بلا تبصرہ


index
جماعت اسلامی انتخابات کے شفاف نہ ہونے کا رونا پھر سے رو رہی ہے،پتا نہیں ان کی شفافیت کا پیمانہ کیا ہے،کہیں ان کی جیت ہی تو شفافیت نہیں،بھائی!انتخابات ایک دنگل ہے پہلوانوں کا،یہاں پہلوان ہی جیتیں گے،رہی بات تحریک انصاف سے اتحاد کی تو یہ ایسے ہے جیسے دودھ میں گندگی ملا دی جائے،گندگی کبھی بھی شفافیت کو قبول نہیں کرے گی۔یہ انتخابی سیاست آپ کے بس کا کام نہیں،آپ پریشر گروپ ہیں وہی رہیں تو آپ کیلئے بہتر ہوگا،میرا مقصد آپ کا دل دکھانا نہیں اوقات بتانا مقصود تھا۔

azharthiraj@yahoo.com

Advertisements

By-Polling in NA_246


By Syed Jawad Shoib

نائن زیرو یاترا این اے دوسو چھیالیس میں فتح کا تاج کس کے سر سجے گا، تیئس اپریل کو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔۔ جیت اسی کی ہوگی، جو جنتا کی امنگوں کا مرکز قرار پائے گا۔ این اے دو چھیالیس کے انتخابی معرکے میں سیاسی گرما گرمی نے اس بات مجبور کیا کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھا جائے، عین الیقن کی نیت سے جماعت اسلامی کی فیملی ریلی کی پیشہ وارانہ کوریج کی، پھر رخ کیا، ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کا۔ زمینی حقائق کیا کہتے ہیں، لوگ کس کےساتھ ہیں، جنتا کیا چاہتی ہے، ضروری ہے کہ عوامی رائے لی جائے۔ عائشہ منزل کےقریب بوٹی،کلیجی،کباب سے پیٹ پوجا کی، پھر امین بھائی کے ٹھیلے سے ادرک ملے لمکا ڈرنک کے دو گلاس پی کر معدے میں کچھ ٹھنڈک پہنچائی، ۔عزیز آباد کےبارونق علاقے میں جگہ جگہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے انتخابی بینرز اور پرچم نظر آئے اور کہیں کہیں تحریک انصاف کے بینرز نے پارٹی کی موجودگی ک احساس دلایا۔۔۔۔ پیٹ بھرا، تو دماغ نے کام کرنا شروع کیا، سو حقائق کا جائزہ لینے نائن زیرو پہنچے،۔۔ راستے میں ایم کیو ایم کے انتخابی کیمپ میں گلگت بلتستانی نوجوانوں کو بھنگڑے ڈالتے دیکھتے ہوئے ہم مکا چوک پہنچے ۔۔جسے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے پوسٹرز، پارٹی پرچموں اور برقی قمقموں سے سجایا گیاہے ۔۔مکا چوک سے نائن زیرو جانے والے راستے کا مرکزی بیر ئیر غائب نظر آیا جو یقینا رینجرز کے آپریشن کے دوران ہٹا دیا گیا تھا تاہم اندرونی گلیوں میں بیر ئیر موجود تھے پوچھنے پر بتایا گیا کہ سیکیورٹی وجوہات ہیں ۔۔مکا چوک پرنوجوانوں ،خواتین اور بچوں کا رش نظر آیا جو جناح گراونڈ میں منعقدہ کلچرل شو میں شرکت کیلئے آئے تھے۔ ہم پہلی بار بغیر تلاشی اور روک ٹوک کے اس راستے سے موٹر سائیکل سمیت عزیز آًباد میں داخل ہوگئے۔۔۔نائن زیرو کے اطراف کی تمام گلیوں کو برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے ایسا محسوس ہورہاتھا کہ جیسے جشن آزادی کاسماں ہو۔۔۔ مختلف گلیوں سے گزر کر نائن زیرو پہنچے اور پھر واک تھرو گیٹ سے گزر کر جامہ تلاشی کے بعد جناح گراونڈ میں داخل ہوئے۔ جہاں محفل موسیقی جاری تھی ،،جا بجا فیملیز ٹولیوں میں بیٹھیں خوش گپیاں کرتی نظر آئیں اور خواتین کی اکثریت اسٹیج سے جاری محفل سنگیت سے لطف اندوز ہورہی تھیں۔۔۔۔جناح گراونڈ میں جو جوش وخروش دیکھنے کو ملا وہ یقینا ایم کیو ایم کے چاہنے والوں کا اپنی پارٹی سے لگاو کا ثبوت تھا جو دوست مجھے اچھی طرح جانتے ہیں وہ سوچ رہے ہونگے کہ آج کیا لکھ رہاہوں ،،لیکن جو دیکھا سوچا بغیر کسی تعصب کے تحریر کردوں ، ۔۔۔۔کچھ دن پہلے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو آئے اور انہوں نے دعوی کیا کہ وہ کراچی فتح کرنے آئے ہیں، انہوں نے اور انکے دیگر رہنماوں نے الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم خوف کی سیاست کرتی ہے اور انکا میڈیٹ ٹھپہ مینڈیٹ ہے اور یہ بھی دعوی کیا کہ ان کے دورہ جناح گراونڈ نے ایم کیو ایم کاخوف ختم کردیا اور کراچی کے عوام اب تبدیلی یعنی انکے ساتھ ہیں ۔۔۔۔میں یہاں اس جلسے کا ذکر بھی ضرور کروں گا جو اتوار کے روز شاہراہ پاکستان پر منعقد ہوا جو بدنظی کیساتھ ساتھ پچھلی نشستوں کو پر بھی نہ کرسکا ۔۔۔۔پھر کدھر گئی وہ تبدیلی اور چاہنے والی عوام۔۔۔۔
۔۔ہم نے تو سوچا تھا کہ فیڈرل بی ایریا کے بلاکوں کریم آباد،عزیزآباد ،حسین آباد،عائشہ منزل،یاسین آباد نصر آًباد،موسی کالونی،دستگیر،بندھانی کالونی ،لیاقت آًباد ،ایف سی ایریا،الکرم اسکوائر،انچولی اور دیگر علاقوں میں تینوں جماعتوں کی شاندار انتخابی مہم ،تحریک انصاف،ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کی ریلیاں ،کارنر میٹنگز،کیمپس نظر آئیں گے لیکن تحریک انصاف کے دو انتخابی کیمپ کریم آباد اور واٹَر پمپ پر نظر آئے ۔۔ ایک مرکزی کیمپ کریم آباد پر فردوس شمیم نقوی، جو تحریک انصاف کے رہنما ہیں، انکی بلڈنگ میں قائم ہے وہاں کچھ کارکن موجود نظر آئے جبکہ دوسرا واٹر پمپ پر پی ٹی آئی کی رہنما نادیہ ربانی کے گھر کے باہر قائم ہےجہاں کارکن تو دکھائی نہ دیے۔ لیکن حفاظت پر مامود دو پولیس والے اونگھتے نظر آئے ۔۔۔جبکہ دوسری جانب مختلف علاقوں میں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کی انتخابی مہم نظر آئی ان دونوں جماعتوں کی ریلیاں ،کارنر میٹنگز اور انتخابی دفاتر،جھنڈے اور بینر اندرونی گلیوں میں بھی نظر آئے۔۔بعض علاقوں میں موٹر سائیکل اور کار پر فیملیز کو بھی دیکھا جو ایم کیوایم یا جماعت اسلامی کا پرچم لگائے گزر رہی تھیں یہاں سوال یہ ہے جس کا جواب میں ڈھونڈتا رہا کہ میڈیا پر تحریک انصاف کی انتخابی مہم سے جو تاثر قائم ہوا تھا وہ کیوں نہیں دکھ رہا تھا۔دماغ میں خیال آیا کہ جس جماعت کا کارکن اور ہمدرد انتخابی مہم کیلئے نہیں نکل سکا وہ 23 اپریل کو کیا خاک ووٹ دینے نکلے گا۔۔۔۔۔ اگر عمران خان نے ایم کیو ایم کا خوف ختم کردیا ہے توآخر کیا وجہ ہے ایم کیو ایم کا خوف ختم ہونے کے باوجود تحریک انصاف کا کارکن کریم آباد اور واٹر پمپ کے علاوہ کہیں جھنڈے تک نہ لگاسکا۔۔آخر کیا وجہ کہ تحریک انصاف کے امیدوار بغیر رینجرز اور پولیس کی سیکیورٹی کے جاوید نہاری تک بھی نہیں پہنچ سکتے۔۔۔جبکہ دوسری جانب جماعت اسلامی کے امیدوار کو ہم نے بغیر پولیس سیکیورٹی کے مختلف علاقوں میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے دیکھا کیا جماعت کے کارکن کو ایم کیو ایم کے کارکن سے خوفزدہ نہیں ؟؟ کیا ایم کیو ایم کے خلاف جماعت اسلامی کے رہنما تقاریر اور کارکن نعرے نہیں لگاتے،،ہاں لیکن ایک بات ضرور نوٹ کی خوف ضرور ختم ہوا جو نائن زیرو پر آپریشن سےا یم کیو ایم کے کارکنوں پر قائم ہوا تھا ۔۔۔جوش وخروش ضرور بڑھا،،ووٹ بنک مضبوط ضرور ہوا ،کارکن فعال ضرور ہوا،،ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم ضرور چلی،،منتخب نمائندوں نے این اے 246 کے عوام سے ملاقاتیں بھی کیں اور انہیں گلے سے بھی لگایا انکے گلے شکوے بھی دور کئے۔۔۔۔۔اور آج کے نائن زیرو یاترا کے بعد میں یہ کہنے میں عار محسوس نہیں کررہا کہ شفاف انتخاب میں بھی اس حلقے میں ایم کیو ایم کی پوزیشن مضبوط ہوچکی ہے لیاقت آباد ایم کیو ایم کی جیت میں اہم کردار ادا کرے گا جبکہ فیڈرل بی ایریا کے تمام بلاکس جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔۔۔۔۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ایم کیو ایم کو ایک بار پھر نئی زندگی دینے کے اسائنمنٹ پر آئے تھے۔۔۔؟؟؟۔اگر کسی کیلئے کوئی آسمانی مدد نہ آئی تو اب تک کی انتخابی مہم کے مطابق مجھے 23 اپریل کو شفاف انتخاب ہوئے تو بظاہر ایم کیو ام نمبر ون جماعت اسلامی نمبر دو اور تحریک انصاف تیسرے نمبر پر نظر آرہی ہے ۔۔۔لیکن سمجھ یہ نہیں آرہی کہ زمینی حقائق کے برخلاف سیاسی فیصلے عمران خان خود کر رہے ہیں یا ایک بار پھر۔۔۔۔۔۔۔کھلاڑی وہ خود میدان عزیزآباد کا اور انہیں امپائر کی انگلی اٹھنے کی امید ہے ۔۔ کیونکہ کپتان کی سیاست سے”بھوکا”، "ننگا”،”لٹا پٹا”،”کالا کلوٹا” مہاجر ۔۔۔۔۔پھر زندہ ہورہاہے۔

ژی جن پنگ صاحب!جی آیاں نوں


 china-pak-presidents-afp-400
دوست آئے اور راہداریوں میں پھول نچھاور نہ ہوں ایسا ہونہیں سکتا،پھردوست بھی ایسا جسے ہم لائف لائن سمجھتے ہوں،حقیقت میں دوست ہوتا ہی وہی ہے جو پلکوں کی حرکت سے پہلے ہی جان جائے کہ دوست کی ’’جان‘‘خطرے میں ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ہمسایہ بھی ہو۔ ہمسایہ دوست اللہ کی رحمت اور ہمسایہ دشمن زحمت ہوتا ہے۔بھارت،افغانستان پاکستان کے ایسے ہمسائے ہیں جن پر کبھی اعتماد یا بھروسہ نہیں کیا جاسکتا،چین،پاکستان کا ایک ایسا دوست ملک ہے جس کی دوستی پر پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کو اعتماد ہے،بلکہ ہر پاکستانی اس پر ناز کرتا ہے،پی کے سرفراز کی طرح اس دوست نے کبھی بھی جگو کو دھوکہ نہیں دیا۔گزشتہ برس اسلام آباد میں ہونے والے ’’تپسوی دھرنوں‘‘ نے اس دوستی اور لائف لائن میں دراڑ ڈالنے کی جو کوشش کی تھی،چینی صدر ژی جن پنگ کی آج آمد سے وہ دراڑ ختم ہوجائے گی۔پاکستان کے شہروں اسلام آباد اور لاہور میں استقبال کی ایسی تیاریاں کی گئی ہیں جیسے دولہے کیلئے پنڈال سجایا جاتا ہے،واشنگٹن اور دلی کی فضا اس خوشی پر کچھ سوگوار نظر آتی ہے، ایسا کیوں ہے آگے چل کربات کرتے ہیں۔

azhar.thiraj@facebook.com

پاکستانی فوج ہی کیوں؟


index

جنگ کیلئے تو پاکستانی فوج جیسا جذبہ اور تجربہ چاہیے ہوتا ہے۔ پاکستان کے وجود میں آنے سے آج تک پاک فوج جنگیں ہی تو لڑتی آئیہے۔ کبھی مکار پڑوسی کے خلاف تو کبھی اپنی دھرتی میں چھپے غداروں سے برسر پیکار۔

پاکستان نہ صرف ایٹمی طاقت ہے بلکہ اس کے پاس جدید ترین میزائل، ڈرون ٹیکنالوجی اور دنیا کی بہترین اور مسلم دنیا کی سب سے طاقتور فوج بھی ہے۔ جو دنیا کی کسی طاقت کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جاتے جاتے یہ بات بھی یاد کروانا چاہتا ہوں کہ  اسرائیل کے خلاف عربوں نے جنگ جیتی تو اس کے پیچھے بھی پاکستانی فوج تھی۔

اُمید ہے اب اِس سوال کا جواب مل ہی گیا ہوگا کہ آخر پاکستانی فوجی ہی کیوں؟

شرمندگی ہی شرمندگی


کل اسمبلی میں تھوکا چاٹنے والے کپتان جب نائن زیرو والے حلقے میں گئے تو ایسے لگ رہا تھا جیسے کچھ کریں گے،ایم کیو ایم کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،ہوا کیا۔۔۔۔۔شرمندگی ہی شرمندگی
متحدہ کے لوگوں نے بھاؤ اور بھابھی سے اچھا نہیں کیا،پہلے پھول نچھاور کیے،پھر ڈنڈے دکھائے۔۔۔وہ بھاگتے نہ تو کیا کرتے،عوام بیوقوف ہے جو کپتان کو لیڈر سمجھ رہی ہے،لیڈر کبھی میدان سے نہیں بھاگتا ڈٹ کر مقابلہ کرتا،خود مار کھاتا ہے لیکن کارکن کو آنچ تک نہیں آنے دیتا۔۔اسکا فرق ابھی سے کرلیں تو بہتر ہوگا۔

این اے 246: شہر کی سیاسی بالادستی کی جنگ


2013427155318

پوری دنیا کی نظریں اس وقت یمن پر ہیں کہ وہاں ایران اپنی بالادستی قائم رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے یا سعودی بالادستی برقرار رہتی ہے۔ کراچی میں بھی ان دنوں کچھ ایسا ہی کھیل کھیلا جا رہا ہے، جہاں حلقہ این اے 246 یمن بنا ہوا ہے جہاں ایم کیو ایم اپنی بالادستی برقرار اور تحریک انصاف قائم کرنا چاہتیے۔ ہ

وسطی شہر کی خالص اردو آْبادی کی اکثریتی آْبادی پر مشتمل اس حلقے میں 1988 سے متحدہ قومی موومنٹ بلاوقفہ کامیابی حاصل کرتی آئی ہے گذشتہ انتخابات کے علاوہ باقی تمام انتخابات میں جماعت اسلامی کی دوسری پوزیشن رہی ہے۔

پی ٹی آئی کی قیادت کی کوشش ہے کہ جماعت اسلامی اس حلقے میں ان کا ساتھ دے لیکن جماعت اسلامی کی قیادت تاحال ماننے کو تیار نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے ایک سینیئر رہنما کے مطابق حلقہ این اے 246 سے انھیں تنظیمی قیادت ملتی رہی ہے اور یہاں ایسے گھرانے ہیں جو نسل در نسل جماعت کے ساتھ چلے آ رہے ہیں اس لیے وہ تحریک انصاف کو یہ حلقہ ہرگز نہیں دیں گے جو آگے چل کر اس پر اپنا حق ہی جما لیں۔

گذشتہ عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کر کے جماعت اسلامی نے بائیکاٹ کیا تھا، لیکن اس کے باوجود 12 بجے تک حلقہ این اے 246 میں جماعت اسلامی کے امیدوار کو دس ہزار ووٹ مل چکے تھے، جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار کے حصے میں 35 ہزار سے زائد ووٹ آئے تھے۔ جماعت اسلامی کے مقامی رہنما کے مطابق جس ووٹ کو تحریک انصاف اپنا سمجھ رہی ہے وہ دراصل جماعتی ووٹر تھا جو اپنی تنظیم کا ہر حال میں وفا دار ہے۔

حکمران پاکستان پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کی غیر اعلانیہ حمایت کی ہے اور وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاھ کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ انھوں نے خود کو غیرجانبدار رکھا ہے۔ گذشتہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو دو ہزار کے قریب ووٹ ملے تھے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا موقف ہے کہ یہاں پشتون آْبادی نہیں اس لیے وہ اس ضمنی انتخابات کا حصہ نہیں بنے۔

پی ٹی آئی شہر میں پیر جمانے کی کوشش کر رہی ہے

حلقہ این اے 246 میں آغا خانی کمیونٹی کا بھی بڑا اور اہم ووٹ بینک ہے جو ماضی میں فیصلہ کن ثابت ہوتا رہا ہے۔ کریم آْباد، شریف آباد، حسین آْباد اور دیگر علاقوں کی رہائشی اور تجارت سے وابستہ یہ کمیونٹی ماضی میں خوشی یا بد دلی سےایم کیو ایم کو ووٹ دیتی رہی ہے۔

کیا اب یہ ووٹ تحریک انصاف کو مل سکتا ہے؟

سینیئر صحافی اعجاز شیخ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا ماضی میں کالعدم تحریک طالبان کے لیے نرم رویہ آغا خانی ووٹروں کی دوری کی وجہ بن سکتا ہے۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف بنیادی طور پر موسمی بخار ہے اس لیے کوئی بھی اس شہر کی اہم سیاسی قوت سے ٹکر لینا نہیں چاہتا۔

تحریک انصاف کی جانب سے ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر کے قریب انٹری دے کر وہاں جلسے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔ تنظیم کے امیدوار عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ شہر میں جو خوف کا ماحول طاری ہے وہ اس کو توڑنا چاہتے ہیں۔

کراچی میں ہر کمیونٹی کو ایم کیو ایم سے شکایت رہی ہے۔ گذشتہ چار دہائیوں میں پٹھان، پنجابی، سندھی اور بلوچ کمیونٹی اور ایم کیو ایم میں کسی نہ کسی صورت میں ٹکراؤ کی سیاست رہی ہے۔ یہ تمام کمیونٹیز ایک قسم کا اینٹی ایم کیو ایم ووٹ بینک بن چکا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تحریک انصاف کی نظر انھی پر ہے۔

موجودہ ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی کامیابی دشوار ہے لیکن نائن زیرو پر دو درجن لوگوں کا جانا اور بار بار ایم کیو ایم کے اکثریتی علاقوں میں ریلیاں نکالنا، ان سب کوششوں سے تحریک انصاف یہ تاثر پیدا کرنا چاہتی ہے کہ اس شہر میں اگر کوئی ایم کیو ایم کو چیلنج کرسکتا ہے تو وہ صرف تحریک انصاف ہے ۔

سندھ حکومت نے حلقہ این اے 246 میں پولیس کے ساتھ رینجرز کی تعیناتی کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اگر زیادہ سختی کی جائے اور رینجرز پولنگ سٹشینوں کے اندر اور باہر موجود رہتی ہے تو ایم کیو ایم کے پاس یہ راستہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ فی الحال اس انتخاب عمل کا حصہ ہی نہ بنے۔

تجزیہ نگار اعجاز شیخ کے مطابق گذشتہ انتخابات میں ایم کیو ایم کے امیدوار نبیل گبول ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔ ضمنی انتخابات میں ویسے بھی ٹرن آؤٹ کم رہتا ہے اگر ووٹ کم پڑیں اور کم ملیں تو اس صورت حال میں ایم کیو ایم اپنے غیر مقبول ہونے کا الزام لینے کے بجائے ہو سکتا ہے کہ اس عمل سے ہی باہر نکل جائے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ابھی تک یہی تاثر دیا جا رہا ہے کہ ان کی پوزیشن مستحکم ہے۔ اگر بقول تجزیہ نگاروں کے ایم کیو ایم بائیکاٹ کی طرف جاتی بھی ہے تو اس کا فائدہ جماعت اسلامی کو ہو سکتا ہے جو کراچی میں اردو آبادی کی دوسری بڑی جماعت ہے نہ کہ تحریک انصاف کو۔

ویسے بھی صولت مرزا کے بیان اور نائن زیرو پر چھاپے اور نوجوانوں کی آنکھوں اور ہاتھوں پر بندھی ہوئی پٹیوں نے اردو بولنے والی آبادی کو ایک بار پھر ایم کیو ایم کے قریب کر دیا ہے جس کا اظہار عام بات چیت میں بھی کیا جا رہا ہے

Thank you BBC

rallly

وزیراعظم صاحب!کسان مر رہا ہے


kisan
آپ کو کیسا عجیب لگے گا جب آپ کسی کام پر سال بھر محنت کریں اور جب پھل حاصل کرنے کا وقت آئے تو کوئی اور لے جائے، پکی پکائی فصل اٹھا لی جائے،آپ کو اپنی فروخت کردہ اجناس کی رقم ہی نہ ملے یا ایسا ہوکہ آپ کی فصل پر خرچہ تو کئی گنا زیادہ ہو اور آمدن نہ ہونے کے برابر،یا کہ آپ مقروض ہوجائیں،حالانکہ آپ نے دن رات کرکے اس فصل کو اپنی اولاد کی طرح پالا ہو،ٹھٹھرتی راتوں میں سیراب کیا ہو،آگ برساتی دھوپ میں ہل چلائے ہوں،پیٹھ پر ٹینکیاں اٹھا کر سپرے کیے ہوں

کاش یہ خواب ہوتا،یہ خواب نہیں،صاحب! یہ حقیقت ہے،سندھ میں ایک ’’ہاری‘‘ پنجاب میں ایک کسان،خیبر پی کے میں ایک کاشتکار اور بلوچستان میں ایک نواب،سردار کا پسا ہوا مزارع اپنی اجناس لے کر سڑکوں پر ہے،کپاس کی فصل پر وقت،دولت اور خون پسینہ سب خرچ ہوتا ہے جب ایک کسان مارکیٹ میں لاتا ہے تو کوڑیوں کے بھاؤ فروخت ہوتی ہے،حالانکہ کپاس سے بننے والی مصنوعات کئی گنا مہنگی بیچی جاتی ہیں،اسی طرح گنا جب شوگر ملز کو فروخت کیا جاتا ہے تو قیمت نچلی سطح تک پہنچ جاتی ہے،جب کسان کے پاس کچھ نہیں رہتا تو چینی مہنگی کر دی جاتی ہے،شوگر ملیں خریدے گئے گنے کی کئی ماہ تک پیمنٹ ہی نہیں کرتیں،یہی حال گندم اور دیگر فصلوں کا ہے۔کبھی کبھی تو قدرت بھی مہربان نہیں ہوتی،پکی پکائی فصل کو یاتو سیلاب بہا لے جاتا ہے یا پھر ژالہ باری کام دکھا جاتی ہے،کسان بچارا جائے تر جائے کہاں۔۔!!

دوسری طرف سمجھ میں نہیں آتا کہ پاکستان کی ستر فیصد آبادی کے ساتھ اتنی بے حسی کیوں؟کسان جب اناج اور سبزی لے کرشہر میں آتا ہے توپولیس کے سپاہی سے لے کر آڑھتی تک سب لوٹتے ہیں۔سارا سال جانور پالتا ہے اور سال میں ایک دن یعنی عید قربان پر انہیں بیچنے کی کوشش کرتا ہے کہ شاید اس طرح کچھ خرچہ نکل آئے۔تب سارے ٹی وی چینل اور اخبارات آسمان سرپر اٹھا لیتے ہیں کہ اس سال جانور بہت مہنگے ہوگئے،یہ نہیں دیکھتے کہ کسان سارا سال قربان ہوتا ہے ایک دن باقی لوگ قربانی دے دیں تو کیا فرق پڑتا ہے،سوال یہ ہے کہ کیا صرف جانور ہی مہنگے ہوتے ہیں؟ دیگر اشیاء ضروری مہنگی نہیں ہوتیں؟ قیمتوں میں ہر سال بیس فی صد اضافہ نہیں ہوتا؟اپنی تنخواہوں میں پندرہ بیس فی صد اضافہ تو سرکاری ملازمین،سیاستدانوں کو اچھا لگتا ہے لیکن کسان کی فصل کی قیمت بڑھ جائے وہ گوارا نہیں۔ہر طرف اتنا ہنگامہ کیا جاتا ہے کہ کہ اتنی زیادتی! اب ہر چیز کی قیمت بڑھ جائے گی۔جیسے پہلے تو کسی چیز کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوتا۔

میری ایوانوں میں بیٹھے بڑے سیاستدانوں سے عرضی ہے کہ کبھی جاکر دیکھئے جو کسان کپاس پیدا کرتا ہے آج بھی کھیت میں ایک بنیان اور لنگی پہنے ننگے پاؤں کھڑا ہے،جب کہ اس کی کپاس کے سوداگر درجنوں ٹیکسٹائل ملز لگا چکے ہیں۔کسان کی اولادیں وہیں کھیتوں میں رل رہی ہیں ٹیکسٹائل اور شوگر ملز مالکان کے بچے بیرون ملک سے پڑھ کر کمزوروں کو لوٹنے کے نئے طریقے سیکھ کر لوٹتے ہیں۔
بڑی اچھی بات ہے کہ ملک بھر میں سڑکوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں،ریلوے کے نئے ٹریک لگائے جارہے ہیں،پاک چائنا اکنامک کوریڈور بھی بنایا جا رہا ہے،پن بجلی،ایٹمی بجلی کے پلانٹ بھی لگنے چاہئیں،صنعتوں کو فروغ ملنا چاہئے،گاڑیاں بھی سستی ہوئی ہیں،دہشتگردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔کئی بھاگ گئے ہیں تو کئی مارے جا چکے ہیں،لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال سابقہ حکومت سے قدرے بہتر ہورہی ہے۔خارجہ امور میں اہم اہمیت دی جارہی ہے،پسماندہ علاقوں کے طلباء کو اعلٰی تعلیم کے مفت مواقع فراہم کیے جارہے ہیں،ایک لاکھ قابل طالبعلموں کو لیپ ٹاپ بھی دیے جارہے ہیں،پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت باعزت روزگار کیلئے گاڑیاں بھی دے رہی ہے،ہنرمند نوجوانوں کو آسان شرائط پر قرضے بھی دیے جا رہے ہیں۔

میاں صاحب سڑکیں بنائیں،پل بنائیں،بڑی بڑی انڈسٹریاں لگائیں،یہ سب کام کریں۔ لیکن ملک کا ستر فیصد انسان جن کا نام کسان ہے،آپ کی سرد مہری سے مررہا ہے،میرے ملک کا کسان مررہا ہے،بچا سکتے ہیں تو بچا لیجئیے۔
Pakistan Daily Life

War in Yemen: Another America-inspired Intervention


blood
Yemen is under fire now. Saudis have followed the footsteps of their master in forming a coalition to bomb a country. The master is not only backing but is also providing tactical support. With the Nuclear Treaty with Iran on cards, America did not want to create an impression that it may change its policy in the Middle East. The Arab rulers fear that America may now turn soft towards Iran. America had to strike a balance. So it allowed Saudi Arab to have a go at Yemen. 

The duplicity of Western approach can be seen in almost every intervention they make in the region. In Syria and Libya, the West supported the rebels, in Yemen and Egypt, they supported the Governments. Even in Iraq, they had used the ISIS push in that country to get rid of Maliki who was considered soft towards Iran. The humanity and justice are no criteria in support or opposition. The only criterion is the political expediency.  Come what may, the American puppets in the region must survive and the opponents must go.

During last four decades the Middle East has been the centre of various interventions by America and Russia, with almost everyone failing to achieve the stated objectives, and a few mass movements that emerge through social, political and ideological campaigns. Such movements can fail, but they have certainly the greater chances of success. The Islamic Revolution of Iran, the rise of Hamas and Hezbollah and the Ikhwan Movement in some Arab countries are movements that have achieved mixed successes. The militant movements, even if their concerns and grievances are genuine, tend to fail often resulting in hugely disastrous consequences for the people as well as their active members. Still more unfortunate is the truth that the global forces of hegemony use them for their own ends. They would initially support them, and when their mission is accomplished, they would abandon them or in case they turn rebels would destroy them. This happened with al-Qaeda, which was created and used by West against the erstwhile Soviet Union. The Soviet Empire disintegrated, and America did no longer need al-Qaeda. When the Movement started expanding its reach in countries which were of economically or politically strategic importance for West, they invented or found a pretext to destroy them. In the process, tens of thousands of innocent Afghans lost their lives.

In Yemen the government is confronting the Houthis who are shown to have the backing of Iran. Houthis being Shiites gives West another opportunity to fan the Shia-Sunni hatred. What is being forgotten is that Houthis belong to Zaidi sect of Shiism. Zaidi are considered closer to Sunnis than any other Shia sect. Houthis in Yemen have had the support of a large section of Sunni population as well, some of whom are switching positions following the Saudi intervention. Ideally, Saudis should have played a role in bringing peace through reconciliation between different sections of society. Ways should have been found out to have a government, which has representation of all sections of Yemenese. But Saudis have chosen the option of war. It has played the same game as America plays.

If immediate corrective steps are not taken, it will end up in another bloody civil war. The most important factor that threatens peace in Muslim World is the rivalry between Saudi Arab and Iran. Saudis have been made to believe by their Western masters that Iran is much more dangerous than Israel. Time and again, reports of a covert understanding between Saudi Arab and Israel have been surfacing in the international media. Iran too has to feel a greater responsibility towards earning the confidence of its Arabian neighbors. An ideological aggression against “Wahhabi” will not help its cause. Iran today has much larger support in the Muslim World than Saudi Arab rulers. Muslim world views America as its top enemy and anyone siding with America is loathed. Iran’s popularity will rise further if it can enter into an understanding with Saudi Arab and other Arab countries, especially Qatar and UAE. If it can convince the Arabs that Western powers cannot harm them if they act in unison, it will help the cause of peace in a big way. Considering the long rivalry between them, it is not an easy task. But it has to be achieved if Muslim ummah is to be safeguarded against the machinations of West.

Pakistani need to stress on both Saudi Arab and Iran the need to bury their differences. Pakistan being a Sunni majority country, there have always been attempts to fan the Sunni-Shia divide. This has to be stopped at all costs. Using sectarianism for political ends is a sin which cannot be forgiven. It is high time Muslim World presented its united front to the world.