بھارت کو جواب دینا ہوگا


Army-Poonch-bodies-PTI2

                   
اظہر تھراج             
                             azharthiraj@yahoo.com                                       

کہتے ہیں گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو شہر کی جانب بھاگتا ہے،اور بھارتیوں کو جب پاکستان میں کچھ اچھا ہوتا نظر آتا ہے تو پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہوجاتی ہے یہ مروڑ جب سکون نہیں لینے دیتی تو زہر بن کرالفاظ کی صورت منہ سے باہر نکلنا شروع ہوجاتی ہے،اب چین کے صدر،زمبابوے کی ٹیم پاکستان کیا آئے ہمارے ہمسائے کے وزراء طرح طرح کی بولیاں بول رہے ہیں اگر ’’بو نگیاں‘‘ بھی کہا جائے تو کوئی حرج نہیں ہوگا،دیکھیے! اب بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ فرماتے ہیں کہ ہم نے 13لاکھ فوج امن کی تبلیغ کیلئے نہیں رکھی ہوئی ہے،ان سے قبل توان کے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے تو حد ہی کردی کہا کہ پاکستان کو دہشتگردی کا جواب دہشتگرد بھیج کردیا جائے،اب تو گرمی سے مرنے والوں کا الزام بھی پاکستانی گرم ہواؤں کے سر تھوپا جا رہا ہے۔اسے سادگی کہیے یا مکاری،آپ کچھ بھی نام دے سکتے ہیں

یہ حقیقت ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے کوششیں کی ہیں،جہاں بھی اس کا بس چلا اس نے پاک سرزمین کیخلاف زہر افشانی کی ہے،پاکستان اور چین کے مابین جب سے چھیالیس ارب کے معاہدے طے پائے ہیں ایسے لگتا ہے بھارت کھل کے میدان میں آگیا ہے،بھارتی حکومت نے دونون ممالک کے مابین عدم اعتماد کی فضاء قائم کرنے کیلئے اپنی خفیہ ایجنسی را کو ہدف دے دیا ہے جس کے اثرات پاکستان میں محسوس بھی کیے جا رہے ہیں،بھارت کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ چین اقتصادی راہداری کے ذریعے افغانستان یا سنٹرل ایشیا کی ریاستوں تک پہنچے۔
ّ
رہی کشمیر کی بات تو وہ کبھی بھارت کا حصہ نہیں بنے گا،اور اس میں جاری آزادی کی جنگ کو دہشگردی کا نام دینا بھارت کی غلط فہمی ہے،کشمیر میں بھارتی فوج سے وہی لڑ رہے ہیں جن کے باپ دادا،بیوی بچوں پر بھارت کی ناپاک فوج نے ظلم کے پہاڑ توڑے،پاکستان کے نام پر اپنے ہی لوگوں بیوقوف بنانیوالے یہ بھارتی سیاست دان یہ تو بتائیں کہ ان کے ملک میں کتنے لوگ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھے،کتنے بیویوں کے سہاگ اجڑے،ایک ممبئی واقعہ ہی ہوا ہے نا ! جس کے ذمہ دار بھی تم خود ہو،پاکستان نے تو دنیا کو پرامن بنانے کیلئے ساٹھ ہزار سے زائد قربانیاں دی ہیں،کالے کوے کو سفید کہنے والے بھارتی یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ زخمی شیر جب کچھ کرنے پہ آتا ہے تو پیچھے مڑ کے نہیں دیکھتا اس کی کچھار میں ہاتھ ڈالنے بعض رہا جائے تو بہتر ہی ہوگا۔ّ

بھارت دہشت گردی کے حوالے سے بے نقاب ہو ہی گیا ہے تو پاکستانی قیادت کو آگے بڑھ کے کھیلنا چاہیے،ہم دفاعی پوزیشن پر کھیلتے کھیلتے بہت پیچھے چلے گئے ہیں، ہمارے کھیلوں کے میدان ویران ہوئے،ہماری معیشت تباہ ہوئی،ہم دنیا کے مقروض ہوئے، بدامنی کے ٹیگ کے ساتھ بدنام ہوئے،ہمارے پاس دنیا کے بہترین وسائل ہیں،بہترین فوج ہے،ہمارے پاس دنیا کا نمبرون سپیشل سروسز گروپ ہے ،جو دشمن کے گھر سے کچھ بھی پاکستان لانے کی صلاحیت سے مالا مال ہے،ہمارے پاس بہترین میزائل ہیں،سب سے بڑھ کر ہمارے پاس ایمان کا جذبہ ہے،ایسا ایمان کہ ملک کیلئے کوئی بھی نہتا لڑ جائے۔پھر بھی اگر ہم گھٹ گھٹ کے مرجائیں تو یہ ہماری بزدلی ہے۔

پاک چین اقتصادی راہداری پر قومی قیادت نے اتفاق رائے کا اظہار کرکے اپنے سنجیدہ پن اور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا ہے،اس سے دنیا کو ایک مثبت پیغام گیا ہے کہ پاکستان کی سیاست بھی بالغ ہوگئی ہے،ایسا کوئی فیصلہ اس منصوبے کو کامیاب بنانے کیلئے ہی کرلیا جائے۔

لیکن سیاسی،عسکری قیادت بھارت کیخلاف کمزوری دکھا کر قوم کے ذہنوں میں سوالات کو جنم دے رہی ہے،گم کر دیے جانے کے خوف سے کوئی زبان نہیں کھولتا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ سب اچھا ہے،بڑوں کی بار بار ملاقاتوں سے بھی لوگ غلط مطلب لے رہے ہیں،کراچی میں چند دن ہلچل کے بعد سکوت کو مفاہمت کے ترازو میں تولا جا رہا ہے،ابھی وقت ہے مورچے سے نکل کر جارحانہ انداز میں لڑا جائے یہ نہ ہو کہ وقت نکل جائے مورچہ ہی زمیں بوس ہوجائے۔

آٹھ من کا مولوی اور شعیب شیخ


                          maxresdefault Shoaib-Shaikh

شیخ مے خانے کے دروازے تلک آپہنچا ی
یعنی ابلیس شرافت پہ اُتر آیا ہے
صدقے کے پیسوں اور معصوم طالب علموں کے نام پر ملنے والے چندہ سے پلنے والے درباری ملائوں نے ٴٴبولٴٴ کیخلاف اب ےہ فتویٰ بازی شروع کر دی ہے کہ ٴٴ ایگزیکٹٴٴ کی کمائی حرام ہے۔ 8 من کے مولویی کا ٴٴایکسپریس ٴٴمیں بیان پڑھ کر میری طرح بہت سارے صحافیوں کو تکلیف ہوئی ہو گی ،ایسے ہی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ملائوں نے میلسی، میاں چنوں، ملتان، فیصل آباد اور دےگر شہروں سے بے سرو سامانی کی حالت میں فرار ہو کر اب لاہور میں بڑے بڑے مراکز کھول رکھے ہیں، جن سے ان کا اور انکے بچوں کاٴٴعیاشیٴٴسے گزارا ہوتا ہے۔یہ لوگ شروع مےں سائیکل، موٹر سائیکل اور اب بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں۔ کیا کسی حکومت نے کبھی ان سے پوچھا کہ آپ نے ٴٴ حلالٴٴ کمائی سے ےہ سب کچھ کیسے حاصل کیا۔ اگر ان کو سرکاری ٹی وی پرو گرام ملنا بند ہو جائیں تو ان کے لیئے ٴٴحکومت ٴٴ میں بھی خرابی ڈھونڈنا کوئی مشکل کام نہیں ۔ کیا شعیب شیخ کے علاوہ باقی اخبار مالکان دودھ کے دھلے ہیں ۔ کیا وہ ٹیکس چور نہیں، کیاا نہوں نے قرضے لیکر معاف نہیں کرائے، کیا انہوں نے قبضے نہیں کئے ہوئے۔ کیا وہ اپنے کارکنوں کا استحصال نہیں کر رہے، تین تین ماہ بعد تنخواہ دیتے ہےں، جب کہ ہمارے نبی کریمػ نے فرمایا تھا کہ مزدور کی کمائی اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کی جائے۔ میں ان ملائوں سے پوچھتا ہوں کہ ان پرکون عمل کر رہا ہے۔ اگر نہیں عمل کر رہے تو ان کیخلاف فتویٰ بازی کیوں نہیں کرتے کیونکہ ان کی خبریں لگنا بند ہو جائیں گی۔سینیئر صحافی مظہر عباس کہتے ہیں کہ میں شعیب شیخ سے ملنے گیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ہم اپنے کارکنوں کو مرسڈیز بھی دینگے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ صحافیوں کو مرسڈیز دےں گے تو وہ کام کیسے کریں گے۔ پھر مظہر عباس مطالبہ کرتے ہیں کہ بڑے اخبار مالکان کو صحافیوں کیلئے اب کچھ کرنا پڑے گا۔ اپنی تجورےاں بھرنے کے بجائے کارکنوں کاطرز معاشرت اور تنخواہ کا طریقہ کار بدلنا ہو گا۔ تاکہ وہ مخلص ہو کر کام کر سکیں ۔ شعیب شیخ کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے صحافیوں کو بھی باقی ملازموں کی طرح عزت دار سمجھا اور ان کی تنخواہیں اخبار اور ٹی وی مالکان سے بڑھ کر لگائیں جو کہ برسوں سے اجارہ دار طبقے کےلئے قابل قبول نہیں تھیں اور اتنا زیادہ پراپیگنڈہ کیا گیا کہ ٴٴبولٴٴ کو چپ کرانے کی کوشش شروع کر دی گئی ،جس کے لیے جناب میر شکیل ہر اخبار کے دفتر گئے اور پوری منصوبہ بندی کے بعد نیو یارک میں خبر چھپوائی گئی ۔مجھے اپنے رب پر بھروسہ ہے کہ ہمارے دوستوں کا رازق اللہ تھا اب بھی وہی ان کا کارساز ہے۔ پہلے مشرق، امروز وغیرہ بند ہوئے صحافی اےڈجسٹ ہو گئے۔ اب بھی اللہ کوئی حل نکالے گا کہ وہ سیٹ ہو جائیں گے۔ لیکن حکومت کو سوچنا چاہئے کہ اگر ٴٴ بولٴٴ ےا ٴ ایگزیکٹٴٴ کا لائسنس کینسل ہو گےا تو پاکستان کو بھی بہت خسارہ ہو گا جو نیٹ سے متعلق ایگزیکٹ خدمات انجام دے رہاہے سارا کچھ بھارت کے ہاتھ مےں چلا جائے گا۔ جس کو ہم اپنا دشمن سمجھتے ہےں اور بے روزگاری الگ ہو گی۔
شعےب شےخ کوتو ایسے ہتھکڑی لگا کر پیش کیا گیا کہ وہ ٴٴ راٴٴ کے ایجنٹ ےا جاسوس ہیں لیکن درجنوں مقدمات میں ملوث اور آئی ایس آئی کیخلاف ہرزہ سرائی کرنیوالے ٹی وی اور اخبار مالک کو اب تک کیوں گرفتار نہیں کیا گیا ۔اسے کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا ،بلکہ وہ سرعام پاکستان میں گھوم پھر رہا ہے ،کدھر ہے ہمارا قانون ،کیا وہ حکومت ، عدلیہ کا چہیتا ہے۔ ےہ نا انصافی کارکن صحافیوں کو منظور نہیں، سوداگر یاد رکھیں، شعیب شیخ کو پھانسی نہیں ہو گی ،ان کا حوالات میں جاناانہیں کندن بنا دے گا ،ان کے بارے میں شاید جناب فیض احمد فیض پہلے ہی کہہ گئے ہیں ،
چشم نم، جان شوریدہ کافی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار مےں پابجولاں چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دست افشاں چلو، مست و رقصاں چلو
راہ تکتا ہے سب، شہر جاناں چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حاکم شہر بھی مجمع عام بھی
تیر الزام بھی سنگ دشنام بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صبح ناشاد بھی، روز ناکام بھی
ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شہر جاناں مےں اب باصفا کون ہے؟
رخت دل باندھ لو دل فگا رو چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر ہمیںقتل ہو آئیں یارو چلو
نوٹ ٜ یہ صرف ایک مولوی کے بیان پر ردعمل ہے ،علمائے کرام سے معذرت

وہ جو فخر پاکستان بنے


354952-pakistani-14311058701

اظہر تھراج
azharthiraj@yahoo.com

دھواں دھار مہم سے شروع ہونے والے برطانوی پارلیمان کے عام انتخابات غیر متوقع نتائج کے ساتھ اختتام پزیر ہوگئے ہیں،ان انتخابات میں بڑے بڑوں کی واٹ لگی ہے تو کئی نئے چہرے بھی سامنے آئے ہیں،برطانوی تاریخ میں پہلی بر سکاٹش نیشنل پارٹی نے پہلی بار چھپن نشستیں حاصل کی ہیں، برطانوی انتخابات میں ہمیشہ سے پاکستانی اور بھارتی عوام کی بھی گہری دلچسپی رہی ہے کیوں کہ برطانیہ میں نہ صرف پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد بستی ہے بلکہ وہ برطانوی معیشت اور سیاست میں اہم کردار بھی ادا کر رہے ہیں اسی لیے 2015 کے انتخابات میں بھی پاکستانی نعاد امیدواروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس میں سے 9 امیدواروں نے میدان مار لیا،برطانوی پارلیمانی انتخابات میں گزشتہ سال 7 پاکستانی کامیاب ہوئے جب کہ اس بار 9 پاکستانی برطانوی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوگئے ہیں اس کے علاوہ بھارت کے بھی 9 امیدواربرطانوی پارلیمنٹ کا حصہ بن گئے ہیں اس طرح پہلی بار دارالعوام میں پاکستانی اور بھارتی ممبر پارلیمنٹ کی تعداد یکساں ہوگئی ہے،بنگلہ دیشی نعاد 3 خواتین بھی لیبر پارٹی کی ٹکٹ پر منتخب ہوئیں جب کہ سری لنکا کی رانی جے وردنے بھی کنزرویٹو کی ٹکٹ پر دارالعوام کی پہلی بار ممبر بن گئی۔
وہ جو دیار غیر میں پاکستان کا فخر بنے،یہاں ان لوگوں کا ذکر نہ کرنا صحافتی بدیانتی ہوگی،وہ لوگ ہمارے سیاسی نظام اور نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ بھی ہیں اگر کوئی سمجھے تو۔
شبانہ محمود

Shabana-Mahmood-election

وہ پاکستانی ہیں جن کا تعلق برطانوی لیبر پارٹی سے ہے،پیشہ کے لحاظ سے وکیل ہیں،آبائی تعلق آزاد کشمیر کے شہر میر پور سے ہے،2010ء میں پہلی بار ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئیں،والد محمود بھی رکن پارلیمنٹ رہے،انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے لاء کی ڈگری حاصل کی۔
تسمینہ احمد شیخ
پاکستانی نژاد برطانوی سیاستدان تسمینہ احمد شیخ 5اکتوبر1970ء میں پیدا ہوئیں،نامور اداکارہ رہیں،آج کل گلاسگو کی ایک بزنس فرم میں پارٹنر ہیں،سکاٹش نیشنل پارٹی سے پہلی بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئی ہیں،والدہ کا تعق زیچ ریپلک سے ہے اور والد پاکستانی ہیں،سکاٹش ویمن ایسوسی ایشن کی بانی رکن بھی ہیں،2014ء میں نیو اےئر ایوارڈ بھی حاصل کیا۔پرتھ شائر سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئی ہیں۔
ناز شاہ
بریڈ فورڈ ویسٹ کی نشست سے لیبر پارٹی کی امیدوار ناز شاہ نے ریسپکٹ پارٹی کے سربراہ جارج گیلوے کوشکست دی ہے،برطانوی تاریخ کی یہ سب سے بڑی شکست ہے،گیلوے نے مڈٹرم الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی،ناز شاہ تین بچوں کی ماں،مینٹل ہیلتھ چیریٹی کی سربراہ ہیں،بریڈ فورڈ سے تعلق ہے۔
عمران حسین
انہوں نے بریڈ فورڈ ایسٹ سے کامیابی حاصل کی ہے،ان کا تعلق لیبر پارٹی سے ہے۔
خالد محمود
برمنگھم پیری بار کے حلقے سے رکن پارلیمان منتخب ہوئے ہیں،جولائی 1961ء کو آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے،یو سی ای برمنگھم سے انجینرنگ میں گریجوایشن کی ڈگری حاصل کی۔پہلی بار 1990ء میں برمنگھم سٹی کے کونسلر منتخب ہوئے۔ لیبر پارٹی سے سیاسی تعلق ہے،2011ء سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوتے آرہے ہیں۔
یاسمین قریشی
5جولائی 1963ء کو پاکستان کے شہر گجرات میں پیدا ہوئیں،جب نو سال کی تھیں تو خاندان کے ساتھ برطانیہ منتقل ہوگئیں،باپ انجینئر ہے،شادی شدہ ہیں اور تین بچے بھی ہیں،یونیورسٹی کالج لندن سے لاء کی ڈگری حاصل کی۔پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں،مزہب اسلام ہے،2010ء میں پہلی بار لیبر پارٹی کی طرف سے بولٹن ساؤتھ ایسٹ سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں
صادق خان
نوٹنگھم لندن سے دوبارہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں،لیبر پارٹی سے سیاسی تعلق ہے،6اکتوبر1970ء کو لندن میں پیدا ہوئے،سعدیہ خان سے شادی کی جن میں سے انیسہ خان اور عمارہ خان دو بچیاں ہیں،1993ء میںیونیورسٹی آف نارتھ لندن سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں،گورڈن براؤن کی کابینہ میں وزیر ہیں،انہوں نے دوسری بار الیکشن جیتا ہے۔ٹرانسپورٹ کے وزیر بھی رہے،دو ہزار تیر ہ میں شیڈو منسٹر فار لندن تعینات کیے گئے۔
ساجد جاوید
5دسمبر 1969ء کو روک ڈائل برطانیہ میں پیدا ہوئے،لورا جاوید سے شادی کف جن میں سے چار بچے ہیں،یونیوسٹی آف ایکسٹر سے تعلیم حاصل کی،کنزرویٹو پارٹی کے سینئر رہنماء ہیں،برومز گرو سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں،یہ دوسری بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔2012 سے 2013ء اکنامک سیکرٹری اور 2013ء سے 2014ء فنانس سیکرٹری خدمات سرانجام دیں۔ایک پاکستانی بس ڈرائیور کے بیٹے ہیں۔
رحمان چشتی
لیلنگھم اور ینھم سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے والے رحمان چشتی 5دسمبر 1978ء کو مظفر آباد میں پیدا ہوئے،کنزویٹو پارٹی سے سیاسی وابستگی ہے،2010ء کے جنرل الیکشن میں بھی رکن پارلیمان بنے،کشمیر میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے رہنے والے ایڈوائزر عبدالرحمان چشتی کے بیٹے ہیں،جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں والد کے ساتھ برطانیہ آئے اور یہیں کے ہو کے رہ گئے،برطانیہ ہی سے تعلیم حاصل کی،دوسری بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔
سابق برطانوی رکن پارلیمان اور سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے بیٹے انس سرور واحد پاکستانی ہیں جو اس الیکشن میں ہارے ہیں،شاید یہ باپ کی مقبولیت میں کمی ہے یا ان کی پارٹی وفاداری تبدیل کرنا وجہ ہوسکتا ہے۔چلیں جو بھی ہو ان کیلئے ابھی دروازے کھلے ہیں آج نہیں تو کل ضرور کامیاب ہونگے۔

وہ جو فخر پاکستان بنے


354952-pakistani-14311058701
اظہر تھراج
azharthiraj@yahoo.com

دھواں دھار مہم سے شروع ہونے والے برطانوی پارلیمان کے عام انتخابات غیر متوقع نتائج کے ساتھ اختتام پزیر ہوگئے ہیں،ان انتخابات میں بڑے بڑوں کی واٹ لگی ہے تو کئی نئے چہرے بھی سامنے آئے ہیں،برطانوی تاریخ میں پہلی بر سکاٹش نیشنل پارٹی نے پہلی بار چھپن نشستیں حاصل کی ہیں، برطانوی انتخابات میں ہمیشہ سے پاکستانی اور بھارتی عوام کی بھی گہری دلچسپی رہی ہے کیوں کہ برطانیہ میں نہ صرف پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد بستی ہے بلکہ وہ برطانوی معیشت اور سیاست میں اہم کردار بھی ادا کر رہے ہیں اسی لیے 2015 کے انتخابات میں بھی پاکستانی نعاد امیدواروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس میں سے 9 امیدواروں نے میدان مار لیا،برطانوی پارلیمانی انتخابات میں گزشتہ سال 7 پاکستانی کامیاب ہوئے جب کہ اس بار 9 پاکستانی برطانوی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوگئے ہیں اس کے علاوہ بھارت کے بھی 9 امیدواربرطانوی پارلیمنٹ کا حصہ بن گئے ہیں اس طرح پہلی بار دارالعوام میں پاکستانی اور بھارتی ممبر پارلیمنٹ کی تعداد یکساں ہوگئی ہے،بنگلہ دیشی نعاد 3 خواتین بھی لیبر پارٹی کی ٹکٹ پر منتخب ہوئیں جب کہ سری لنکا کی رانی جے وردنے بھی کنزرویٹو کی ٹکٹ پر دارالعوام کی پہلی بار ممبر بن گئی۔
وہ جو دیار غیر میں پاکستان کا فخر بنے،یہاں ان لوگوں کا ذکر نہ کرنا صحافتی بدیانتی ہوگی،وہ لوگ ہمارے سیاسی نظام اور نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ بھی ہیں اگر کوئی سمجھے تو۔

شبانہ محمود

Shabana-Mahmood-election

وہ پاکستانی ہیں جن کا تعلق برطانوی لیبر پارٹی سے ہے،پیشہ کے لحاظ سے وکیل ہیں،آبائی تعلق آزاد کشمیر کے شہر میر پور سے ہے،2010ء میں پہلی بار ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئیں،والد محمود بھی رکن پارلیمنٹ رہے،انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے لاء کی ڈگری حاصل کی۔
تسمینہ احمد شیخ
پاکستانی نژاد برطانوی سیاستدان تسمینہ احمد شیخ 5اکتوبر1970ء میں پیدا ہوئیں،نامور اداکارہ رہیں،آج کل گلاسگو کی ایک بزنس فرم میں پارٹنر ہیں،سکاٹش نیشنل پارٹی سے پہلی بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئی ہیں،والدہ کا تعق زیچ ریپلک سے ہے اور والد پاکستانی ہیں،سکاٹش ویمن ایسوسی ایشن کی بانی رکن بھی ہیں،2014ء میں نیو اےئر ایوارڈ بھی حاصل کیا۔پرتھ شائر سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئی ہیں۔
ناز شاہ
بریڈ فورڈ ویسٹ کی نشست سے لیبر پارٹی کی امیدوار ناز شاہ نے ریسپکٹ پارٹی کے سربراہ جارج گیلوے کوشکست دی ہے،برطانوی تاریخ کی یہ سب سے بڑی شکست ہے،گیلوے نے مڈٹرم الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی،ناز شاہ تین بچوں کی ماں،مینٹل ہیلتھ چیریٹی کی سربراہ ہیں،بریڈ فورڈ سے تعلق ہے۔
عمران حسین
انہوں نے بریڈ فورڈ ایسٹ سے کامیابی حاصل کی ہے،ان کا تعلق لیبر پارٹی سے ہے۔
خالد محمود
برمنگھم پیری بار کے حلقے سے رکن پارلیمان منتخب ہوئے ہیں،جولائی 1961ء کو آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے،یو سی ای برمنگھم سے انجینرنگ میں گریجوایشن کی ڈگری حاصل کی۔پہلی بار 1990ء میں برمنگھم سٹی کے کونسلر منتخب ہوئے۔ لیبر پارٹی سے سیاسی تعلق ہے،2011ء سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوتے آرہے ہیں۔
یاسمین قریشی
5جولائی 1963ء کو پاکستان کے شہر گجرات میں پیدا ہوئیں،جب نو سال کی تھیں تو خاندان کے ساتھ برطانیہ منتقل ہوگئیں،باپ انجینئر ہے،شادی شدہ ہیں اور تین بچے بھی ہیں،یونیورسٹی کالج لندن سے لاء کی ڈگری حاصل کی۔پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں،مزہب اسلام ہے،2010ء میں پہلی بار لیبر پارٹی کی طرف سے بولٹن ساؤتھ ایسٹ سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں
صادق خان
نوٹنگھم لندن سے دوبارہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں،لیبر پارٹی سے سیاسی تعلق ہے،6اکتوبر1970ء کو لندن میں پیدا ہوئے،سعدیہ خان سے شادی کی جن میں سے انیسہ خان اور عمارہ خان دو بچیاں ہیں،1993ء میںیونیورسٹی آف نارتھ لندن سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں،گورڈن براؤن کی کابینہ میں وزیر ہیں،انہوں نے دوسری بار الیکشن جیتا ہے۔ٹرانسپورٹ کے وزیر بھی رہے،دو ہزار تیر ہ میں شیڈو منسٹر فار لندن تعینات کیے گئے۔
ساجد جاوید
5دسمبر 1969ء کو روک ڈائل برطانیہ میں پیدا ہوئے،لورا جاوید سے شادی کف جن میں سے چار بچے ہیں،یونیوسٹی آف ایکسٹر سے تعلیم حاصل کی،کنزرویٹو پارٹی کے سینئر رہنماء ہیں،برومز گرو سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں،یہ دوسری بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔2012 سے 2013ء اکنامک سیکرٹری اور 2013ء سے 2014ء فنانس سیکرٹری خدمات سرانجام دیں۔ایک پاکستانی بس ڈرائیور کے بیٹے ہیں۔
رحمان چشتی
لیلنگھم اور ینھم سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے والے رحمان چشتی 5دسمبر 1978ء کو مظفر آباد میں پیدا ہوئے،کنزویٹو پارٹی سے سیاسی وابستگی ہے،2010ء کے جنرل الیکشن میں بھی رکن پارلیمان بنے،کشمیر میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے رہنے والے ایڈوائزر عبدالرحمان چشتی کے بیٹے ہیں،جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں والد کے ساتھ برطانیہ آئے اور یہیں کے ہو کے رہ گئے،برطانیہ ہی سے تعلیم حاصل کی،دوسری بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔
سابق برطانوی رکن پارلیمان اور سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے بیٹے انس سرور واحد پاکستانی ہیں جو اس الیکشن میں ہارے ہیں،شاید یہ باپ کی مقبولیت میں کمی ہے یا ان کی پارٹی وفاداری تبدیل کرنا وجہ ہوسکتا ہے۔چلیں جو بھی ہو ان کیلئے ابھی دروازے کھلے ہیں آج نہیں تو کل ضرور کامیاب ہونگے۔

کچھ تو خیال کریں۔۔؟؟


 

angry man
بدین کے قلعہ نما گھر میں موجود پیپلزپارٹی کا بگڑا ہوا جیالا(مرزا) اسلحہ سے لیس اور پوری کی پوری فوج کے ساتھ حکومت کی رٹ کو چیلنج کررہا ہے،تھانوں پر حملہ آور ہے،اداروں کی تذلیل کر رہا ہے،ہو سکتا ہے اس کے اپنے پارٹی سربراہ اور بچپن کے دوست کے خلاف الزامات بھی ٹھیک ہونگے لیکن جو طریقہ کار اختیار کیا جارہا ہے کیا درست ہے؟ یہی کام تو لال مسجد والوں نے بھی کیا تھا،یہی کام تو بلوچستان میں بلوچوں نے بھی کیا تھا،وہ تو بموں سے راکھ کے ڈھیر بنا دیے گئے،کئی لاپتہ کردیے گئے،کیا یہ طاقتور ہے؟کیا جس پر الزام لگایا جارہا ہے وہ قانون سے بالا تر ہے؟ نہیں تو پھر کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟خدارا ملک کو تماشا نہ بنائیں،یہ ملک صرف جاگیرداروں کی جاگیر نہیں کہ جیسے چاہا ہل چلادیے،یہ سرمایہ داروں کی خریدی ہوئی کمپنی نہیں کہ جیسے چاہا اسے نیلام کردیا جائے،یہ بیس کروڈ انسانوں کا ملک بھی ہے جسے آپ لوگ کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں،ان کا بھی کچھ خیال کریں۔