کشمیر میں بھارتی مظالم پر اقوام عالم خاموش کیوں؟


8k
مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت سے اٹھنے والی حالیہ مزاحمت کی لہر نے تحریک آزدی کشمیر کو نئی زندگی دی ہے،وادی میںپاکستانی پرچموں کی بہار اور’’جیوے جیوے پاکستان‘‘کے نعروں نے بھارتی مظالم کو شکست دے دی ہے۔ صرف وادی میں 45 مقامات پربرہان وانی شہید کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور مرکزی جنازہ اجتماع میں لاکھوں لوگوں نے شہید کمانڈر کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں شرکت کی ہے ، یہ اجتماعات بھارت اور اس کی کٹھ پتلی حکومت کوواضح پیغام دے رہی ہے کہ جس بھی مٹی کو اس طرح خون سے سینچا جائے گا وہاں ہزاروں برہان وانی پیدا ہوتے ہیں یہ سلسلہ تادمِ آزادی جاری و ساری رہتا ہے ۔ جس کا اعتراف وادی کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بھی کیا ہے اور کہا ہے جو کام برہان وانی نہیں کر سکے وہ کام برہان وانی کی قبر کر سکے گی برہان وانی کو شہید کر کے یہاں ہزاروں برہان پیدا کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان جتنا بھی کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کی طرف بڑھتا ہے بھارت اسی رفتار سے دور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے،پاکستان نے ہمیشہ کی طرح چند دن قبل ہونیوالے سیکرٹری خارجہ کے سطح کے مذاکرات میں بھی مسئلہ کشمیر کو سرفہرست رکھا،پاکستان کا موقف رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر مذاکرات کا معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو دنیا کے ہر فورم پر اٹھایا ہے،سارک سے لے کر اقوام متحدہ تک اس مسئلے کو لے کر گیا ہے،پاکستان کی اس حوالے سے پالیسی مسقل رہی ہے لیکن حل کرنے کے فارمولے تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ ساٹھ کی دہائی میں صدر مملکت ایوب خان نے اس مسئلے کو حل کروانے کیلئے امریکی صدر جان ایف کینڈی سے بھی مدد مانگی۔صدر ایوب کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی اس مسئلے کو حل کرنے میں پیش پیش رہے،او آئی سی کا وجود عمل میں آیا تو اس کے اجلاس میں بھی قراداد لائی گئی،جنرل ضیاء الحق شہید اور پیپلز پارٹی کے دوسرے دور حکومت میں بھی مسئلے کے حل کیلئے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ کارگل میں پاک بھارت جنگ اور نائن الیون کے واقعہ کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی لیکن کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی سیاسی حمایت میں کوئی کمی نہ آئی،جولائی 2001ء میں پاکستانی صدر پرویز مشرف نے بھارت کا دورہ کیا اور آگرہ میں اپنا چار نکاتی فارمولا پیش کیا۔مشرف فارمولا میں کہا گیا کہ کشمیر کو ایک منازعہ علاقہ قرار دے کر اس پر مذاکرات کا آغاز کیا جائے،غیر عملی حل کو چھوڑ دیا جائے اور اصلی حل کی جانب بڑھا جائے۔بھارت اس وقت بھی اعلامیہ پر دستخط کرنے سے مکر گیا۔پھر 2006ء میں جنرل پرویز مشرف نے ایک اور چار نکاتی حل پیش کیا جس میں کہا گیا کہ علاقے کو غیر فوجی علاقہ قرار دیکر مقامی حکومت بنائی جائے،کوئی نئی حد بندی نہ کی جائے ،پاکستان اور بھارت کی باہمی انتظامیہ مقرر کی جائے۔بھارت اس حل کی طر ف بھی نہ آیا۔اس کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی اپنے تئیں حل کی کوشش کی ،صدر زرداری نے اقوام متحدہ اور امریکی نمائندوں سے ملاقات میں بھی کشمیر کو خطے کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔2013ء میں نوازلیگ نے حکومت سنبھالی تووزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے پہلا کام بھارتی ہم منصب نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں جاکر امن کا پیغام دیا،وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا اقوام عالم کی ناکامی قرار دیا۔ پاکستان کی بھارت سے تعلقات کے حوالے سے نیت صاف ہے لیکن بھارت پاکستان کی طرف سے بھیجے گئے پھولوں کا جواب ہمیشہ نفرت اور توپوں کے گولوں سے دیتا آیا ہے۔
ّ
یہ سوال ابھی تک جواب طلب ہے کہ کشمیریوں پر ہونیوالے بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم اور انتہائی غیر انسانی بدسلوکی سے نجات کب ملے گی؟کیا اقوام متحدہ اور مغرب جو انسانی حقوق کے چیمپئن بنے پھرتے ہیں ان کو کشمیر میں بھارتی نسل کشی اور ظلم وستم نظر نہیں آتے ، کیا اقوام متحدہ اور مغرب جو ایسٹ تیمور اور ساؤتھ سوڈان میں ان انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کا واویلا کر کے توڑ سکتی ہیں انہیں آج تک کشمیر میں ہونے والے ظلم و جبر کی ان مٹ داستانیں نظر نہیں آتیں ۔

کشمیر کے مسئلے پر اقوام عالم کی خاموشی متعصبانہ ہی نہیں بلکہ مجرمانہ بھی ہے،یو این او ایک تماشائی کا کردار نبھا رہی ہے،بظاہر تو پاکستان امریکہ کا سٹریٹجک پارٹنر ہے لیکن امریکہ نے ہمیشہ اپنے مفاد کی جنگ میں پاکستان کی بلی چڑہائی ہے ،مسئلہ کشمیر پر بارہا پاکستان کے مطالبے کے باوجود امریکہ نے چپ سادھ رکھی ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے خطے کے بہت سارے مسائل خود بخودسدھر جائینگے،خطے کا امن کشمیر کے امن سے وابستہ ہے،کیونکہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تین ایٹمی طاقتوں،چین پاکستان اور بھارت کیلئے اہم ہے،اسی فوجی،سیاسی اہمیت کے پیش نظر بھارت کشمیر پر سے قبضہ چھوڑنے پر تیار نہیں۔

بھارت ہمیشہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا آیا ہے۔بھارت کہتا ہے کہ پہلے دہشتگردی اور دوسرے مسائل بارے بات کرو اس کے بعد کشمیرکا معاملہ دیکھا جائیگا،کشمیر کو وہ متنازعہ علاقہ تسلیم ہی نہیں کرتا۔حالانکہ بھارتی حکومت 1948ء میں خود اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھاکر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلے کو حل کرنے کا وعدہ کرچکی ہے،اقوام متحدہ کی قرارداد کے بعد بھارتی اٹوٹ انگ کے دعوے کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔بھارت کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کی کوششوں کو بھی دہشتگردی کے کھاتے میں ڈالتا ہے،اس کا خیال ہے کہ وہاں برسر پیکار تنظمیں دہشتگرد ہیں،مان لیا یہ دہشتگرد ہیں تو اس کی وجہ بھی تو خود بھارت ہی ہے جس کی ’’میں نہ مانوں‘‘کی پالیسی نے کشمیری نوجوانوں کو اسلحہ اٹھانے پر مجبور کیا،کسی بھی جگہ امن نہ ہو تو تجارتی،ثقافتی اور دیگرتعلقات کی باتیں بے معنی ہوجاتی ہیں کاش!یہ سب بھارت سمجھ سکتا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s