وہ جو فخر پاکستان بنے


354952-pakistani-14311058701
اظہر تھراج
azharthiraj@yahoo.com

دھواں دھار مہم سے شروع ہونے والے برطانوی پارلیمان کے عام انتخابات غیر متوقع نتائج کے ساتھ اختتام پزیر ہوگئے ہیں،ان انتخابات میں بڑے بڑوں کی واٹ لگی ہے تو کئی نئے چہرے بھی سامنے آئے ہیں،برطانوی تاریخ میں پہلی بر سکاٹش نیشنل پارٹی نے پہلی بار چھپن نشستیں حاصل کی ہیں، برطانوی انتخابات میں ہمیشہ سے پاکستانی اور بھارتی عوام کی بھی گہری دلچسپی رہی ہے کیوں کہ برطانیہ میں نہ صرف پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد بستی ہے بلکہ وہ برطانوی معیشت اور سیاست میں اہم کردار بھی ادا کر رہے ہیں اسی لیے 2015 کے انتخابات میں بھی پاکستانی نعاد امیدواروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس میں سے 9 امیدواروں نے میدان مار لیا،برطانوی پارلیمانی انتخابات میں گزشتہ سال 7 پاکستانی کامیاب ہوئے جب کہ اس بار 9 پاکستانی برطانوی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوگئے ہیں اس کے علاوہ بھارت کے بھی 9 امیدواربرطانوی پارلیمنٹ کا حصہ بن گئے ہیں اس طرح پہلی بار دارالعوام میں پاکستانی اور بھارتی ممبر پارلیمنٹ کی تعداد یکساں ہوگئی ہے،بنگلہ دیشی نعاد 3 خواتین بھی لیبر پارٹی کی ٹکٹ پر منتخب ہوئیں جب کہ سری لنکا کی رانی جے وردنے بھی کنزرویٹو کی ٹکٹ پر دارالعوام کی پہلی بار ممبر بن گئی۔
وہ جو دیار غیر میں پاکستان کا فخر بنے،یہاں ان لوگوں کا ذکر نہ کرنا صحافتی بدیانتی ہوگی،وہ لوگ ہمارے سیاسی نظام اور نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ بھی ہیں اگر کوئی سمجھے تو۔

شبانہ محمود

Shabana-Mahmood-election

وہ پاکستانی ہیں جن کا تعلق برطانوی لیبر پارٹی سے ہے،پیشہ کے لحاظ سے وکیل ہیں،آبائی تعلق آزاد کشمیر کے شہر میر پور سے ہے،2010ء میں پہلی بار ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئیں،والد محمود بھی رکن پارلیمنٹ رہے،انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے لاء کی ڈگری حاصل کی۔
تسمینہ احمد شیخ
پاکستانی نژاد برطانوی سیاستدان تسمینہ احمد شیخ 5اکتوبر1970ء میں پیدا ہوئیں،نامور اداکارہ رہیں،آج کل گلاسگو کی ایک بزنس فرم میں پارٹنر ہیں،سکاٹش نیشنل پارٹی سے پہلی بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئی ہیں،والدہ کا تعق زیچ ریپلک سے ہے اور والد پاکستانی ہیں،سکاٹش ویمن ایسوسی ایشن کی بانی رکن بھی ہیں،2014ء میں نیو اےئر ایوارڈ بھی حاصل کیا۔پرتھ شائر سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئی ہیں۔
ناز شاہ
بریڈ فورڈ ویسٹ کی نشست سے لیبر پارٹی کی امیدوار ناز شاہ نے ریسپکٹ پارٹی کے سربراہ جارج گیلوے کوشکست دی ہے،برطانوی تاریخ کی یہ سب سے بڑی شکست ہے،گیلوے نے مڈٹرم الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی،ناز شاہ تین بچوں کی ماں،مینٹل ہیلتھ چیریٹی کی سربراہ ہیں،بریڈ فورڈ سے تعلق ہے۔
عمران حسین
انہوں نے بریڈ فورڈ ایسٹ سے کامیابی حاصل کی ہے،ان کا تعلق لیبر پارٹی سے ہے۔
خالد محمود
برمنگھم پیری بار کے حلقے سے رکن پارلیمان منتخب ہوئے ہیں،جولائی 1961ء کو آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے،یو سی ای برمنگھم سے انجینرنگ میں گریجوایشن کی ڈگری حاصل کی۔پہلی بار 1990ء میں برمنگھم سٹی کے کونسلر منتخب ہوئے۔ لیبر پارٹی سے سیاسی تعلق ہے،2011ء سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوتے آرہے ہیں۔
یاسمین قریشی
5جولائی 1963ء کو پاکستان کے شہر گجرات میں پیدا ہوئیں،جب نو سال کی تھیں تو خاندان کے ساتھ برطانیہ منتقل ہوگئیں،باپ انجینئر ہے،شادی شدہ ہیں اور تین بچے بھی ہیں،یونیورسٹی کالج لندن سے لاء کی ڈگری حاصل کی۔پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں،مزہب اسلام ہے،2010ء میں پہلی بار لیبر پارٹی کی طرف سے بولٹن ساؤتھ ایسٹ سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں
صادق خان
نوٹنگھم لندن سے دوبارہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں،لیبر پارٹی سے سیاسی تعلق ہے،6اکتوبر1970ء کو لندن میں پیدا ہوئے،سعدیہ خان سے شادی کی جن میں سے انیسہ خان اور عمارہ خان دو بچیاں ہیں،1993ء میںیونیورسٹی آف نارتھ لندن سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں،گورڈن براؤن کی کابینہ میں وزیر ہیں،انہوں نے دوسری بار الیکشن جیتا ہے۔ٹرانسپورٹ کے وزیر بھی رہے،دو ہزار تیر ہ میں شیڈو منسٹر فار لندن تعینات کیے گئے۔
ساجد جاوید
5دسمبر 1969ء کو روک ڈائل برطانیہ میں پیدا ہوئے،لورا جاوید سے شادی کف جن میں سے چار بچے ہیں،یونیوسٹی آف ایکسٹر سے تعلیم حاصل کی،کنزرویٹو پارٹی کے سینئر رہنماء ہیں،برومز گرو سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں،یہ دوسری بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔2012 سے 2013ء اکنامک سیکرٹری اور 2013ء سے 2014ء فنانس سیکرٹری خدمات سرانجام دیں۔ایک پاکستانی بس ڈرائیور کے بیٹے ہیں۔
رحمان چشتی
لیلنگھم اور ینھم سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے والے رحمان چشتی 5دسمبر 1978ء کو مظفر آباد میں پیدا ہوئے،کنزویٹو پارٹی سے سیاسی وابستگی ہے،2010ء کے جنرل الیکشن میں بھی رکن پارلیمان بنے،کشمیر میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے رہنے والے ایڈوائزر عبدالرحمان چشتی کے بیٹے ہیں،جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں والد کے ساتھ برطانیہ آئے اور یہیں کے ہو کے رہ گئے،برطانیہ ہی سے تعلیم حاصل کی،دوسری بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔
سابق برطانوی رکن پارلیمان اور سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے بیٹے انس سرور واحد پاکستانی ہیں جو اس الیکشن میں ہارے ہیں،شاید یہ باپ کی مقبولیت میں کمی ہے یا ان کی پارٹی وفاداری تبدیل کرنا وجہ ہوسکتا ہے۔چلیں جو بھی ہو ان کیلئے ابھی دروازے کھلے ہیں آج نہیں تو کل ضرور کامیاب ہونگے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s