By-Polling in NA_246


By Syed Jawad Shoib

نائن زیرو یاترا این اے دوسو چھیالیس میں فتح کا تاج کس کے سر سجے گا، تیئس اپریل کو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔۔ جیت اسی کی ہوگی، جو جنتا کی امنگوں کا مرکز قرار پائے گا۔ این اے دو چھیالیس کے انتخابی معرکے میں سیاسی گرما گرمی نے اس بات مجبور کیا کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھا جائے، عین الیقن کی نیت سے جماعت اسلامی کی فیملی ریلی کی پیشہ وارانہ کوریج کی، پھر رخ کیا، ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کا۔ زمینی حقائق کیا کہتے ہیں، لوگ کس کےساتھ ہیں، جنتا کیا چاہتی ہے، ضروری ہے کہ عوامی رائے لی جائے۔ عائشہ منزل کےقریب بوٹی،کلیجی،کباب سے پیٹ پوجا کی، پھر امین بھائی کے ٹھیلے سے ادرک ملے لمکا ڈرنک کے دو گلاس پی کر معدے میں کچھ ٹھنڈک پہنچائی، ۔عزیز آباد کےبارونق علاقے میں جگہ جگہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے انتخابی بینرز اور پرچم نظر آئے اور کہیں کہیں تحریک انصاف کے بینرز نے پارٹی کی موجودگی ک احساس دلایا۔۔۔۔ پیٹ بھرا، تو دماغ نے کام کرنا شروع کیا، سو حقائق کا جائزہ لینے نائن زیرو پہنچے،۔۔ راستے میں ایم کیو ایم کے انتخابی کیمپ میں گلگت بلتستانی نوجوانوں کو بھنگڑے ڈالتے دیکھتے ہوئے ہم مکا چوک پہنچے ۔۔جسے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے پوسٹرز، پارٹی پرچموں اور برقی قمقموں سے سجایا گیاہے ۔۔مکا چوک سے نائن زیرو جانے والے راستے کا مرکزی بیر ئیر غائب نظر آیا جو یقینا رینجرز کے آپریشن کے دوران ہٹا دیا گیا تھا تاہم اندرونی گلیوں میں بیر ئیر موجود تھے پوچھنے پر بتایا گیا کہ سیکیورٹی وجوہات ہیں ۔۔مکا چوک پرنوجوانوں ،خواتین اور بچوں کا رش نظر آیا جو جناح گراونڈ میں منعقدہ کلچرل شو میں شرکت کیلئے آئے تھے۔ ہم پہلی بار بغیر تلاشی اور روک ٹوک کے اس راستے سے موٹر سائیکل سمیت عزیز آًباد میں داخل ہوگئے۔۔۔نائن زیرو کے اطراف کی تمام گلیوں کو برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے ایسا محسوس ہورہاتھا کہ جیسے جشن آزادی کاسماں ہو۔۔۔ مختلف گلیوں سے گزر کر نائن زیرو پہنچے اور پھر واک تھرو گیٹ سے گزر کر جامہ تلاشی کے بعد جناح گراونڈ میں داخل ہوئے۔ جہاں محفل موسیقی جاری تھی ،،جا بجا فیملیز ٹولیوں میں بیٹھیں خوش گپیاں کرتی نظر آئیں اور خواتین کی اکثریت اسٹیج سے جاری محفل سنگیت سے لطف اندوز ہورہی تھیں۔۔۔۔جناح گراونڈ میں جو جوش وخروش دیکھنے کو ملا وہ یقینا ایم کیو ایم کے چاہنے والوں کا اپنی پارٹی سے لگاو کا ثبوت تھا جو دوست مجھے اچھی طرح جانتے ہیں وہ سوچ رہے ہونگے کہ آج کیا لکھ رہاہوں ،،لیکن جو دیکھا سوچا بغیر کسی تعصب کے تحریر کردوں ، ۔۔۔۔کچھ دن پہلے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو آئے اور انہوں نے دعوی کیا کہ وہ کراچی فتح کرنے آئے ہیں، انہوں نے اور انکے دیگر رہنماوں نے الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم خوف کی سیاست کرتی ہے اور انکا میڈیٹ ٹھپہ مینڈیٹ ہے اور یہ بھی دعوی کیا کہ ان کے دورہ جناح گراونڈ نے ایم کیو ایم کاخوف ختم کردیا اور کراچی کے عوام اب تبدیلی یعنی انکے ساتھ ہیں ۔۔۔۔میں یہاں اس جلسے کا ذکر بھی ضرور کروں گا جو اتوار کے روز شاہراہ پاکستان پر منعقد ہوا جو بدنظی کیساتھ ساتھ پچھلی نشستوں کو پر بھی نہ کرسکا ۔۔۔۔پھر کدھر گئی وہ تبدیلی اور چاہنے والی عوام۔۔۔۔
۔۔ہم نے تو سوچا تھا کہ فیڈرل بی ایریا کے بلاکوں کریم آباد،عزیزآباد ،حسین آباد،عائشہ منزل،یاسین آباد نصر آًباد،موسی کالونی،دستگیر،بندھانی کالونی ،لیاقت آًباد ،ایف سی ایریا،الکرم اسکوائر،انچولی اور دیگر علاقوں میں تینوں جماعتوں کی شاندار انتخابی مہم ،تحریک انصاف،ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کی ریلیاں ،کارنر میٹنگز،کیمپس نظر آئیں گے لیکن تحریک انصاف کے دو انتخابی کیمپ کریم آباد اور واٹَر پمپ پر نظر آئے ۔۔ ایک مرکزی کیمپ کریم آباد پر فردوس شمیم نقوی، جو تحریک انصاف کے رہنما ہیں، انکی بلڈنگ میں قائم ہے وہاں کچھ کارکن موجود نظر آئے جبکہ دوسرا واٹر پمپ پر پی ٹی آئی کی رہنما نادیہ ربانی کے گھر کے باہر قائم ہےجہاں کارکن تو دکھائی نہ دیے۔ لیکن حفاظت پر مامود دو پولیس والے اونگھتے نظر آئے ۔۔۔جبکہ دوسری جانب مختلف علاقوں میں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کی انتخابی مہم نظر آئی ان دونوں جماعتوں کی ریلیاں ،کارنر میٹنگز اور انتخابی دفاتر،جھنڈے اور بینر اندرونی گلیوں میں بھی نظر آئے۔۔بعض علاقوں میں موٹر سائیکل اور کار پر فیملیز کو بھی دیکھا جو ایم کیوایم یا جماعت اسلامی کا پرچم لگائے گزر رہی تھیں یہاں سوال یہ ہے جس کا جواب میں ڈھونڈتا رہا کہ میڈیا پر تحریک انصاف کی انتخابی مہم سے جو تاثر قائم ہوا تھا وہ کیوں نہیں دکھ رہا تھا۔دماغ میں خیال آیا کہ جس جماعت کا کارکن اور ہمدرد انتخابی مہم کیلئے نہیں نکل سکا وہ 23 اپریل کو کیا خاک ووٹ دینے نکلے گا۔۔۔۔۔ اگر عمران خان نے ایم کیو ایم کا خوف ختم کردیا ہے توآخر کیا وجہ ہے ایم کیو ایم کا خوف ختم ہونے کے باوجود تحریک انصاف کا کارکن کریم آباد اور واٹر پمپ کے علاوہ کہیں جھنڈے تک نہ لگاسکا۔۔آخر کیا وجہ کہ تحریک انصاف کے امیدوار بغیر رینجرز اور پولیس کی سیکیورٹی کے جاوید نہاری تک بھی نہیں پہنچ سکتے۔۔۔جبکہ دوسری جانب جماعت اسلامی کے امیدوار کو ہم نے بغیر پولیس سیکیورٹی کے مختلف علاقوں میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے دیکھا کیا جماعت کے کارکن کو ایم کیو ایم کے کارکن سے خوفزدہ نہیں ؟؟ کیا ایم کیو ایم کے خلاف جماعت اسلامی کے رہنما تقاریر اور کارکن نعرے نہیں لگاتے،،ہاں لیکن ایک بات ضرور نوٹ کی خوف ضرور ختم ہوا جو نائن زیرو پر آپریشن سےا یم کیو ایم کے کارکنوں پر قائم ہوا تھا ۔۔۔جوش وخروش ضرور بڑھا،،ووٹ بنک مضبوط ضرور ہوا ،کارکن فعال ضرور ہوا،،ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم ضرور چلی،،منتخب نمائندوں نے این اے 246 کے عوام سے ملاقاتیں بھی کیں اور انہیں گلے سے بھی لگایا انکے گلے شکوے بھی دور کئے۔۔۔۔۔اور آج کے نائن زیرو یاترا کے بعد میں یہ کہنے میں عار محسوس نہیں کررہا کہ شفاف انتخاب میں بھی اس حلقے میں ایم کیو ایم کی پوزیشن مضبوط ہوچکی ہے لیاقت آباد ایم کیو ایم کی جیت میں اہم کردار ادا کرے گا جبکہ فیڈرل بی ایریا کے تمام بلاکس جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔۔۔۔۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ایم کیو ایم کو ایک بار پھر نئی زندگی دینے کے اسائنمنٹ پر آئے تھے۔۔۔؟؟؟۔اگر کسی کیلئے کوئی آسمانی مدد نہ آئی تو اب تک کی انتخابی مہم کے مطابق مجھے 23 اپریل کو شفاف انتخاب ہوئے تو بظاہر ایم کیو ام نمبر ون جماعت اسلامی نمبر دو اور تحریک انصاف تیسرے نمبر پر نظر آرہی ہے ۔۔۔لیکن سمجھ یہ نہیں آرہی کہ زمینی حقائق کے برخلاف سیاسی فیصلے عمران خان خود کر رہے ہیں یا ایک بار پھر۔۔۔۔۔۔۔کھلاڑی وہ خود میدان عزیزآباد کا اور انہیں امپائر کی انگلی اٹھنے کی امید ہے ۔۔ کیونکہ کپتان کی سیاست سے”بھوکا”، "ننگا”،”لٹا پٹا”،”کالا کلوٹا” مہاجر ۔۔۔۔۔پھر زندہ ہورہاہے۔

Advertisements

One thought on “By-Polling in NA_246

  1. جماعت اسلامی اگر اپنے ووٹ بینک سے اضافی ووٹ حاصل کرتی هے تو یہ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے لئے براہ راست خطرے کی گهنٹی هے اور اگر تحریک انصاف کے ووٹ بڑهتے هیں تو اگلا معرکہ پکا انہی کا هے اور اگر تحریک انصاف 32 هزار یا اسکے آس پاس رهتی هے یا اس سے کم پہ جاتی هے تو اسکا مطلب هوگا صورتحال اسکے هاته میں بهی نہیں رهے گی اور ایم کیو ایم کا مقابلہ صرف اتحاد سے هی ممکن هے ایم کیو ایم کو صرف اس بات کی تشویش هیکہ اسے ڈینٹ کتنا پڑتا هے اور اسے سنبهالے گی کیسے ؟
    ویسے بهی بقول Sami Farooq کہ یہ مہاجر قوم کے شعور کا امتحان هے کل وہ بتادیں گے انہیں نیا پاکستان پسند هے اسلامی پاکستان یا پهر وهی نعرہ کہ منزل نہیں راهنما چاهئیے !

    پسند کریں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s