وزیراعظم صاحب!کسان مر رہا ہے


kisan
آپ کو کیسا عجیب لگے گا جب آپ کسی کام پر سال بھر محنت کریں اور جب پھل حاصل کرنے کا وقت آئے تو کوئی اور لے جائے، پکی پکائی فصل اٹھا لی جائے،آپ کو اپنی فروخت کردہ اجناس کی رقم ہی نہ ملے یا ایسا ہوکہ آپ کی فصل پر خرچہ تو کئی گنا زیادہ ہو اور آمدن نہ ہونے کے برابر،یا کہ آپ مقروض ہوجائیں،حالانکہ آپ نے دن رات کرکے اس فصل کو اپنی اولاد کی طرح پالا ہو،ٹھٹھرتی راتوں میں سیراب کیا ہو،آگ برساتی دھوپ میں ہل چلائے ہوں،پیٹھ پر ٹینکیاں اٹھا کر سپرے کیے ہوں

کاش یہ خواب ہوتا،یہ خواب نہیں،صاحب! یہ حقیقت ہے،سندھ میں ایک ’’ہاری‘‘ پنجاب میں ایک کسان،خیبر پی کے میں ایک کاشتکار اور بلوچستان میں ایک نواب،سردار کا پسا ہوا مزارع اپنی اجناس لے کر سڑکوں پر ہے،کپاس کی فصل پر وقت،دولت اور خون پسینہ سب خرچ ہوتا ہے جب ایک کسان مارکیٹ میں لاتا ہے تو کوڑیوں کے بھاؤ فروخت ہوتی ہے،حالانکہ کپاس سے بننے والی مصنوعات کئی گنا مہنگی بیچی جاتی ہیں،اسی طرح گنا جب شوگر ملز کو فروخت کیا جاتا ہے تو قیمت نچلی سطح تک پہنچ جاتی ہے،جب کسان کے پاس کچھ نہیں رہتا تو چینی مہنگی کر دی جاتی ہے،شوگر ملیں خریدے گئے گنے کی کئی ماہ تک پیمنٹ ہی نہیں کرتیں،یہی حال گندم اور دیگر فصلوں کا ہے۔کبھی کبھی تو قدرت بھی مہربان نہیں ہوتی،پکی پکائی فصل کو یاتو سیلاب بہا لے جاتا ہے یا پھر ژالہ باری کام دکھا جاتی ہے،کسان بچارا جائے تر جائے کہاں۔۔!!

دوسری طرف سمجھ میں نہیں آتا کہ پاکستان کی ستر فیصد آبادی کے ساتھ اتنی بے حسی کیوں؟کسان جب اناج اور سبزی لے کرشہر میں آتا ہے توپولیس کے سپاہی سے لے کر آڑھتی تک سب لوٹتے ہیں۔سارا سال جانور پالتا ہے اور سال میں ایک دن یعنی عید قربان پر انہیں بیچنے کی کوشش کرتا ہے کہ شاید اس طرح کچھ خرچہ نکل آئے۔تب سارے ٹی وی چینل اور اخبارات آسمان سرپر اٹھا لیتے ہیں کہ اس سال جانور بہت مہنگے ہوگئے،یہ نہیں دیکھتے کہ کسان سارا سال قربان ہوتا ہے ایک دن باقی لوگ قربانی دے دیں تو کیا فرق پڑتا ہے،سوال یہ ہے کہ کیا صرف جانور ہی مہنگے ہوتے ہیں؟ دیگر اشیاء ضروری مہنگی نہیں ہوتیں؟ قیمتوں میں ہر سال بیس فی صد اضافہ نہیں ہوتا؟اپنی تنخواہوں میں پندرہ بیس فی صد اضافہ تو سرکاری ملازمین،سیاستدانوں کو اچھا لگتا ہے لیکن کسان کی فصل کی قیمت بڑھ جائے وہ گوارا نہیں۔ہر طرف اتنا ہنگامہ کیا جاتا ہے کہ کہ اتنی زیادتی! اب ہر چیز کی قیمت بڑھ جائے گی۔جیسے پہلے تو کسی چیز کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوتا۔

میری ایوانوں میں بیٹھے بڑے سیاستدانوں سے عرضی ہے کہ کبھی جاکر دیکھئے جو کسان کپاس پیدا کرتا ہے آج بھی کھیت میں ایک بنیان اور لنگی پہنے ننگے پاؤں کھڑا ہے،جب کہ اس کی کپاس کے سوداگر درجنوں ٹیکسٹائل ملز لگا چکے ہیں۔کسان کی اولادیں وہیں کھیتوں میں رل رہی ہیں ٹیکسٹائل اور شوگر ملز مالکان کے بچے بیرون ملک سے پڑھ کر کمزوروں کو لوٹنے کے نئے طریقے سیکھ کر لوٹتے ہیں۔
بڑی اچھی بات ہے کہ ملک بھر میں سڑکوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں،ریلوے کے نئے ٹریک لگائے جارہے ہیں،پاک چائنا اکنامک کوریڈور بھی بنایا جا رہا ہے،پن بجلی،ایٹمی بجلی کے پلانٹ بھی لگنے چاہئیں،صنعتوں کو فروغ ملنا چاہئے،گاڑیاں بھی سستی ہوئی ہیں،دہشتگردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔کئی بھاگ گئے ہیں تو کئی مارے جا چکے ہیں،لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال سابقہ حکومت سے قدرے بہتر ہورہی ہے۔خارجہ امور میں اہم اہمیت دی جارہی ہے،پسماندہ علاقوں کے طلباء کو اعلٰی تعلیم کے مفت مواقع فراہم کیے جارہے ہیں،ایک لاکھ قابل طالبعلموں کو لیپ ٹاپ بھی دیے جارہے ہیں،پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت باعزت روزگار کیلئے گاڑیاں بھی دے رہی ہے،ہنرمند نوجوانوں کو آسان شرائط پر قرضے بھی دیے جا رہے ہیں۔

میاں صاحب سڑکیں بنائیں،پل بنائیں،بڑی بڑی انڈسٹریاں لگائیں،یہ سب کام کریں۔ لیکن ملک کا ستر فیصد انسان جن کا نام کسان ہے،آپ کی سرد مہری سے مررہا ہے،میرے ملک کا کسان مررہا ہے،بچا سکتے ہیں تو بچا لیجئیے۔
Pakistan Daily Life
Advertisements

2 thoughts on “وزیراعظم صاحب!کسان مر رہا ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s