جنگ ہی سہی تو پھر جنگ ہی ہوجائے


Raheel-Sharif-mother-died
تحریر:اظہر تھراج
پاکستان اور بھارت کی سیاست آج کل ایک عجیب سی تبدیلی کے گھیرے میں ہے،دونوں طرف سے ایک دوسرے پر لفظوں کے گولے برسائے جا رے ہیں،یہ لفظ عسکری قیادت کے منہ سے میزائل بن کر نکل رہے ہیں،اس جنگ کی شروعات سرحد پار سے ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے عوام تک بھی پھیل گئی ہے،سوشل میڈیا پر بھی لوگ پیچھے نہیں رہے یہاں بھی فیس بکی،ٹوئٹری،گوگلی فوجی ٹینک لے کرمورچوں سے باہر آگئے ہیں،یہ جنگ لفظوں تک ہی رہے تو بہتر ہے،کیونکہ اس کے آگے تباہی ہے،موت ہے۔یہ حقیقت ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے کوششیں کی ہیں،جہاں بھی اس کا بس چلا اس نے پاک سرزمین کیخلاف زہر افشانی کی ہے،پاکستان اور چین کے مابین جب سے چھیالیس ارب کے معاہدے طے پائے ہیں ،بھارتی حکومت ،پالیسی میکرز کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی،بلکہ یہ کہیں کہ ہیضہ ہوگیا ہے تو غلط نہ ہوگا،بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کے زیر کنٹرول علاقہ کو اپنا حصہ ظاہر کرکے منصوبے کو شروع ہونے سے پہلے ہی رکوا دیا جائے ۔بھارت چور مچائے شور والی پالیسی پر عمل پیرا ہے،کہ اتنا شور مچایا جائے کہ بھارت کے زیر قبضہ علاقوں اور وہاں جاری آزادی کی تحریکوں کی طرف دنیا کا دھیان ہی نہ جانے پائے۔بھارتی حکومت نے پاکستان اور چین کے مابین عدم اعتماد کی فضاء قائم کرنے کیلئے اپنی خفیہ ایجنسی را کو ہدف دے دیا ہے جس کے اثرات پاکستان میں محسوس بھی کیے جا رہے ہیں،بھارت کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ چین اقتصادی راہداری کے ذریعے افغانستان یا سنٹرل ایشیا کی ریاستوں تک پہنچے۔
ّ
انگریز نے جاتے جاتے دو ہمسایہ ممالک میں غلط تقسیم کرکے جو نفرت کے بیج بوئے تھے وہ اب درخت بن چکے ہیں،لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی بیوی نے اپنے خصم سے ہندوستان کی ایسی تقسیم کروائی کہ عقل ماننے کو تیار ہی نہیں،رہی کشمیر کی بات تو وہ کبھی بھارت کا حصہ رہا ہی نہیں اور کبھی بنے گا بھی نہیں،یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی قوت کسی کو زیادہ دیر غلام بنا کر نہیں رکھ سکتی ،کشمیری تو پھر بھی اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کررہے ہیں اور اس میں جاری آزادی کی جنگ کو دہشگردی کا نام دینا بھارت کی غلط فہمی ہے،کشمیر میں بھارتی فوج سے وہی لڑ رہے ہیں جن کے باپ دادا،بیوی بچوں پر بھارت کی ناپاک فوج نے ظلم کے پہاڑ توڑے،پاکستان کے نام پر اپنے ہی لوگوں کوبیوقوف بنانیوالے یہ بھارتی سیاست دان یہ تو بتائیں کہ ان کے ملک میں کتنے لوگ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھے،کتنی بیویوں کے سہاگ اجڑے،ایک ممبئی واقعہ ہی ہوا ہے ناں ! جس کے ذمہ دار بھی خود ہو،پاکستان نے تو دنیا کو پرامن بنانے کیلئے ساٹھ ہزار سے زائد قربانیاں دی ہیں،کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے سے یہ انگ آپ کا تھوڑا ہی ہوجائے گا،جنگ جنگ کرنے سے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کا انگ انگ ٹوٹ جائے،کالے کوے کو سفید کہنے والے بھارتی یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ زخمی شیر جب کچھ کرنے پہ آتا ہے تو پیچھے مڑ کے نہیں دیکھتا اس کی کچھار میں ہاتھ ڈالنے سے دور رہا جائے تو بہتر ہی ہوگا۔

جنگ بچوں کا کھیل تو ہے نہیں کہ تھوڑی دیر لڑ جھگڑ لیا اور پھر ایک جیسے ہوگئے،یہ تباہی ہے،موت ہے،انسانیت کا عظیم قتل ہو گا،اب جنگ ہوئی تو صرف دو چار نہیں مریں گے بلکہ علاقوں کے علاقے اس زد میں آئیں گے،دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں، دونوں کے پاس سینکڑوں وار ہیڈز ہیں،دونوں ممالک کی قیادتیں ہوش مندی کا مظاہرہ کریں تو یہ ڈیڑھ ارب افراد کی سلامتی کیلئے بہتر ہوگا،اپنی عوام کی فکر کریں،فٹ پاتھ پر دن رات گزارنے والوں کے بارے میں سوچیں،بیٹ پتھر باندھے غریبوں کی روزی روٹی کا بندوبست کریں،جنگیں تو پہلے بھی کی ہیں،نوک جھوک تو پہلے بھی ہوئی ہے،اگر کوئی فائدہ ہوا ہے تو پھر جنگ ہی ہوجائے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s