یعقوب میمن کا بھارت میں قتل۔۔؟؟


memon

لوگ کہتے ہیں کہ یعقوب میمن کو ممبئی حملوں کے جرم میں سزا نہیں ملی بلکہ ان کا عدالتی قتل کیا گیا ہے۔جرم ان کے بھائی نے کیا تو سزا یعقوب کر کیوں؟ اس سزا کی مخالفت سلمان خان نے بھی کی تھی ۔دوسری جانب میمن کو سزائے موت دینے کے حوالے سے قانونی تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے،ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اسے غیر انسانی فعل قراد دیا ہے۔بھارتی حکومت اپنی سپر میسی کے چکر میں اتنی پاگل ہوچکی ہے کہ اسے ہومسلمان دہشگرد نظر آتا ہے۔ہر حملے کے پیچھے پاکستان اور لشکر چھپے نظر آتے ہیں،بھارتی فوجیوں کے لشکر طیبہ کے نام پر پتلو نین گیلی ہوجاتی ہیں۔
لاہورکے مشہور چوک چوبرجی پر واقع’’مرکزالقادسیہ‘‘ جماعت الدعوہ کا فلاحی و دینی مرکز ہے،جس کا نام سن کر بھارتیوں کی ٹانگیں کانپتی ہیں،بھارتی شاید اتنے اپنے ’’بھگوان‘‘سے نہ ڈرتے ہوں جتنے اس تنظیم کے سربراہ کے نام سے خوف کھاتے ہیں،بھارت کے کسی کونے میں کسی’’ناگرک‘‘ کو چھینک بھی آجائے تو جھٹ سے ان کے نام الزام تھوپ دیا جاتا ہے۔
چوبرجی چوک پہنچیں تو سامنے ہی سیمنٹ کے بیریئر موجود ہیں ساتھ لوہے اور لکڑی کی رکاوٹیں بھی لگی ہیں،مین گیٹ پر باریش نوجوان آپ کا استقبال کرتے نظر آئیں گے،آپ کی جامع تلاشی کے بعد پوچھا جاتا ہے کہ آپ کس سے ملنا ہے،ایک اجنبی شخص کو ایسے لگتا ہے،جیسے وہ پاکستان نہیں کسی اور ملک میں آگیا ہو،وہاں موجود ہرشخص آپ کو مشکوک نظروں سے دیکھتا نظر آئے گا،اگر یہاں آپ کا کوئی جاننے والا ہے تو آپ کیلئے کوئی مسئلہ نہیں وگرنہ آپ کو تلاشی کے تمام مراحل سے گزرنا پڑے گا، وہاں موجود نوجوان’’جی بھائی‘‘ کہاں جانا ہے کس سے ملنا ہے؟ کہہ کر مخاطب ہوتا ہے۔
مرکز القادسیہ کی اطراف کی گلیوں میں جماعت کے کارکن اپنی مدد آپ کے تحت سکیورٹی کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ یہ کارکن پاکستان بھر سے تعلق رکھتے ہیں اور کسی سے بھی رعایت نہیں کرتے،مرکز کی نگرانی کے لیے کلوز سرکٹ کیمرے بھی نصب ہیں۔یہ تمام حفاظتی انتظامات عالمی دباؤ کے نتجے میں کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے کیے گئے ہیں،کچھ عرصہ پہلے چوبرجی چوک سے چند گز دور قرطبہ چوک پر ایک امریکی ریمنڈ ڈیوس نے دو پاکستانیوں کو گاڑی کے نیچ کچل کرمار دیا تھا،لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ریوڑیاں بیچنے نہیں اس مرکز کی نگرانی میں تھا اور کچھ کرنے کا سوچ رہا تھا۔بھلا ہو قانون کا اسے بھی باعزت طریقے سے چھوڑدیا۔

افغانستان میں 1979ء میں روس کی شکست کے بعد اس مرکز میں تنظیم دعوت والارشادکی بنیاد رکھی گئی،کشمیر میں جہاد کا آغاز ہوا تو اس تنظیم نے کشمیریوں کی کھل کر حمایت کی،صرف حمایت ہی نہیں افرادی قوت بھی فراہم کی،امریکہ میں نائن الیون واقعہ کے بعد جہاں پوری دنیا کے مسلمانوں کو طرح طرح سے نشانہ بنایا گیا تو یہ تنظیم بھی پابندیوں سے نہ بچ سکی،اس واقعہ کے بعد یہ دعوت والارشاد سے جماعت الدعوہ بن گئی،اس جماعت کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ ہمارا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں،ہم پاکستانی ریاست کے قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے انسانیت کی فلاح کیلئے کام کرتے ہیں،سوال یہ ہے کہ اگریہ تنظیم عسکری کارروائیوں سے انکاری ہے تو بھارت اور امریکہ کو کیا تکلیف ہے۔۔ٖ؟
اس تنظیم کے ارکان آئی ایس آئی ایس(داعش)،القائدہ اور بوکو حرام کو تکفیریوں کا گروہ قرار دیتے ہیں،ان کا خیال ہے کہ یہ سب مغرب اور ان کے امام امریکہ کے تیار کردہ سپاہی ہیں جو اسلام کا چہرہ مسخ کرنے اور مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دینے کیلئے وجود میں لائے گئے ہیں،امریکہ ان کو پروموٹ بھی کرتا ہے اور ان سے انسانوں کو ذبح بھی کرواتا ہے،تکفیری مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں،اس لئے مسلمانوں کی نشانیوں(مزارات)کو مٹایا جارہا ہے،بچوں،عورتوں اور جوانوں کو مار کر مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔
بھارت بارے ان کا خیال ہے کہ ممبئی حملوں کو بنیاد بنا کر جہاد کشمیر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی،اجمل قصاب جیسے فرضی کردار کے ذریعے ڈرامے میں دلچسپی پیدا کی،ذکی الرحمٰن لکھوی کو ماسٹر مائنڈ کا نام دیا،جن کیخلاف کوئی ثبوت بھی نہیں،پاکستانی عدالت بھی اسے بے گناہ قرار دے چکی ہے،لشکر طیبہ تو کشمیریوں کی تنظیم ہے،جسے مقبوضہ کشمیر سے ہی کنٹرول کیا جاتا ہے،کشمیر میں ہی تربیت پاتے ہیں،پاکستان یا جماعت الدعوہ سے تعلق جوڑنا اپنے گناہوں سے بھارت کا چشم پوشی اختیار کرنے کے مترادف ہے۔

بھارت نے ایک بار پھر2008 کے ممبئی حملوں میں لکھوی کے مبینہ کردار کے ٹھوس شواہد ہونے کے باعث یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ لکھوی کو جیل میں رکھے۔

بھارتی حکام نے پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کر اپنے موقف سے آگاہ کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے لکھوی کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دے کر ان کی فوری رہائی کے احکامات دیے ہیں۔

نئی دہلی میں وزیر مملکت برائے داخلہ امور کرن رجیجو نے نامہ نگاروں کو بتایا: 18ممبئی حملوں میں لکھوی کے ملوث ہونے سے متعلق تمام دستاویزات پاکستانی کورٹ میں پیش نہیں کی گئیں۔ اسی لیے عدالت نے رہائی کا حکم دیا ہے۔17

ممبئی حملوں میں لکھوی کے ملوث ہونے سے متعلق تمام دستاویزات پاکستانی کورٹ میں پیش نہیں کی گئیں۔ اسی لیے عدالت نے رہائی کا حکم دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت پاکستان اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ لکھوی جیل سے باہر نہ آئے۔
افراد پر نومبر 2008 میں ممبئی پر حملے کی منصوبہ بندی، عمل اور مالی مدد کا الزام ہے۔ اس حملے میں 166 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s