آٹھ من کا مولوی اور شعیب شیخ


                          maxresdefault Shoaib-Shaikh

شیخ مے خانے کے دروازے تلک آپہنچا ی
یعنی ابلیس شرافت پہ اُتر آیا ہے
صدقے کے پیسوں اور معصوم طالب علموں کے نام پر ملنے والے چندہ سے پلنے والے درباری ملائوں نے ٴٴبولٴٴ کیخلاف اب ےہ فتویٰ بازی شروع کر دی ہے کہ ٴٴ ایگزیکٹٴٴ کی کمائی حرام ہے۔ 8 من کے مولویی کا ٴٴایکسپریس ٴٴمیں بیان پڑھ کر میری طرح بہت سارے صحافیوں کو تکلیف ہوئی ہو گی ،ایسے ہی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ملائوں نے میلسی، میاں چنوں، ملتان، فیصل آباد اور دےگر شہروں سے بے سرو سامانی کی حالت میں فرار ہو کر اب لاہور میں بڑے بڑے مراکز کھول رکھے ہیں، جن سے ان کا اور انکے بچوں کاٴٴعیاشیٴٴسے گزارا ہوتا ہے۔یہ لوگ شروع مےں سائیکل، موٹر سائیکل اور اب بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں۔ کیا کسی حکومت نے کبھی ان سے پوچھا کہ آپ نے ٴٴ حلالٴٴ کمائی سے ےہ سب کچھ کیسے حاصل کیا۔ اگر ان کو سرکاری ٹی وی پرو گرام ملنا بند ہو جائیں تو ان کے لیئے ٴٴحکومت ٴٴ میں بھی خرابی ڈھونڈنا کوئی مشکل کام نہیں ۔ کیا شعیب شیخ کے علاوہ باقی اخبار مالکان دودھ کے دھلے ہیں ۔ کیا وہ ٹیکس چور نہیں، کیاا نہوں نے قرضے لیکر معاف نہیں کرائے، کیا انہوں نے قبضے نہیں کئے ہوئے۔ کیا وہ اپنے کارکنوں کا استحصال نہیں کر رہے، تین تین ماہ بعد تنخواہ دیتے ہےں، جب کہ ہمارے نبی کریمػ نے فرمایا تھا کہ مزدور کی کمائی اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کی جائے۔ میں ان ملائوں سے پوچھتا ہوں کہ ان پرکون عمل کر رہا ہے۔ اگر نہیں عمل کر رہے تو ان کیخلاف فتویٰ بازی کیوں نہیں کرتے کیونکہ ان کی خبریں لگنا بند ہو جائیں گی۔سینیئر صحافی مظہر عباس کہتے ہیں کہ میں شعیب شیخ سے ملنے گیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ہم اپنے کارکنوں کو مرسڈیز بھی دینگے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ صحافیوں کو مرسڈیز دےں گے تو وہ کام کیسے کریں گے۔ پھر مظہر عباس مطالبہ کرتے ہیں کہ بڑے اخبار مالکان کو صحافیوں کیلئے اب کچھ کرنا پڑے گا۔ اپنی تجورےاں بھرنے کے بجائے کارکنوں کاطرز معاشرت اور تنخواہ کا طریقہ کار بدلنا ہو گا۔ تاکہ وہ مخلص ہو کر کام کر سکیں ۔ شعیب شیخ کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے صحافیوں کو بھی باقی ملازموں کی طرح عزت دار سمجھا اور ان کی تنخواہیں اخبار اور ٹی وی مالکان سے بڑھ کر لگائیں جو کہ برسوں سے اجارہ دار طبقے کےلئے قابل قبول نہیں تھیں اور اتنا زیادہ پراپیگنڈہ کیا گیا کہ ٴٴبولٴٴ کو چپ کرانے کی کوشش شروع کر دی گئی ،جس کے لیے جناب میر شکیل ہر اخبار کے دفتر گئے اور پوری منصوبہ بندی کے بعد نیو یارک میں خبر چھپوائی گئی ۔مجھے اپنے رب پر بھروسہ ہے کہ ہمارے دوستوں کا رازق اللہ تھا اب بھی وہی ان کا کارساز ہے۔ پہلے مشرق، امروز وغیرہ بند ہوئے صحافی اےڈجسٹ ہو گئے۔ اب بھی اللہ کوئی حل نکالے گا کہ وہ سیٹ ہو جائیں گے۔ لیکن حکومت کو سوچنا چاہئے کہ اگر ٴٴ بولٴٴ ےا ٴ ایگزیکٹٴٴ کا لائسنس کینسل ہو گےا تو پاکستان کو بھی بہت خسارہ ہو گا جو نیٹ سے متعلق ایگزیکٹ خدمات انجام دے رہاہے سارا کچھ بھارت کے ہاتھ مےں چلا جائے گا۔ جس کو ہم اپنا دشمن سمجھتے ہےں اور بے روزگاری الگ ہو گی۔
شعےب شےخ کوتو ایسے ہتھکڑی لگا کر پیش کیا گیا کہ وہ ٴٴ راٴٴ کے ایجنٹ ےا جاسوس ہیں لیکن درجنوں مقدمات میں ملوث اور آئی ایس آئی کیخلاف ہرزہ سرائی کرنیوالے ٹی وی اور اخبار مالک کو اب تک کیوں گرفتار نہیں کیا گیا ۔اسے کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا ،بلکہ وہ سرعام پاکستان میں گھوم پھر رہا ہے ،کدھر ہے ہمارا قانون ،کیا وہ حکومت ، عدلیہ کا چہیتا ہے۔ ےہ نا انصافی کارکن صحافیوں کو منظور نہیں، سوداگر یاد رکھیں، شعیب شیخ کو پھانسی نہیں ہو گی ،ان کا حوالات میں جاناانہیں کندن بنا دے گا ،ان کے بارے میں شاید جناب فیض احمد فیض پہلے ہی کہہ گئے ہیں ،
چشم نم، جان شوریدہ کافی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار مےں پابجولاں چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دست افشاں چلو، مست و رقصاں چلو
راہ تکتا ہے سب، شہر جاناں چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حاکم شہر بھی مجمع عام بھی
تیر الزام بھی سنگ دشنام بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صبح ناشاد بھی، روز ناکام بھی
ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شہر جاناں مےں اب باصفا کون ہے؟
رخت دل باندھ لو دل فگا رو چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر ہمیںقتل ہو آئیں یارو چلو
نوٹ ٜ یہ صرف ایک مولوی کے بیان پر ردعمل ہے ،علمائے کرام سے معذرت

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s