یعقوب میمن کا بھارت میں قتل۔۔؟؟


memon

لوگ کہتے ہیں کہ یعقوب میمن کو ممبئی حملوں کے جرم میں سزا نہیں ملی بلکہ ان کا عدالتی قتل کیا گیا ہے۔جرم ان کے بھائی نے کیا تو سزا یعقوب کر کیوں؟ اس سزا کی مخالفت سلمان خان نے بھی کی تھی ۔دوسری جانب میمن کو سزائے موت دینے کے حوالے سے قانونی تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے،ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اسے غیر انسانی فعل قراد دیا ہے۔بھارتی حکومت اپنی سپر میسی کے چکر میں اتنی پاگل ہوچکی ہے کہ اسے ہومسلمان دہشگرد نظر آتا ہے۔ہر حملے کے پیچھے پاکستان اور لشکر چھپے نظر آتے ہیں،بھارتی فوجیوں کے لشکر طیبہ کے نام پر پتلو نین گیلی ہوجاتی ہیں۔
لاہورکے مشہور چوک چوبرجی پر واقع’’مرکزالقادسیہ‘‘ جماعت الدعوہ کا فلاحی و دینی مرکز ہے،جس کا نام سن کر بھارتیوں کی ٹانگیں کانپتی ہیں،بھارتی شاید اتنے اپنے ’’بھگوان‘‘سے نہ ڈرتے ہوں جتنے اس تنظیم کے سربراہ کے نام سے خوف کھاتے ہیں،بھارت کے کسی کونے میں کسی’’ناگرک‘‘ کو چھینک بھی آجائے تو جھٹ سے ان کے نام الزام تھوپ دیا جاتا ہے۔
چوبرجی چوک پہنچیں تو سامنے ہی سیمنٹ کے بیریئر موجود ہیں ساتھ لوہے اور لکڑی کی رکاوٹیں بھی لگی ہیں،مین گیٹ پر باریش نوجوان آپ کا استقبال کرتے نظر آئیں گے،آپ کی جامع تلاشی کے بعد پوچھا جاتا ہے کہ آپ کس سے ملنا ہے،ایک اجنبی شخص کو ایسے لگتا ہے،جیسے وہ پاکستان نہیں کسی اور ملک میں آگیا ہو،وہاں موجود ہرشخص آپ کو مشکوک نظروں سے دیکھتا نظر آئے گا،اگر یہاں آپ کا کوئی جاننے والا ہے تو آپ کیلئے کوئی مسئلہ نہیں وگرنہ آپ کو تلاشی کے تمام مراحل سے گزرنا پڑے گا، وہاں موجود نوجوان’’جی بھائی‘‘ کہاں جانا ہے کس سے ملنا ہے؟ کہہ کر مخاطب ہوتا ہے۔
مرکز القادسیہ کی اطراف کی گلیوں میں جماعت کے کارکن اپنی مدد آپ کے تحت سکیورٹی کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ یہ کارکن پاکستان بھر سے تعلق رکھتے ہیں اور کسی سے بھی رعایت نہیں کرتے،مرکز کی نگرانی کے لیے کلوز سرکٹ کیمرے بھی نصب ہیں۔یہ تمام حفاظتی انتظامات عالمی دباؤ کے نتجے میں کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے کیے گئے ہیں،کچھ عرصہ پہلے چوبرجی چوک سے چند گز دور قرطبہ چوک پر ایک امریکی ریمنڈ ڈیوس نے دو پاکستانیوں کو گاڑی کے نیچ کچل کرمار دیا تھا،لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ریوڑیاں بیچنے نہیں اس مرکز کی نگرانی میں تھا اور کچھ کرنے کا سوچ رہا تھا۔بھلا ہو قانون کا اسے بھی باعزت طریقے سے چھوڑدیا۔

افغانستان میں 1979ء میں روس کی شکست کے بعد اس مرکز میں تنظیم دعوت والارشادکی بنیاد رکھی گئی،کشمیر میں جہاد کا آغاز ہوا تو اس تنظیم نے کشمیریوں کی کھل کر حمایت کی،صرف حمایت ہی نہیں افرادی قوت بھی فراہم کی،امریکہ میں نائن الیون واقعہ کے بعد جہاں پوری دنیا کے مسلمانوں کو طرح طرح سے نشانہ بنایا گیا تو یہ تنظیم بھی پابندیوں سے نہ بچ سکی،اس واقعہ کے بعد یہ دعوت والارشاد سے جماعت الدعوہ بن گئی،اس جماعت کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ ہمارا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں،ہم پاکستانی ریاست کے قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے انسانیت کی فلاح کیلئے کام کرتے ہیں،سوال یہ ہے کہ اگریہ تنظیم عسکری کارروائیوں سے انکاری ہے تو بھارت اور امریکہ کو کیا تکلیف ہے۔۔ٖ؟
اس تنظیم کے ارکان آئی ایس آئی ایس(داعش)،القائدہ اور بوکو حرام کو تکفیریوں کا گروہ قرار دیتے ہیں،ان کا خیال ہے کہ یہ سب مغرب اور ان کے امام امریکہ کے تیار کردہ سپاہی ہیں جو اسلام کا چہرہ مسخ کرنے اور مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دینے کیلئے وجود میں لائے گئے ہیں،امریکہ ان کو پروموٹ بھی کرتا ہے اور ان سے انسانوں کو ذبح بھی کرواتا ہے،تکفیری مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں،اس لئے مسلمانوں کی نشانیوں(مزارات)کو مٹایا جارہا ہے،بچوں،عورتوں اور جوانوں کو مار کر مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔
بھارت بارے ان کا خیال ہے کہ ممبئی حملوں کو بنیاد بنا کر جہاد کشمیر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی،اجمل قصاب جیسے فرضی کردار کے ذریعے ڈرامے میں دلچسپی پیدا کی،ذکی الرحمٰن لکھوی کو ماسٹر مائنڈ کا نام دیا،جن کیخلاف کوئی ثبوت بھی نہیں،پاکستانی عدالت بھی اسے بے گناہ قرار دے چکی ہے،لشکر طیبہ تو کشمیریوں کی تنظیم ہے،جسے مقبوضہ کشمیر سے ہی کنٹرول کیا جاتا ہے،کشمیر میں ہی تربیت پاتے ہیں،پاکستان یا جماعت الدعوہ سے تعلق جوڑنا اپنے گناہوں سے بھارت کا چشم پوشی اختیار کرنے کے مترادف ہے۔

بھارت نے ایک بار پھر2008 کے ممبئی حملوں میں لکھوی کے مبینہ کردار کے ٹھوس شواہد ہونے کے باعث یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ لکھوی کو جیل میں رکھے۔

بھارتی حکام نے پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کر اپنے موقف سے آگاہ کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے لکھوی کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دے کر ان کی فوری رہائی کے احکامات دیے ہیں۔

نئی دہلی میں وزیر مملکت برائے داخلہ امور کرن رجیجو نے نامہ نگاروں کو بتایا: 18ممبئی حملوں میں لکھوی کے ملوث ہونے سے متعلق تمام دستاویزات پاکستانی کورٹ میں پیش نہیں کی گئیں۔ اسی لیے عدالت نے رہائی کا حکم دیا ہے۔17

ممبئی حملوں میں لکھوی کے ملوث ہونے سے متعلق تمام دستاویزات پاکستانی کورٹ میں پیش نہیں کی گئیں۔ اسی لیے عدالت نے رہائی کا حکم دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت پاکستان اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ لکھوی جیل سے باہر نہ آئے۔
افراد پر نومبر 2008 میں ممبئی پر حملے کی منصوبہ بندی، عمل اور مالی مدد کا الزام ہے۔ اس حملے میں 166 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

ملک بھی مارا گیا


malik
پنجاب میں رمضان سے قبل دو مسجد اماموں کو نفرت انگیز تقاریر پر مختلف المعیاد قید کی سزا، پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کی پچھلی برسی پر ایک مظاہرے پر حملہ کرنے والے جوشیلوں کو تین تا پانچ برس کے لیے جیل اور اب کالعدم لشکرِ جھنگوی کے رہنما ملک محمد اسحاق اور ان کے دو صاحبزادوں سمیت چودہ افراد کی پنجاب پولیس سے مقابلے میں ہلاکت؟

تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر جزوی اور نیم دلانہ عمل درآمد کے بجائے اب اس منصوبے پر جامع انداز میں عمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟

پشاور کے آرمی پبلک سکول کے قتلِ عام کے بعد کم ازکم اس بارے میں تو قومی اتفاقِ رائے ہوگیا تھا کہ اب کہنے کا وقت گزر گیا، کرنے کا وقت آگیا۔

مگر جس طرح سے جیلوں میں طویل عرصے سے پڑے سزائے موت کے منتظر مجرموں کو پھانسی پر لٹکانے کا سلسلہ شروع ہوا تو یہ بات سامنے آئی کہ یہ پھانسیاں دہشت گردی کے خلاف ابتدائی سیاسی اتفاق رائے کے برعکس اُن مجرموں کو زیادہ دی جا رہی ہیں جنھیں انفرادی جرائم میں سزا سنائی گئی تھی۔

آج تک جتنے مجرموں کو لٹکایا گیا ان میں ہر چھ میں سے پانچ مجرم اسی کیٹیگری میں آتے ہیں۔ چنانچہ سوال اٹھا کہ کیا اس انداز سے پھانسیاں دینے سے اُن دہشت گردوں کو کچھ کان ہو جائیں گے کہ جن کی تمنا ہی موت ہے۔

دوسرا سوال یہ ابھرا کہ انفرادی وارداتوں کے مجرموں کے خلاف تو کوئی نہ کوئی گواہی دینے پر آمادہ ہوجاتا ہے لیکن دہشت گردوں کے خلاف کون گواہی دے گا کہ جن کے مقدمے سننے سے جج بھی گھبراتے ہیں اور ان میں سے کچھ دہشت گردوں کو مبینہ طور پر سیاسی حکومتوں کے اندر ایک خاص طرح کی لابی کی پشت پناہی یا نرم گوشے کی سہولت اور بعض حساس اداروں کی بھی حسبِ ضرورت و مصلحت جزوقتی و کل وقتی حمایت حاصل ہے یا رہی ہے۔
ملک اسحاق پر شیعہ اور دیگر مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل کے درجنوں مقدمات قائم کیے گئے تھے اور وہ تقریباً 15 سال جیل میں رہے

اس سوال کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ اگر تو نیشنل ایکشن پلان کی ترجیحات میں مذہب و عقیدے کے نام پر دہشت گردی اور ان کے پشت پناہوں کی گردن زدنی کے ساتھ ساتھ علاقائی و قوم پرست انتہا پسندی کی بیخ کنی بھی شامل ہوگئی ہے تو پھر پنجاب، خیبر پختونخواہ اور کراچی کے برعکس بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ یہ پالیسی کیوں نہیں اپنا رہی کہ انتہا پسندی کا جواب صرف سیکورٹی ادارے اپنی قانونی حیثیت میں دیں اور اس کام میں طفیلی پرائیویٹ ملیشیائیں استعمال کرنے سے گریز کریں۔

یقیناً ضربِ عضب اور انٹیلی جینس کی بنیاد پر ٹارگٹڈ آپریشنز سے مجموعی طور پر بہتری آئی ہے۔ یقیناً یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ روایتی جنگ کے برعکس ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد ہے۔ مگر یہ جنگ صرف درخت کے پتے جھاڑنے سے نہیں جیتی جا سکتی جب تک جڑوں پر پوری توجہ نہیں دی جائے۔ اور جڑیں اکھاڑنے کے لیے ضروری ہے کہ سوچ کا دھارا بدلنے پر بھی اسی قدر توجہ دی جائے جتنی توجہ پتے جھاڑنے پر ہے۔

ان لوگوں کے پیچھے جانے کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے جو بندوق چلانے سے زیادہ خطرناک کام کرتے ہیں یعنی دماغ مسلح کرتے ہیں۔ فرسودہ نظامِ انصاف کو بھی لیپا پوتی کے بجائے ازسرِ نو تعمیر کی ضرورت ہے تاکہ بالائے قانون پولیس مقابلوں اور جبری گمشدگی کے دھبوں سے بچا جا سکے اور گیہوں سے زیادہ گھن نہ پس جائے۔

اور اس سب سے بھی زیادہ اس مسئلے کو گریبان سے پکڑنے کی ضرورت ہے کہ عام آدمی کی ناامیدی رفتہ رفتہ امید میں بدلے۔ یہ صرف کہنے سے نہیں ہوگا۔ جب تک اس کا سماجی، سیاسی، اقتصادی اور نفسیاتی احساسِ محرومی ختم نہیں ہوگا بھلے ختم نہ بھی ہو تب بھی اس کو یہ احساس ضرور ہونا چاہیے کہ اس سمت کچھوے کی رفتار سے ہی سہی مگر کام ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس جملے کو بھی فیصلہ سازوں کو اپنے دماغ سے کھرچنے کی ضرورت ہے کہ اے ساڈا بندہ اے تے او اونہاں دا بندہ ہے۔ اینوں چھڈ دیو تو اونہوں مار دیو۔

ورنہ تو یہی باتیں ہوتی رہیں گی کہ سب کچھ وقتی ہے یا ان پھرتیوں کا تعلق پاک چائنا اکنامک کاریڈور سے ہے یا پھر عالمی برادری کی نظروں میں اپنا امیج بہتر بنانے کی ایک اور کوشش ہے۔

Deteriorating education


Government-Primary-School-Abbottabad-2013

Article 26 of the 1948 Universal Declaration on Human Rights states that everyone has the right to education. Education is not only a right, but also a passport to human development. It opens up new avenues of creativity and opportunities. The ultimate aim of Education for All (EFA) has been to ensure a sustainable development of every society. In Pakistan, education has failed to gain the attention of the government, and remains the least important matter. The ruling parties have captured EFA as a slogan without making much difference. In south Punjab many schools, colleges even universities lack basic facilities and the buildings are in dilapidated condition, let alone the education itself.
In Khanewal district for instance, many schools do not have their own buildings. Students study under trees. Here I have one example to quote. The Government High School Jarala, Faisalabad, has only three classrooms for 550 students, with no clean water facility, playground, or science laboratory. Worst of all the school is being run without teachers. It is time to change our education policy and to improve the condition of schools, colleges and other educational institutions.

یہ دھکا کس نے دیا تھا؟


dharna

2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کی رپورٹ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان یقینی طور پر یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اُنھیں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام کا مشورہ کس نے دیا تھا؟

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو بھی تو یہ معلوم ہوگا کہ اُن کے پاس منظم دھاندلی کے ثبوت نہیں ہیں۔ اگر ہوتے تو وہ یہ ثبوت جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش کیے جا چکے ہوتے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گذشتہ عام انتخابات میں دھاندلی سے متعلق ناقابل تردید شواہد پہلے اکھٹے کیے جاتے تو پھر اس کے بعد حکومت پر دباؤ ڈال کر عدالتی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا جاتا لیکن اس کے اُلٹ ہوا۔ اور پی ٹی آئی نے پہلے حکومت پر دباؤ ڈال کر عدالتی کمیشن کی تشکیل کروائی اور اس کے بعد پارٹی کارکنوں سے کہ کہ اگر اُن کے پاس منظم دھاندلی کے بارے میں کوئی ثبوت ہیں تو وہ جلد از جلد پارٹی کے دفتر میں پہنچائیں۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی کمیشن نے جب منظم دھاندلی سے متعلق تحقیقات شروع کیں تو شائد پاکستان تحریک انصاف کو یہ امید تھی کہ عدالتی کمیشن جسے فوجداری عدالت کے اختیارات بھی حاصل تھے، ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے گی۔

اس ٹیم میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور ایم آئی کے اہلکار بھی شامل ہوں گے اور یہ ٹیم ریٹرنگ افسران کے علاوہ دیگر افراد سے پوچھ گچھ کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا ۔

اگرچہ پاکستان تحریک انصاف نے دل پر پتھر رکھ کر اس عدالتی کمیشن کے فیصلے کو قبول کیا ہے لیکن جماعت کے سیکرٹری اطلاعات نعیم الحق کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی کمیشن مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دیتا تو شائد کمیشن کی فائنڈنگز کچھ اور ہوتیں۔

پاکستان تحریک انصاف تھیلے بھر کر ثبوت عدالتی کمیشن کے سامنے پیش کرنے کا دعویٰ تو کرتی رہی ہے لیکن وہ محض ردی کے کاغذ ہی ثابت ہوئے کیونکہ ایک بھی ثبوت منظم دھاندلی کے الزامات ثابت نہ کرسکا۔

مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل کے لیے 14 اگست 2014 میں لاہور سے لانگ مارچ کرنے والے عمران خان پہلے یہ دعویٰ کرتے رہے کہ مبینہ دھاندلی میں فوج کے خفیہ ادارے ایم آئی کے ایک بریگیڈیر ملوث ہیں جن کا نام پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے آج تک نہیں بتایا۔

سنہ 2013 کے انتخابات کے دوران جسٹس افتخار محمد چوہدری پاکستان کے چیف جسٹس تھے اور عمران خان نے افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی تحریک میں حصہ لیا وہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس کو ”قوم کا مسیحا” قراد دیتے تھے۔

لیکن جب اُنھوں نے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر قومی اسمبلی کے چار حلقے کھولنے سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کی درخواست کو ترجیحی بنیادوں پر سننے سے انکار کردیا اور افتخار چوہدری کی ریٹائر ہو گئے تو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے منظم دھاندلی کے تمام تر الزامات خفیہ ادارے کے بریگیڈیر کے بجائے سابق چیف جسٹس پر دھر دیے۔

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے عدالتی کمیشن کے سامنے گواہان کی جو فہرست پیش کی تھی اس میں افتخار محمد چوہدری کا نام شامل نہیں تھا۔

پاکستان کے سابق چیف جسٹس نے عمران خان کے خلاف مقامی عدالت میں ہتک عزت کا دعوی بھی دائر کر رکھا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین موجودہ چیف جسٹس ناصر الملک کو ایک قابل جج اور قابل احترام سمجھتے ہیں لیکن آیا کیا وہ اُن کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ اپنے اس بیان پر قائم رہیں گے یا پھر اُن کے ساتھ بھی سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرح کا رویہ رکھیں گے اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

یاد رہے کہ پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس اگست کے آخر میں ریٹائر ہور ہے ہیں۔

سنئیر صحافی طلعت حسین کہتے ہیں کہ عدالتی کمیشن کے فیصلے کے بعد عمران خان کو اپنی جماعت کی دوبارہ صف بندی کرنی چاہیے اور ایسے افراد کی نشاندہی کی جانی چاہیے جنہوں نے بغیر ثبوتوں کے عدالتی کمیشن کے قیام کے مطالبے کی حمایت کی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالتی کمیشن کا فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے اور لوگوں کو پی ٹی آئی پر اعتماد بحال کرنے میں ایک عرصہ درکار ہوگا۔

ماہر قانون ایس ایم ظفر کہتے ہیں کہ جب انتخابی اصلاحات نہیں کی جاتیں اس وقت تک دھاندلی کو روکنا ناممکن ہے۔ اگر انتخابی اصلاحات نہ ہوئیں تو پھر ملک میں ہونے والے ہر انتخابات میں دھاندلی شکاتیں زور پکڑتی جائیں گی اور عدالتی کمیشن بننے کے باوجود بھی منظم دھاندلی کبھی بھی ثابت نہیں کی جاسکے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کی مخالف سیاسی جماعتیں جہاں عمران خان سے عدالتی کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد معافی کا مطالبہ کرہی ہیں وہیں ان جماعتوں کی طرف سے یہ مطالبہ بھی زرو پکڑتا جارہا ہے کہ ان محرکات کو جاننے کے لیے بھی عدالتی کمیشن بنایا جائے جن کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا

’’عیدی‘‘


policeتحریر:اظہر تھراج
دنیا بھرمیں سوفٹ ٹیکنالوجی کے آنے سے جہاں ایک مثبت تبدیلی آئی ہے تو کرپٹ لوگوں نے بھی اس کا خوب فائدہ اٹھایا ہے،انہوں نے ابھی اپنی لوٹ مار کو سوفٹ نام دے دیے ہیں،رشوت کو مٹھائی،خوشی کا نام دے کر جیبیں بھری جاتی ہیں،اب چونکہ عید کا موقع ہے تو یہاں ’’عیدی‘‘ جیسے خوبصورت اور خوشی کے کا نام کو بھی اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔خوشیاں سب کا حق ہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اخلاقیات قانون کو پس پشت ڈال دیا جائے۔
رمضان المبارک میں سب نے دیکھا کہ کیسے کیسے ہم عوام کی خدمت کرتے پائے گئے،ہمارے روزے کیسے کمال کے گزرے ہیں،جس کا اندازہ حکمران جماعت کے نمائندوں، کارندوں اورسازندوں کے بیانات سے لگایا جا سکتا ہے۔سب چیخ چیخ کراپنی گڈگورننس کا پرچارکرتے رہے،رمضان بازاروں کے دورے کرتے پائے گئے،بڑی محنت کی ہے بیچاروں نے روزانہ مارکیٹوں میں جا کر تصویریں بنوانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ٹی وی پر تبصرے کرنا اور اپنی حکومت کے گن گانا خالہ جی کا گھر نہیں ہے!!دیہات کی بات چھوڑیں چھوٹے بڑے شہروں میں چیزیں مہنگی تو کیا سستی بھی نہیں ہونے دیں،ہر چیز رمضان سے پہلے جس قیمت پر تھی اسی پر تو بکتی رہی ہے،معیار بھی کیا کمال تھا پیمائش بھی کیا عالمی سٹینڈرڈ کے مطابق تھی۔کلو پاؤ تو پانچ کلو چار سیر۔
عید کا نیا جوڑا بنوانے بازار نکلا تو پہلے کوئی درزی نہ ملا ہر ایک نے ’’نو بکنگ ‘‘کے بورڈ آویزاں کررکھے تھے،ایک صاحب ملے تو انہوں نے کپڑوں کی قیمت سے زیادہ سلائی کے پیسے مانگ لیے،ایک گھنٹے کی تگ و دو کے بعد ایک اور درزی کے پاس پہنچا جو شکل سے نمازی پرہیزی اور ایماندار نظر آرہا تھا اس نے بھی پہلے تو ناں ناں کی جب دیکھا مرغا ذبح ہونے کو تیار ہے تو اس نے چھری رکھ دی اوردو گنا پیسوں کے عوض جوڑا بنانے کو تیار ہوگیا،جب پوچھا بھائی پیسے زیادہ کیوں لے رہے ہو؟ صاحب فرماتے عید ہے عیدی تو لوں گا۔مرتا کیا نہ کرتا!
دفتر پہنچا تو وہا ں بھی کئی ’’عیدی‘‘ لینے والے موجود تھے،اکاؤنٹس والوں نے جرمانوں کے نام پر بلیڈ مارا تو چھوٹے ملازمین نے صاحب،صاحب کہہ کر جیب کاٹ لی،واپس گھر کی طرف رخت صفر باندھا تو ہمارے محافظوں نے امن اور سکیورٹی کے نام پر ناکہ لگا رکھا تھا وہاں بھی ایسے عیدی وصول کی جارہی تھی جیسے ان کے باپ دادا کی کمائی پروہاں سے گزرنے والوں نے قبضہ جما رکھا ہو۔زیادہ تر کم عمر ڈرائیوروں کو روکا جارہا تھا جو با آسانی عیدی دینے کو تیار ہوجاتے تھے۔میں تو آیت الکرسی پڑھ کرنکل گیا۔لیکن بھائی کا فون آیا کہ قوم کے محافظوں نے پیسے نہ ہونے پر میرے سمیت جس کو روکا پٹرول نکال لیا ہے،کئیوں نے تو موبائل فون دے کر جان بخشی کروائی،بھائی عید ہے ناں ’’عیدی ‘‘ تو دینا پڑے گی۔
ٹرانسپورٹرز بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے،مسافروں کو بروقت منزل پر جو پہنچانا ہے،لاہور سے لیہ تک،پنڈی سے کشمیر تک،کراچی سے خیبر تک سب کو ’’عیدی‘‘ کے نام پر چونا لگایا گیا۔
اب نائیوں کی باری آئی تو انہوں نے پہلے ہی اوزار تیز کررکھے تھے بال کٹیں نہ کٹیں جیبیں ضرور کٹنی چاہئیں،ہر چیز کے دوگنے ریٹ۔ایسا تو ہونا تھا عید ہے ’’عیدی‘‘ تو بنتی ہے۔
عید کاروز تو پھر ’’عیدی‘‘ کا دن ہوگا۔
یہ ایسے واقعات ہیں جو ہر ایک انسان کو پیش آئے ہوں گے۔عید کے نام پر عیدی لینے والوں یقیناً یہ نہیں سوچا ہوگا کہ یہ جو شخص ہے اس کے بچے کس حالت میں ہیں،اس نے یہ پیسے کیسے کمائے ہونگے،نہ جانے کتنے پہر پیٹ کاٹ کر اس نے یہ پیسے جمع کیے ہونگے،نہیں،نہیں ایسا کسی نے بھی نہیں سوچا ہوگا۔ آپ کسی بھی غیرملکی سے پوچھ لیں کہ ایسا کہیں بھی نہیں ہوتا،یہ سب تیرے اور میرے ملک پاکستان میں ہوتا ہے،یہاں عام سے خواص تک سب نے لوٹ مار کو ماٹو بنا لیا ہے۔باقی مذاہب میں جب تہوار آتے ہیں تو روزمرہ کے استعمال کی چیزیں سستی کردی جاتی ہیں،افسوس کہ ہمارے ہاں تو الٹا ہی رواج ہے۔ہمارے گناہ اتنے بڑھ چکے ہیں ہمیں اللہ ہی غفور ورحیم ہے جو بچائے ہوئے ہے۔
سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان سب کاموں کا انجام کیا ہے،ایسے کام کرنے والوں کا انجام کیا ہوا؟تاریخ گواہ ہے کہ قوم عاد کی نافرمانی حد سے بڑھ گئی تو ان پر خوفناک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب بھیجا گیا،قوم لوط کی برائیاں عروج پر پہنچیں تو ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی،سبا قبیلے کے سردار نے آسمان کی طرف تھوکا اور کفر کا اعلان کیاتو اس قبیلے پر سیلاب کی صورت میں عذاب نازل کیا گیا،ابرہہ نے کعبے پر حملے کا ارادہ کیا تو اللہ نے ابابیلوں کا لشکر بھیجا جس نے ابرہہ کے لشکر پر اتنی کنکریاں برسائیں کہ وہ کھائے ہوئے بھس کی مانند ہوگئے۔اے اللہ کے بندو کہاں تک اپنے رب کی نافرمانی کرو گے اللہ جب پکڑنے پر آتا ہے تو اس کی گرفت سے کوئی خان،کوئی رئیس،کوئی میاں،کوئی جاگیردار،چھوٹے پیٹ والا،بڑے پیٹ والا کوئی بھی نہیں بچ پاتا،کب تک انسانیت کا خون پیتے رہو گے؟یہ زلزلے،یہ طوفان،یہ سیلاب تمھارے لیے وعید ہی تو ہیں تمھارے لیے قدرت کا پیغام ہی تو ہیں،کیونکہ سورہ انعام میں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی کو اس بات پر قدرت ہے کہ تم پر عذاب لے کر آئے چاہے اوپر سے،چاہے تمھارے قدموں سے۔۔۔۔

پکچر ابھی باقی ہے دوست۔۔۔


جون میں شروع ہونے والے ویانا مذاکرات کے حتمی دور میں کڑی سودے بازی ہوئی

ایران کا جوہری پروگرام 58 برس پرانا ہے۔ 1957 میں امریکہ کی آئزن ہاور انتظامیہ نے ایٹم برائے امن کی اسکیم کے تحت پاکستان اور ایران سمیت کئی ترقی پذیر ممالک کو پانچ میگاواٹ قوت کے ریسرچ ری ایکٹر فراہم کیے جن کے لیے افزودہ مواد بھی امریکہ دیتا تھا۔

1968 میں جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے کے ابتدائی دستخط کنندگان میں ایران بھی شامل تھا۔

سمجھوتے کے فریقوں کو پابند کیا گیا کہ ان کی ایٹمی سرگرمیاں جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کے قوانین و نگرانی کے تابع ہوں گی۔(اسرائیل، پاکستان اور بھارت نے اس سمجھوتے پر آج تک دستخط نہیں کیے)۔

شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی نے 1974 میں اعلان کیا کہ چونکہ تیل ایک دن ختم ہو جائے گا لہٰذا پیش بندی کے طور پر ایران 1994 تک 23 ہزار میگا واٹ ایٹمی بجلی پیدا کرے گا۔ آٹھ امریکی کمپنیوں سمیت درجن بھر مغربی اداروں سے ٹینڈر طلب کیے گئے۔ ایک جرمن کمپنی سیمنز نے بوشہر میں 1200 میگاواٹ کے پہلے پلانٹ کی تعمیر شروع بھی کر دی۔

مئی 1974 میں بھارت نے پہلا ایٹمی دھماکہ کیا۔ ایک ماہ بعد رضا شاہ پہلوی نے فرانسیسی اخبار لی ماند کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران دنیا کی توقعات سے کہیں پہلے خود کو ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح کر لے گا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب ایران امریکہ کا علاقائی پولیس مین اور خطے کی واحد غیر اعلانیہ جوہری قوت اسرائیل کا سفارتی ساجھے دار تھا۔

جون 1974 میں امریکی محکمہ دفاع کی ایک اندرونی یادداشت میں کہا گیا کہ اگر شاہ اپنے جوہری بجلی گھروں کے عظیم الشان منصوبے کو مکمل کر لیتا ہے تو اتنا استعمال شدہ پلوٹونیم پیدا ہوگا جو چھ سو سے سات سو ہتھیاروں کے لیے کافی ہو۔

شاہ کو ایٹمی ہتھیاروں کے خیال سے دور اور سویلیئن ایٹمی راستے پر رکھنے کے لیے امریکیوں نے تجویز پیش کی کہ اگر شاہ ایٹمی مواد کی ری پروسسینگ ملک کے اندر کرنا پسند کریں تو پھر امریکہ کے ساتھ ایک مشترکہ ری پروسینگ پلانٹ لگا لیں یا پھر امریکہ سے اپنے جوہری پلانٹس کے لیے ایندھن اس شرط پہ لے لیں کہ استعمال شدہ ایندھن امریکہ کو واپس کر دیا جائے گا۔

1978 میں صدر جمی کارٹر کے دورۂ تہران کے موقعے پر اس بارے میں جوہری تعاون کا ایک جامع سمجھوتہ بھی اصولاً طے پا گیا مگر حالات اتنی تیزی سے بدلے کہ شاہ کی حکومت بھی نہ رہی اور ایک نیا ایران نمودار ہو گیا اور کارٹر کو بھی لے ڈوبا۔

آیت اللہ خمینی نے تہران میں اترتے ہی امریکہ کو شیطانِ بزرگ قرار دیا اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری، ذخیرے اور استعمال کو حرام قرار دینے کا فتویٰ بھی جاری کیا ( بعد ازاں 2005 میں علی خامنہ ای نے اس فتوے کی تجدید کی)۔ چنانچہ ’شیطانِ بزرگ‘ نے تہران یونیورسٹی کے ریسرچ ری ایکٹر کے لیے افزودہ یورینیئم کی فراہمی روک دی۔

صدر احمدی نژاد اور امریکی صدر بش کے بے لچک رویوں نے کوئی بریک تھرو نہیں ہونے دیا تھا

امریکی کمپنیوں نے جوہری بجلی گھروں کے منصوبوں میں شرکت سے فوراً ہاتھ کھینچ لیا۔ فرانس نے اپنی ایک ری پروسیسنگ کمپنی میں سابق شاہی حکومت کے دس فیصد شیئرز منجمد کر دیے اور جرمن کمپنی سیمنز نے امریکی دباؤ پر بوشہر جوہری بجلی گھر کا تعمیراتی کام بیچ میں چھوڑ دیا۔ بعد ازاں عراق ایران جنگ کے دوران عراقی فضائیہ نے بوشہر پلانٹ کے ڈھانچے پر بمباری بھی کی۔

1984 میں ایران نے اعلان کیا کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی سمجھوتے (این پی ٹی) کی حدود میں رہتے ہوئے پرامن جوہری سرگرمیاں جاری رکھے گا۔ ارجنٹینا، چین اور سوویت یونین سےغیر فوجی جوہری تعاون کے سمجھوتے ہوئے۔

ایک روسی کمپنی کو بوشہر بجلی گھر کی تعمیر مکمل کرنے کا ٹھیکہ ملا۔ ایران نے یہ موقف اپنائے رکھا کہ اسے این پی ٹی کے تحت غیر فوجی مقاصد کے لیے یورینیئم کی افزودگی کا حق حاصل ہے۔

1998 میں جب پاکستان نے بھارت کے جواب میں ایٹمی دھما کے کیے تو پانچ روز بعد ایرانی وزیرِ خارجہ کمال خرازی نے اسلام آباد پہنچ کر نواز شریف حکومت کو اس کارنامے پر مبارکباد دی۔

تب تک ایک راز امریکیوں کے علم میں آ چکا تھا مگر نواز شریف حکومت اس راز سے بےخبر تھی، یعنی ڈاکٹر قدیر نیٹ ورک کے توسط سے ایران کو یورینیئم کی افزودگی کے لیے آئی آر ون ماڈل کے سینٹری فیوجز اور جوہری ہتھیاروں کی چینی ڈرائنگز کی فراہمی کا راز۔

آئی اے ای اے نے سنہ 2003 میں اپنی رپورٹ میں پہلی دفعہ انکشاف کیا کہ نطنز کے جوہری مرکز میں فوجی استعمال کے انتہائی افزودہ یورینیئم کے آثار ملے ہیں۔

اسرائیل اور سعودی عرب اس سمجھوتے سے خوش نہیں ہیں

ایران کا موقف تھا کہ یہ آثار استعمال شدہ پاکستانی سینٹری فیوجز کے ہیں اور ایران نے عدم اعتماد کی فضا کے پیشِ نظر عارضی طور پر یورینیئم کی افزودگی کا عمل بھی روک دیا۔ تاہم آئی ای اے بضد رہی کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

چنانچہ 2006 میں ایران کا کیس آئی اے ای اے کے بورڈ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے پیش کیا اور یوں ایران پر مرحلہ وار ایٹمی، فوجی اور معاشی پابندیاں نافذ ہوتی چلی گئیں۔

اس عرصے میں مذاکرات کے کئی دور ہوئے تاہم صدر احمدی نژاد اور امریکی صدر بش کے بے لچک رویوں نے کوئی بریک تھرو نہیں ہونے دیا۔

دنیا کی پوری توجہ ایرانی جوہری پروگرام پر مرکوز رہتے ہوئے یہ سوال اٹھانے کی کسی کو فرصت نہیں رہی کہ اسرائیل کے جوہری اسلحہ خانے پر بھی کچھ توجہ کر لی جائے جہاں فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کے 1987 کے اندازے کے مطابق 80 ایٹمی ہتھیار تیار پڑے تھے اور آج 2015 ہے۔

قصہ مختصر انتہائی تھکا دینے والے مذاکراتی ادوار کے بعد سوئس شہر لوزان میں 24 مارچ کو سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان مع جرمنی اور ایران کے درمیان جس جامع سمجھوتے کا خاکہ طے پایا اس میں ایران کا یہ بنیادی مطالبہ تسلیم کر لیا گیا کہ اسے سویلین مقاصد کے لیے یورینیئم کی3.67 فیصد تک افزودگی کا حق ہو گا۔ (ایٹمی ہتھیار سازی کے لیے 90 فیصد تک افزودگی ضروری ہے اور ایران 20 فیصد تک افزودگی کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے)۔

اسرائیل نے ایران کے سویلین جوہری پروگرام کے معاہدے کو تاریخی غلطی قرار دیا ہے

اس کے عوض ایران کو اپنے یورینیئم افزودہ کرنے والے سنٹری فیوجز کی تعداد 19 ہزار سے کم کر کے چھ ہزار تک لانی ہو گی۔ ایران پرانے آئی آر ون کے علاوہ کسی اور ساخت کے سینٹری فیوجز استعمال نہیں کر سکے گا۔ ایران اپنا دس ہزار کلو گرام افزودہ یورینیم کا ذخیرہ کم کر کے تین سو کلو گرام تک لے آئے گا۔ ایران صرف نطنز کا پلانٹ جوہری افزودگی کے لیے استعمال کرے گا اور فردو کا جوہری مرکز صرف تحقیق و ترقی کے مقاصد کے لیے استعمال ہوگا۔ ارک کے پلوٹونیم ساز پلانٹ میں تبدیلیاں ہوں گی تاکہ اس میں صرف انرجی گریڈ کا پلوٹونیم تیار ہوسکے۔ ارک کا ہیوی واٹر ری ایکٹر استعمال نہیں ہو سکے گا اور استعمال شدہ پلوٹونیم بیرونِ ملک بھیج دیا جائے گا۔

اس کے علاوہ آئی اے ای اے کی معائنہ ٹیموں کو تمام جوہری تنصیبات، یورینیم کی کانوں، کارخانوں، سپلائی کے کھاتوں اور دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی کی اچانک چھان پھٹک کا بلا روک ٹوک حق ہوگا۔ ابتداً یہ سمجھوتہ دس سے 15 برس کے عرصے کے لیے ہوگا۔ جیسے ہی آئی اے ای اے تصدیق کرے گا کہ سمجھوتے پر مکمل عمل ہو رہا ہے، ایران کے خلاف پابندیوں کے مرحلہ وار خاتمے کی سلامتی کونسل سے درخواست کی جائے گی۔

اور پھر 30 جون حتمی سمجھوتے کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی۔ تاہم علی خامنہ ای سمیت اعلی ایرانی روحانی و سیاسی قیادت کا مطالبہ تھا کہ حتمی سمجھوتے پر دستخط ہوتے ہی ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں مرحلہ وار اٹھنے کے بجائے یک مشت اٹھنی چاہییں۔

اس کے عوض مغرب کی فائیو پلس ٹو مذاکراتی ٹیم نے مطالبہ کیا کہ جوہری توانائی کی معائنہ ایجنسی کے انسپکٹروں کو بلا روک ٹوک تمام ایٹمی اور فوجی نوعیت کی تنصیبات کے معائنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

اس معاملے پر جون میں شروع ہونے والے ویانا مذاکرات کے حتمی دور میں کڑی سودے بازی ہوئی۔ بالآخر یہ مہم سر کر لی گئی۔

ایران صرف نطنز کا پلانٹ جوہری افزودگی کے لیے استعمال کرے گا

مگر کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اسرائیل، سعودی عرب اور امریکی کانگریس اس سمجھوتے سے خوش نہیں۔ اسرائیل ایران کے سویلین جوہری پروگرام کو جڑ سے اکھاڑنے تک مطمئن نہیں ہو گا کیونکہ اسرائیل خطے میں تنِ تنہا ایٹمی قوت رہنا چاہتا ہے یعنی ’سنجھیاں ہو جاون گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے۔‘

سعودی عرب نہ صرف ایرانی جوہری صلاحیت کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے بلکہ اسے یہ فکر بھی ہے کہ پابندیوں کے خاتمے کے بعد جب روزانہ پانچ لاکھ بیرل سے زیادہ ایرانی تیل مارکیٹ میں آئے گا تو تیل کی قیمت مزید غیر یقینی ہوگی اور جب ایران کی اقتصادی مشکیں ڈھیلی ہوں گی تو شام، لبنان، عراق اور یمن سمیت اس کے علاقائی، سیاسی و فوجی اثر و نفوذ میں اضافہ بھی ناگزیر ہے۔

سب سے بڑی آزمائش اب یہ ہے کہ ایک جانب ایران کے اندر کا سخت گیر مذہبی عنصر اس سمجھوتے کو کتنا قبول کرے گا اور اسرائیل کی جانب جھکاؤ رکھنے والی امریکی کانگریس اسرائیل کو مطمئن کرتے ہوئے کب اور کیسے سمجھوتے کی توثیق کرے گی۔

آئیڈیاز جن کے مالک ارب پتی بن گئے


فیصل ظفر


عام طور پر ہر 10 میں سے نو کاروباری آئیڈیاز ناکام ہوجاتے ہیں مگر جو کامیاب ہوتے ہیں ان میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے اور وہ ہے ان کا زبردست ہونا۔

ایسے ہی چند زبردست خیالات کے بارے میں جانے جنھیں پیش کرنے والے افراد غربت کی سطح سے نکل کر ارب پتی بن گئے اور اب دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں۔

اور ان میں ایسے نام بھی شامل ہیں جن کے بارے میں آپ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ وہ کبھی غریب بھی ہوسکتے تھے۔

گوگل کے بانی لیری پیج اور سرگئی برن

اے پی فوٹو
اے پی فوٹو

لیری پیج اور سرگئی برن امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالبعلم تھے جب وہ پہلی بار ایک سرچ انجن کے آئیڈیا کے ساتھ سامنے آئے۔ تاہم ان کا یہ خیال اس وقت مارکیٹ میں موجود دیگر سرچ انجنز سے مختلف تھا، یہ سرچ انجن صرف کی ورڈز ہی نہیں بلکہ ویب پیجز کے لنکس میں سرچ کی جانے والی چیز کی مناسب اور نمبر کا تجزیہ بھی کرسکتا تھا۔ اب دو طالبعلموں کا پیش کردہ گوگل سرچ انجن انٹرنیٹ پر راج کررہا ہے اور یہ کمپنی 66 ارب ڈالرز سے زائد کی مالک بن چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا کے مقبول ترین موبائل فون پلیٹ فارم (آنڈرائیڈ) اور دنیا کی سب سے مقبول ترین ویڈیو ویب سائٹ (یو ٹیوب) کو بھی چلا رہے ہیں جبکہ دیگر انوکھی ایجادات بھی سامنے آتی رہتی ہیں جیسے گوگل گلاس وغیرہ، دلچسپ بات یہ ہے کہ لیری پیج اور سرگئی برن دونوں اس لگ بھگ تیس، تیس ارب ڈالرز کے مالک بن چکے ہیں۔

مارک زیوکربرگ

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

مارک زیوکربرگ ہاورڈ میں انڈر گریجوٹ تھے جب وہ ایک فیس میش نامی ویب سائٹ کے خیال کے ساتھ سامنے آئے۔ اس سائٹ کے ذریعے مارک زیوکربرگ نے سیکھا کہ کس طرح ٹیکنالوجی کو لوگوں کو آن لائن کنکٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور پھر انہوں نے ایک سائٹ دی فیس بک ڈاٹ کام متعارف کرائی۔ بعد ازاں اس ویب سائٹ کا نام تبدیل کرکے فیس بک رکھ دیا گیا اور ایک دہائی کے اندر اندر یہ ڈھائی سو ارب ڈالرز کی کمپنی کی شکل اختیار کرگئی، ذاتی طور پر مارک زیوکربرگ خود 35 ارب ڈالرز سے زائد کے مالک ہیں۔

مائیکل بلوم برگ

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

مائیکل بلوم برگ 1970 کی دہائی میں وال اسٹریٹ کے ٹریڈر تھے تاہم اس زمانے میں انہیں احساس ہوا کہ مالیاتی کمپنیاں قابل اعتبار کاروباری معلومات کے لیے بڑی رقم ادا کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے ایک ایسا کاروبار متعارف کرایا جو اہم مالیاتی معلومات کمپیوٹر ٹرمینلز کے ذریعے فوری طور پر مہیا کرنے کا کام کرتا تھا۔ اب اس کمپنی کو سالانہ 8 ارب ڈالرز سے زائد کی آمدنی ہورہی ہے اور یہ دنیا کی طاقتور ترین میڈیا اور مالیاتی معلومات مہیا کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ مائیکل بلوم برگ بھی اس کے نتیجے میں 37 ارب ڈالرز کما کر دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک بن چکے ہیں۔

جیف بیزوز

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

جیف بیزوز نوے کی دہائی میں ایک امریکی کمپنی میں ملازم تھے جب انہوں نے اپنی کمپنی کھولنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم کوئی کاروبار سمجھ میں نہیں آتا تاہم آن لائن بک اسٹور کو متعارف کرانے کا خیال ان کے دل کو بھا گیا۔ اب کی یہ کمپنی آمیزون کے نام سے دنیا بھر میں آن لائن خریداری کی مقبول ترین سائٹ بن چکی ہے جس کی مالیت دو سو ارب ڈالرز سے زائد جبکہ سالانہ فروخت 88 ارب سے زیادہ کی ہے۔ جیف بیزوز کی ذاتی دولت کا تخمینہ بھی 38 ارب ڈالرز سے زائد کا لگایا جاتا ہے۔

لیری ایلیسن

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

جنوبی شکاگو میں پلنے بڑھنے والے لیری کا بچپن مشکل حالات میں گزرا اور مالی مشکلات کے باعث دو بار کالج سے نکلنا پڑا۔ مگر ساٹھ کی دہائی کے وسط میں جب لیری نے کیلیفورنیا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تو ایک ڈیٹا بیس پروگرامنگ لینگویج ایس کیو ایل سے متعلق رپورٹ نے انہیں اتنا متاثر کیا کہ انہوں نے ایس کیو ایل کو اپنا کر اوریکل ڈیٹا بیس کی تشکیل دی جو کہ آئی بی ایم برانڈ سے ہٹ کر دیگر کمپیوٹرز پر کام کرسکتا تھا۔ کچھ ہی برسوں میں اوریکل مقبول ترین ڈیٹابیس پروگرام کی شکل میں ابھر کر سامنے آیا اور اب اس کی مالیت 195 ارب ڈالرز سے زائد ہیں جبکہ اس کے بانی لیری ایلیسن میں 65 ارب ڈالرز کے اثاثوں کے ساتھ دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں۔

بل گیٹس

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

یہ سال 1975 کی بات ہے جب بل گیٹس اور پال ایلن نامی نوجوانوں نے مائیکرو کمپیوٹر کی ابتدائی قسم الٹیئر 8800 کو تیار کیا جس کے لیے انہوں نے ایک پروگرامنگ لینگویج تیار کی جسے بیسک کا نام دیا گیا بعد ازاں انہوں نے مائیکروسافٹ نامی کمپنی کو تشکیل دیا جس کے ذریعے ایک آپریٹنگ سسٹم ڈوز تیار کیا گیا اور آئی بی ایم کو اس کا لائسنس دیا گیا۔ کچھ سال بعد مائیکروسافٹ نے اس بہتر آپریٹنگ سسٹم ونڈوز تیار کیا اور اس کے بعد سے وہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے جو کہ پرسنل کمپیوٹر اور سافٹ ویئر مارکیٹ پر راج کررہی ہے۔ اس کے 370 ارب ڈالرز کا کاروبار سروسز اور ڈیٹا سینٹرز کے ساتھ ساتھ ویڈیو گیمز اور موبائل فونز پر بھی چل رہا ہے جبکہ بل گیٹس 80 ارب ڈالرز کے قریب کے اثاثوں کے ساتھ دنیا کے امیر ترین شخص قرار دیئے جاتے ہیں۔

مارک کیوبن

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

مارک کیوبن نوے کی دہائی میں ایک انٹرنیٹ کمپنی چلارہے تھے اور ایک کمپنی براڈکاسٹ ڈاٹ کام کو ترقی دے رہے تھے جس کے دوران انہوں نے سیٹلائیٹ نشریات کو وی پر نشر کرنے کے آئیڈیا کو اپنا لیا، کچھ عرصے بعد مارک نے براڈ کاسٹ ڈاٹ کام 5.7 ارب ڈالرز کے عوض یاہو کو فروخت کردی۔ اب یہ کمپنی تو موجود نہیں مگر مارک کیوبن تین ارب ڈالرز کے اثاثوں کے ساتھ غربت سے امارات کی سیڑھیاں چڑھنے والے کامیاب ترین افراد میں سے ایک ضرور مانے جاتے ہیں۔

جیک ما

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

جیک ما کو 1995 میں امریکا کا دورہ کرنے پر انٹرنیٹ سے دلچسپی پیدا ہوئی اور جلد ہی انہوں نے دو انٹرنیٹ کمپنیوں کا آغاز کیا تاہم وہ ناکام ثابت ہوئیں مگر ان کی تیسری کوشش جسے انہوں نے علی بابا کا نام دیا ہٹ ثابت ہوئی۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں برآمد کنندگان اپنی اشیاءکو صارفین کو براہ راست فروخت کرسکتے ہیں۔1999 میں اس کمپنی نے اپنے سفر کا آغاز کیا اور صرف پندرہ سال کے عرصے میں یہ علی بابا امریکی اسٹاک مارکیٹ میں سرفہرست آگئی اور اب اس کی مالیت دو سو ارب ڈالرز سے زیادہ ہے جبکہ جیک ما کے اپنے اثاثوں کی مالیت 24 ارب ڈالرز سے زیادہ ہوچکی ہے۔

جان کوم

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

جان کوم نے اپنے شراکت دار برائن ایکٹن کے ساتھ مل کر ایک ایسی فون بک اپلیکشن تیار کرنے کی کوشش کی جو لوگوں کے ناموں کے اسٹیٹس اپ ڈیٹس کے سامنے شو ہو، جس میں مختلف چیزیں جیسے مقامات یا یہ پتا چلے سکے کہ مذکورہ شخص فون پر مصروف ہے یا نہیں، وغیرہ ظاہر ہوسکے۔ بعد ازاں اس اپلیکشن کو واٹس ایپ کا نام دے کر اس میں فیچرز اور نوٹیفکیشنز کو شامل کیا گیا اور میسجنگ پلیٹ فارم کی شکل دے دی گئی۔ یہ اتنی مقبول ثابت ہوئی کہ 2014 میں فیس بک نے 19 ارب ڈالرز کے عوض اسے خرید لیا جبکہ اس کے متحرک صارفین کی تعداد اب 800 ملین سے زیادہ ہے جبکہ جان کوم کے ذاتی اثاثوں کی مالیت 6.8 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔

جیری یانگ اور ڈیوڈ فلیو

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

امریکی یونیورسٹی جیری یانگ اور ڈیوڈ فلیو ویب سائٹس کی ایک لغت تیار کرنے کے خیال کے ساتھ سامنے آئے اور انہوں نے جیری اینڈ ڈیوڈز گائیڈ ٹو دی ورلڈ وائیڈ ویب کو متعارف کرایا۔ اس کے سامنے کے ایک سال بعد ہی یہ دنیا کی مقبول ترین ویب سائٹس میں سے ایک بن گئی اور انہوں نے اس کا نام تبدیل کرکے یاہو رکھ دیا جو کہ آج کی دنیا مین سب سے بڑے ویب پورٹلز میں سے ایک ہے۔ اس کی مارکیٹ ویلیو 38 ارب ڈالرز سے زائد ہے۔ تاہم جیری یانگ اس کمپنی کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی ایک کمپنی چلارہے ہیں اور ان کے اثاثوں کی مالیت دو ارب ڈالرز ہے۔ اس کے مقابلے میں ڈیوڈ فلیو اب بھی یاہو بورڈ کا حصہ ہیں اور ان کے اثاثے تین ارب ڈالرز سے تجاوز کرچکے ہیں۔

مائیکل ڈیل

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

ٹیکساس یونیورسٹی میں دوران تدریس مائیکل ڈیل نامی نوجوان کو احساس ہوا کہ سیلز مین کو ایک طرف کرکے صارفین کو کمپیوٹرز فروخت کرنے کا ایک براہ راست طریقہ موجود ہے۔ انہوں نے ڈیل کے نام سے ایک کمپنی تشکیل دی جو کہ پی سی کے تمام پارٹس کو اسمبل کرکے کم قیمتوں پر فروخت کرنے کا کام کرتی تھی۔ اس کمپنی نے پہلے سال ہی 60 لاکھ ڈالرز کمائے اور جلد ہی کمپیوٹرز کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا اور 2001 میں یہ دنیا کی سب سے بڑی کمپیوٹر بنانے والی کمپنی بن گئی۔ مائیکل ڈیل نے 2013 میں 24.9 ارب ڈالرز ادا کرکے اس کمپنی کو ایک بار پھر نجی ملکیت میں حاصل کیا اور اب بھی ان کے اثاثے اٹھارہ ارب ڈالرز کے لگ بھگ ہیں۔

نک ووڈ مین

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

سرفنگ کے شوقین نک ووڈ مین کی خواہش تھی کہ لہروں پر سرفنگ کرنے والے افراد اپنی بہترین تصاویر لینے کے قابل ہوسکیں لہذا انہوں نے برسوں کی محنت کے بعد گو پرو نامی کیمرے کا پہلا ورژن متعارف کرایا اور جلد ہی یہ ڈیوائس سب کو بھاگئی۔ گو پرو نامی یہ کیمرہ گزشتہ سال عوام کے لیے پیش کیا گیا اور اب اس کمپنی کی مالیت 7.8 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے اور نک ووڈ مین کی ذاتی دولت بھی ڈھائی ارب ڈالرز سے تجاوز کرچکی ہے۔