سعودی عرب میں رہنے والے پاکستانیوں کا نوحہ


l5

موبائل کی گھنٹی بجی تو چونک گیا،سیٹ کی ایل سی ڈی پر دیکھا تو دیار مصطفٰیؐ سے بھائی کی کال تھی،میری خوشی تو دیدنی تھی لیکن دوسری جانب ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے صف ماتم بچھی ہو۔رندھی ہوئی،سسکیوں سے بھرپور آواز مجھے بھی رلا گئی،پانچ سال سے سعودی عرب میں محنت مزدوری کرتے بھائی کو ایک تو خاندان کا غم جدائی تھا،دوسرا عربیوں کے ڈھائے جانے والے ظلم کا دکھ۔بتا رہا تھا کہ دس دن سے کوئی کام نہیں مل رہا،مکان میں محصور ہیں،ایک ساتھی مارکیٹ سے کھانے کا سامان لینے گیا تو شرتوں(سپاہیوں)نے پکڑ کر جیل میں ڈال دیا،اب کھانے کو کچھ نہیں،کمانے کو کام نہیں،انتظامیہ کہتی کفیلوں کے پاس کام کرو،کفیل کہتے ہیں کام نہیں،دس دس ہزار ریال(چوبیس سو ریال فیس بقیہ رشوت) اقاموں پر خرچ کرنے کے باوجود گرفتار کیا جارہا ہے،l4پاکستانی سفارتخانہ ہے تو مدد نہیں کررہا،جائیں تو جائیں کہاں؟
اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں 70 لاکھ پاکستانی کام کررہے ہیں جو کہ ملکی آبادی کا تین فیصد ہیں، سب سے زیادہ پاکستانی سعودی عرب میں کام کاج کے سلسلہ میں موجود ہیں،جن کی تعداد 15 لاکھ سے زائد بنتی ہے، ان میں زیادہ تعداد مزدوروں کی ہے، سعودی عرب میں پاکستانیوں کے علاوہ دوسرے ممالک کے لوگ بھی محنت مزدوری کے سلسلہ میں موجود ہیں، ان میں بنگلہ دیشی، بھارتی، سری لنکن، مصری، سوڈانی، فلپائنی و دیگر شامل ہیں، ہیومن رائس واچ کی رپورٹ کے مطابق 9 لاکھ مصری، سوڈانی فلپائنی، 5 لاکھ انڈونیشی اور ساڑھے تین لاکھ سری لنکن باشندے موجود ہیں، ان سب میں پاکستانیوں کی تعداد زیادہ ہے، ہر ماہ تقریباً ہزاروں پاکستانی سعودی عرب منتقل ہو رہے ہیں۔
گھروالوں رشتہ داروں، دوست و احباب کیلئے سونے کا انڈہ سمجھے جانے والے افراددیار غیر میں اس طرح کے مسائل کا شکار ہیں کبھی کسی نے نہیں سوچا۔ ان کے شب و روز اذیت اور جبری مشقت میں گزرتے ہیں، ان پاکستانیوں کیلئے ہر دن ا سورج نئی مصیبتوں کیساتھ طلوع ہوتا ہے، مسلمان ممالک میں سب سے امیر ملک سمجھا جانیوالا یہ ملک اور سب سے بڑی بادشاہت اپنی رعایا پر غیر مسلموں سے بڑھ کر غیر انسانی سلوک کر رہی ہے، دنیا بھر کے مسلمان سعودی عرب کو اپنا مرکز و محور،مکہ اور مدینہ کو آنکھوں کا نورسمجھتے ہیں، آج انہی مقدس شہروں میں نبی رحمت کے امتی کفیلوں کے ظلم کا شکار ہیں،وہاں تو تنخواہ ہی نہیں دی جاتی، مل بھی جائے تو اتنی قلیل کہ ’’گنجی نہائے کیا نچوڑے کیا‘‘
ہر سال کفیلوں کو الگ سے بھاری رقم ادا کرنا پڑتی ہے، یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ کئی گھرانوں کے کئی افراد کے بھوکے مرنے کا سوال ہے جو اپنے پیارے کی آمدن کی آس میں ہوتے ہیں۔
یہ جدید دور کی جدید غلامی ہے جس پر آج سب خاموش ہیں،مانا کہ سمندر کے اس پار تو اپنا حق مانگنے پر پابندی ہے،یہاں کیوں زبانوں پر تالے لگے ہیں،یہاں کی صحافت جس کو لوگ معاشرے کا آئینہ سمجھتے ہیں اپنی ہی حکومت کو اس کا چہرہ دکھا دیں،ہم دلی تسکین کیلئے مغرب،یورپ،امریکہ،برطانیہ کو برا بھلا کہنا تو فرض سمجھتے ہیں،وہاں سے تو انسانی حقوق کی پامالی کی خبر کھبی نہیں آئی،حالانکہ یورپ میں تےئس لاکھ،امریکہ میں سترہ لاکھ اور افریقہ میں پچاس ہزار پاکستانی رہتے ہیں،اس رویے پر سعودی حکام سے منطق پیش کی جاتی ہے کہ غیر سعودیوں کو سعودی عرب کے شہریوں کے برابر حقوق حاصل نہیں۔میرے نبی نے تو خطبہ حجتہ الوداع میں سب کو برابری کی حیثیت دی ہے،بادشاہ اور غلام کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا ہے،آپ توعربی،عجمی،گورے،کالے میں تفریق ختم کرکے عالمی اصول سکھا گئے یہ کون ہوتے ہیں جو انسانوں میں تفریق پیدا کریں؟لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگردی کی وجہ مذہبی انتہا پسندی ہے،میرا جواب نفی ہے،دہشتگری کی اصل وجہ یہ معاشرتی،معاشی تفریق ہے جو دنیا کے امن کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے،یہ جب تک ختم نہیں ہوگی تو کل القائدہ تھے،آج داعش ہیں تو آنیوالے کل میں کسی اور شکل میں ہونگے۔

Advertisements

One thought on “سعودی عرب میں رہنے والے پاکستانیوں کا نوحہ

  1. پچھلے سال کینیا نے بدسلوکی کے متعدد واقعات کے سامنے آنے کے بعد ملک میں سعودی عرب کے لیے بھرتی کرنے والی کمپنیوں کو کام کرنے سے روک دیا تھا اور انڈونیشیا کے نئے صدر نے خواتین کے بیرونِ ملک نوکرانیوں کے طور پر کام کرنے پر پابندی لگانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

    پسند کریں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s