’’گونگیاں چیکاں‘‘


 

اظہر تھراج

blood

’’کیا کہا برادری سے باہر کا رشتہ آ رہا ہے۔ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ آئندہ ایسی بات سوچنا بھی نہیں، زندہ دفن کردیں گے۔ او ٹھیک ہے اسلام میں تاکید ہوگی کہ لڑکی کی مرضی معلوم کرو۔ لیکن اسے دینِ دنیا کی الف ب کا کیا پتہ۔ یہ کیسے اپنے فیصلے خود کر سکتی ہے؟ اسلام نے تو اور بھی بہت کچھ تاکید کی ہے توکیا اس پر عمل ہوتا ہے؟ بس ہم نے جہاں شادی طے کر دی وہیں پر ہوگی۔اگر بات نہ مانی تو کی تو مار کے اسی صحن میں گاڑ ڈالیں گے۔ بیٹی آخر ہم تیرا برا کیوں چاہنے لگے بھلا‘‘
بیٹی تو کجا بیٹے کی نہیں سنی جاتی،چاچے،تایوں کی قبریں بچانے کیلئے اولاد کو قربانی پہ چڑھا دیا جاتا ہے،بیٹا انجینئر ہوتا ہے تو اس کی شادی ان پڑھ لڑکی سے کردی جاتی ہے،بیٹی ڈاکٹر تو اسے کسی’’بابے دلہے‘‘کی دلہن بنا دیا جاتا ہے،جیسے اولاد نہ ہو بھیڑ بکری ہو،جہاں چاہا،جیسے چاہا کھونٹے کے ساتھ باندھ دیا۔ مان جائے تو دیوی نہ مانے تو چھنال۔ کیا سارا سماج بچپن سے بڑھاپے تک اسی گھٹی پر نہیں پلتا۔ اور پھر یہی سماج ریاست، پنچایت، پولیس، کچہری میں بدل جاتا ہے۔کہیں’’کالی‘‘قرار دے کر عورت قتل ہو رہی ہے تو کہیں’’ونی‘‘کے نام پر رسوا ہو رہی ہے۔ بھرے جرگے میں عورت کی زندگی و موت، غلامی و آزادی کا فیصلہ کرنے والے کسی کھوسے،لغاری،مزاری،بلوچ،پٹھان،سردار،مہر کو سزا نہیں ہوئی، جن کو قانون نے گرفت میں لیا بھی تو’’چمک‘‘کے کمال سے چھوٹ گیا،ہر سال شہری حقوق کی زنانہ و مردانہ تنظیمیں جانے کیوں اعداد و شمار جمع کرتی رہتی ہیں کہ اس سال ڈیڑھ ہزار عورتیں غیرت کے نام پر قتل ہوگئیں۔ پچھلے سال ایک ہزار ہوگئی تھیں۔ اور اس سے پچھلے سال۔ کیا ان تنظیموں کو اس کے سوا کوئی کام نہیں۔کسی کی بہن،بیٹی کے احساس کے لئے نہیں،یہ سب پیسے کا چکر اور کھیل ہے،ہمدرد ہوتیں توصرف سیمینارز تک محدود نہ رہتیں،خواتین،معاشرے کے ہر فرد کو تعلیم دیتیں،سیمینارز میں کیا ہوتا ہےٗ؟ انہی وڈیروں کو مہمان بنایا جاتا ہے جو معصوموں کے گلے گھونٹنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
مگر اِس سب کے باوجود میرے ملک میں حوا کی بیٹیاں غیر محفوظ ہیں،کہیں عزتیں پامال ہو رہیں ہیں تو کہیں زندگی سے محروم ہورہی ہیں ۔معاشرہ غیرت،محبت،عزت وآبرو کے نام پر قتل کا نام دے کر روائیتی بے حسی کا مظاہرہ کررہا ہے۔ہر جگہ،ہر روز نئے نئے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
کہیں پولیس کی ستائی مظفر گڑھ کی آمنہ خود سوزی کررہی ہے تو کہیں ملتان کی طالبہ سماج کے رواجوں پر جان دے دیتی ہے جبکہ لاہور کی فرحانہ کا انصاف کی دہلیز پر خون کردیا جاتا ہے۔زینت کو پسند کا ساتھی چننے پر گھر میں جلا دیا جاتا ہے،ایبٹ آباد میں رابعہ کو اپنی دوست کی شادی میں مدد کرنے کے محض شک کی بنیا د پر گاڑی میں لگے گیس سلنڈر سے باندھ کر دھماکے سے اڑا دیا جاتا ہے،ہر طرف معصوم بچیوں سے زیادتی کی گونج سنائی دیتی ہے،ایسا کیوں؟ ذمہ دار کون؟ معاشرہ یا میڈیا،حکومت یا عوام،والدین یا کوئی اور؟ سب سوالات جواب کے منتظر ہیں۔اس پاک سرزمین میں اب تک کتنے غیرت کے نام پر قتل کرنے والے پھانسی پر لٹک چکے ؟ یہاں عورت کو مار ڈالنا بہت آسان کام مگر قاتل کو پکڑنا ناممکنات میں شمار ہوتاہے۔عورتوں کےساتھ اس کو عزت کے ساتھ بیاہ کر لانے والوں کا قتل بھی سوالیہ نشان ہے۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن کا کہنا ہے کہ سال 2015ء میں غیرت کے نام پر 1100 خواتین کو قتل کیا گیا جبکہ اس دوران غیرت کے نام پر قتل ہونے والے مردوں کی تعداد 88 ہے۔2015ء میںملک بھر سے 833 خواتین کو اغوا کرنے کے مقدمات رپورٹ کیے گئے اور ان واقعات میں ملوث افراد کی خلاف قانونی کارروائی بہت کم ہوئی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران 939 خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ 777 خواتین نے گذشتہ برس خود کشی یا پھر خودکشی کرنے کی کوشش کی۔سنہ 2015 میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے خلاف واقعات میں سنہ 2014 کی نسبت سات فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں جنسی تشدد کے 3768 واقعات درج کیے گئے۔جنسی تشدد کا شکار ہونے والوں میں 1974 لڑکیاں اور 1794 لڑکے شامل ہیں۔جنسی تشدد کا شکار ہونے والوں کی عمریں گیارہ سال سے لے کر پندرہ سال کے درمیان ہیں۔رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ملک بھرمیں روزانہ کی بنیاد پر دس بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے،2016ء میں نہ جانے کتنے لاشے اٹھائے گئے۔

یہ بیوی،بہو،بیٹی اور بیٹے مارنے کاکھیل کب تک جاری رہے گا؟ظالم سماج کب تک رشتوں کے ارمانوں کا خون کرتا رہے گا؟ اپنی انائوں پر کب تک اپنے جگر گوشوں کی بلی دی جاتی رہےگی؟کب تک نفرت پر محبت قتل ہوتی رہے گی؟پتہ نہیں یہ سوالات کب تک جواب کے منتظر رہیں گے؟
قارئین! کبھی گونگا اور بہرہ انسان احتجاج کرتے دیکھا ہوتو آپ کو اس ظلم پر حکومتی اقدامات،اسمبلیوں میں پیش کیے جانیوالے بلوں کی سمجھ آجائیگی،مردانہ،زنانہ تنظیموں کے واویلے کی حقیقت کا پتہ چل جائیگا ۔یہ ایسی آوازہے جو گونگے کے منہ سےشدید کرب کے باوجود نہیں نکل سکتی ہے،یہ ’’گونگیاں چیکاں‘‘کسی کا کیا بگاڑ سکتی ہیں۔

Advertisements