این اے 246: شہر کی سیاسی بالادستی کی جنگ


2013427155318

پوری دنیا کی نظریں اس وقت یمن پر ہیں کہ وہاں ایران اپنی بالادستی قائم رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے یا سعودی بالادستی برقرار رہتی ہے۔ کراچی میں بھی ان دنوں کچھ ایسا ہی کھیل کھیلا جا رہا ہے، جہاں حلقہ این اے 246 یمن بنا ہوا ہے جہاں ایم کیو ایم اپنی بالادستی برقرار اور تحریک انصاف قائم کرنا چاہتیے۔ ہ

وسطی شہر کی خالص اردو آْبادی کی اکثریتی آْبادی پر مشتمل اس حلقے میں 1988 سے متحدہ قومی موومنٹ بلاوقفہ کامیابی حاصل کرتی آئی ہے گذشتہ انتخابات کے علاوہ باقی تمام انتخابات میں جماعت اسلامی کی دوسری پوزیشن رہی ہے۔

پی ٹی آئی کی قیادت کی کوشش ہے کہ جماعت اسلامی اس حلقے میں ان کا ساتھ دے لیکن جماعت اسلامی کی قیادت تاحال ماننے کو تیار نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے ایک سینیئر رہنما کے مطابق حلقہ این اے 246 سے انھیں تنظیمی قیادت ملتی رہی ہے اور یہاں ایسے گھرانے ہیں جو نسل در نسل جماعت کے ساتھ چلے آ رہے ہیں اس لیے وہ تحریک انصاف کو یہ حلقہ ہرگز نہیں دیں گے جو آگے چل کر اس پر اپنا حق ہی جما لیں۔

گذشتہ عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کر کے جماعت اسلامی نے بائیکاٹ کیا تھا، لیکن اس کے باوجود 12 بجے تک حلقہ این اے 246 میں جماعت اسلامی کے امیدوار کو دس ہزار ووٹ مل چکے تھے، جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار کے حصے میں 35 ہزار سے زائد ووٹ آئے تھے۔ جماعت اسلامی کے مقامی رہنما کے مطابق جس ووٹ کو تحریک انصاف اپنا سمجھ رہی ہے وہ دراصل جماعتی ووٹر تھا جو اپنی تنظیم کا ہر حال میں وفا دار ہے۔

حکمران پاکستان پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کی غیر اعلانیہ حمایت کی ہے اور وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاھ کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ انھوں نے خود کو غیرجانبدار رکھا ہے۔ گذشتہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو دو ہزار کے قریب ووٹ ملے تھے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا موقف ہے کہ یہاں پشتون آْبادی نہیں اس لیے وہ اس ضمنی انتخابات کا حصہ نہیں بنے۔

پی ٹی آئی شہر میں پیر جمانے کی کوشش کر رہی ہے

حلقہ این اے 246 میں آغا خانی کمیونٹی کا بھی بڑا اور اہم ووٹ بینک ہے جو ماضی میں فیصلہ کن ثابت ہوتا رہا ہے۔ کریم آْباد، شریف آباد، حسین آْباد اور دیگر علاقوں کی رہائشی اور تجارت سے وابستہ یہ کمیونٹی ماضی میں خوشی یا بد دلی سےایم کیو ایم کو ووٹ دیتی رہی ہے۔

کیا اب یہ ووٹ تحریک انصاف کو مل سکتا ہے؟

سینیئر صحافی اعجاز شیخ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا ماضی میں کالعدم تحریک طالبان کے لیے نرم رویہ آغا خانی ووٹروں کی دوری کی وجہ بن سکتا ہے۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف بنیادی طور پر موسمی بخار ہے اس لیے کوئی بھی اس شہر کی اہم سیاسی قوت سے ٹکر لینا نہیں چاہتا۔

تحریک انصاف کی جانب سے ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر کے قریب انٹری دے کر وہاں جلسے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔ تنظیم کے امیدوار عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ شہر میں جو خوف کا ماحول طاری ہے وہ اس کو توڑنا چاہتے ہیں۔

کراچی میں ہر کمیونٹی کو ایم کیو ایم سے شکایت رہی ہے۔ گذشتہ چار دہائیوں میں پٹھان، پنجابی، سندھی اور بلوچ کمیونٹی اور ایم کیو ایم میں کسی نہ کسی صورت میں ٹکراؤ کی سیاست رہی ہے۔ یہ تمام کمیونٹیز ایک قسم کا اینٹی ایم کیو ایم ووٹ بینک بن چکا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تحریک انصاف کی نظر انھی پر ہے۔

موجودہ ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی کامیابی دشوار ہے لیکن نائن زیرو پر دو درجن لوگوں کا جانا اور بار بار ایم کیو ایم کے اکثریتی علاقوں میں ریلیاں نکالنا، ان سب کوششوں سے تحریک انصاف یہ تاثر پیدا کرنا چاہتی ہے کہ اس شہر میں اگر کوئی ایم کیو ایم کو چیلنج کرسکتا ہے تو وہ صرف تحریک انصاف ہے ۔

سندھ حکومت نے حلقہ این اے 246 میں پولیس کے ساتھ رینجرز کی تعیناتی کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اگر زیادہ سختی کی جائے اور رینجرز پولنگ سٹشینوں کے اندر اور باہر موجود رہتی ہے تو ایم کیو ایم کے پاس یہ راستہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ فی الحال اس انتخاب عمل کا حصہ ہی نہ بنے۔

تجزیہ نگار اعجاز شیخ کے مطابق گذشتہ انتخابات میں ایم کیو ایم کے امیدوار نبیل گبول ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔ ضمنی انتخابات میں ویسے بھی ٹرن آؤٹ کم رہتا ہے اگر ووٹ کم پڑیں اور کم ملیں تو اس صورت حال میں ایم کیو ایم اپنے غیر مقبول ہونے کا الزام لینے کے بجائے ہو سکتا ہے کہ اس عمل سے ہی باہر نکل جائے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ابھی تک یہی تاثر دیا جا رہا ہے کہ ان کی پوزیشن مستحکم ہے۔ اگر بقول تجزیہ نگاروں کے ایم کیو ایم بائیکاٹ کی طرف جاتی بھی ہے تو اس کا فائدہ جماعت اسلامی کو ہو سکتا ہے جو کراچی میں اردو آبادی کی دوسری بڑی جماعت ہے نہ کہ تحریک انصاف کو۔

ویسے بھی صولت مرزا کے بیان اور نائن زیرو پر چھاپے اور نوجوانوں کی آنکھوں اور ہاتھوں پر بندھی ہوئی پٹیوں نے اردو بولنے والی آبادی کو ایک بار پھر ایم کیو ایم کے قریب کر دیا ہے جس کا اظہار عام بات چیت میں بھی کیا جا رہا ہے

Thank you BBC

rallly

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s