اضافہ کررہا ہے۔
اگر میری یہ بات غلط ہے اور اللہ کرے غلط ہو تو پھر افغانستان، پاکستان اور پوری عالمی برادری تو یہاں قیام امن کے لئے مخلصانہ تعاون کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ اب آچکا ہے کہ برسوں سے جلتے ہوئے پہاڑوں، دہکتے ہوئے ریگزاروں میں محبت امن کے پھول کھلائے جائیں،امن کی پیاسی سرزمین کو پیار سے سیراب کیا جائے، جنگ کے ترانوں کو محبت کے سریلے نغموں سے مات دی جائے۔ اگرچہ ماضی میں یہ تجربہ ناکام ہوا ہے مگر اِس بار اُمید اور خواہش تو یہی ہے کہ افغانستان میں 13 سالہ آگ اور خون کے کھیل کے بعد محبت امن وآشتی کے پھول کھلیں گے۔
اب تو تارےک سوےرے نہےں دےکھے جاتے
      مجھ سے بکھرے ہوئے لاشے نہیں دیکھے جاتے
                           خالق ارض و سمائ رحم کی بارش کر دے
                                      اب تو جلتے ہوئے خیمے نہیں دیکھے جاتے

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s