تحریک آزادی کشمیر کا نیاپن،بھارتی ناکامی کا پیش خیمہ


black-day-observed-to-condemn-indian-troops-brutality-in-kashmir-920e6a72500a9d7f1b5439dd9fad7d02
مسئلہ کشمیر دو چار برس کی بات نہیں ہے یہ نصف صدی پر محیط کشمکش کا سفر ہے،اس سفر میں کشمیریوں نے آزادی کی تحریک شروع کی تو ہزاروں شہداء کی صورت میں بھارتی فوج کی طرف سے تحفہ ملا،کشمیر بھارت کو اپنا اٹوٹ انگ قراردیتا ہے تو پاکستان کیلئے شہہ رگ ہے،شہہ رگ کے بغیر کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا پاکستان اپنی شہہ رگ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا،پاکستان نے اپنے موقف میں لچک بھی دکھائی لیکن بھارت کی طرف سے ایک انچ بھی تبدیلی نہ آئی،کشمیر میں کچھ عرصہ آزادی کی تحریک کی شدت میں کمی ضرور آئی لیکن ختم نہیں ہوئی،حالیہ دنوں میں آزادی کی تحریک عروج پر ہے،کشمیریوں کو اپنے ساتھ رکھنے کی ہر بھارتی تدبیر ناکام ہورہی ہے،کشمیر یوں نے اعلانیہ پاکستانی پرچم لہرانے اور ترانے بجانا شروع کردیے ہیں،بھارتی فوج کی مزاحمت میں پتھر لے کر گلی محلوں میں اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں،حال میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے وادی کا دورہ کیا تو منہ کی کھانا پڑی،ریاستی انتخابات کا ڈرامہ رچایا تو فلاپ ہوگیا،بھارتی ٹی وی کے مطابق ٹرن آؤٹ تیس سالہ تاریخ میں سب سے کم 6فیصد رہا جس کے باعث بھارت کو یہ انتخابات منسوخ کرنا پڑے۔
پاکستان جتنا بھی کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کی طرف بڑھتا ہے بھارت اسی رفتار سے دور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے،پاکستان کا موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر مذاکرات کا معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔یہ حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے خطے کے بہت سارے مسائل خود بخودسدھر جائینگے،خطے کا امن کشمیر کے امن سے وابستہ ہے،کیونکہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تین ایٹمی طاقتوں،چین پاکستان اور بھارت کیلئے اہم ہے،اسی فوجی،سیاسی اہمیت کے پیش نظر بھارت کشمیر پر سے قبضہ چھوڑنے پر تیار نہیں۔
بھارت ہمیشہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا آیا ہے۔بھارت کہتا ہے کہ پہلے دہشتگردی اور دوسرے مسائل بارے بات کرو اس کے بعد کشمیرکا معاملہ دیکھا جائیگا،کشمیر کو وہ متنازعہ علاقہ تسلیم ہی نہیں کرتا،حالانکہ بھارتی حکومت 1948ء میں خود اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھاکر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلے کو حل کرنے کا وعدہ کرچکی ہے،اقوام متحدہ کی قرارداد کے بعد بھارتی اٹوٹ انگ کے دعوے کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔بھارت کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کی کوششوں کو بھی دہشتگردی کے کھاتے میں ڈالتا ہے،اس کا خیال ہے کہ وہاں برسر پیکار تنظمیں دہشتگرد ہیں،مان لیا یہ دہشتگرد ہیں تو اس کی وجہ بھی تو خود بھارت ہی ہے جس کی ’’میں نہ مانوں‘‘کی پالیسی نے کشمیری نوجوانوں کو اسلحہ اٹھانے پر مجبور کیا،کسی بھی جگہ امن نہ ہو تو تجارتی،ثقافتی اور دیگرتعلقات کی باتیں بے معنی ہوجاتی ہیں کاش!یہ سب بھارت سمجھ سکتا۔
اگر پاکستان کی کشمیر اور خطے میں امن کوششوں کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان نے ہر دور میں امن کیلئے پہل کی ہے۔پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو دنیا کے ہر فورم پر اٹھایا ہے،سارک سے لے کر اقوام متحدہ تک اس مسئلے کو لے کر گیا ہے،پاکستان کی اس حوالے سے پالیسی مسقل رہی ہے لیکن حل کرنے کے فارمولے تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ ساٹھ کی دہائی میں صدر مملکت ایوب خان نے اس مسئلے کو حل کروانے کیلئے امریکی صدر جان ایف کینڈی سے بھی مدد مانگی۔صدر ایوب کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی اس مسئلے کو حل کرنے میں پیش پیش رہے،او آئی سی کا وجود عمل میں آیا تو اس کے اجلاس میں بھی قراداد لائی گئی،جنرل ضیاء الحق شہید اور پیپلز پارٹی کے دوسرے دور حکومت میں بھی مسئلے کے حل کیلئے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ کارگل میں پاک بھارت جنگ اور نائن الیون کے واقعہ کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی لیکن کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی سیاسی حمایت میں کوئی کمی نہ آئی،جولائی 2001ء میں پاکستانی صدر پرویز مشرف نے بھارت کا دورہ کیا اور آگرہ میں اپنا چار نکاتی فارمولا پیش کیا۔مشرف فارمولا میں کہا گیا کہ کشمیر کو ایک منازعہ علاقہ قرار دے کر اس پر مذاکرات کا آغاز کیا جائے،غیر عملی حل کو چھوڑ دیا جائے اور اصلی حل کی جانب بڑھا جائے۔بھارت اس وقت بھی اعلامیہ پر دستخط کرنے سے مکر گیا۔پھر 2006ء میں جنرل پرویز مشرف نے ایک اور چار نکاتی حل پیش کیا جس میں کہا گیا کہ علاقے کو غیر فوجی علاقہ قرار دیکر مقامی حکومت بنائی جائے،کوئی نئی حد بندی نہ کی جائے ،پاکستان اور بھارت کی باہمی انتظامیہ مقرر کی جائے۔بھارت اس حل کی طر ف بھی نہ آیا۔اس کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی اپنے تئیں حل کی کوشش کی ،صدر زرداری نے اقوام متحدہ اور امریکی نمائندوں سے ملاقات میں بھی کشمیر کو خطے کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔2013ء میں نوازلیگ نے حکومت سنبھالی تووزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے پہلا کام بھارتی ہم منصب نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں جاکر امن کا پیغام دیا،وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا اقوام عالم کی ناکامی قرار دیا۔ پاکستان کی بھارت سے تعلقات کے حوالے سے نیت صاف ہے لیکن بھارت پاکستان کی طرف سے بھیجے گئے پھولوں کا جواب ہمیشہ نفرت اور توپوں کے گولوں سے دیتا آیا ہے۔
140516160448_nirender-modi
بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے کوششیں کی ہیں،جہاں بھی اس کا بس چلا اس نے پاک سرزمین کیخلاف زہر افشانی کی ہے،حقیقت یہ ہے کہ بھارتی ذہن نے ابھی تک پاکستان کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کیا،پاکستان اور چین کے مابین جب سے معاشی اور سٹریٹجک قربتیں بڑہی ہیں ،بھارتی حکومت ،پالیسی میکرز کو یہ بات ہضم نہیں ہورہیں،بلکہ یہ کہیں کہ ہیضہ ہوگیا ہے،بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کے زیر کنٹرول علاقہ کو اپنا حصہ ظاہر کرکے منصوبے کو شروع ہونے سے پہلے ہی رکوا دیا جائے ۔بھارت چور مچائے شور والی پالیسی پر عمل پیرا ہے،کہ اتنا شور مچایا جائے کہ بھارت کے زیر قبضہ علاقوں اور وہاں جاری آزادی کی تحریکوں کی طرف دنیا کا دھیان ہی نہ جانے پائے۔بھارتی حکومت نے پاکستان اور چین کے مابین عدم اعتماد کی فضاء قائم کرنے کیلئے اپنی خفیہ ایجنسی را کو ہدف دے دیا ہے جس کے اثرات پاکستان میں محسوس بھی کیے جا رہے ہیں،بلوچستان سے بھارتی ایجنسی را کے ایجنٹوں کا پکڑا جانا پاکستانی کی سلامتی پر بھارت کا وار ہے جو ناقابل معافی جرم ہے،بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے بجائے افغانستان سے مل کر پاکستان میں پراکسی وار شروع کے ہوئے ہے،بھارت کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ چین اقتصادی راہداری کے ذریعے افغانستان یا سنٹرل ایشیا کی ریاستوں تک پہنچے،بھارت کے اس منصوبے کا اعتراف بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے بھی کیا ہے،اس کے اسی اعتراف کے جرم میں ملٹری کورٹس نے سزا بھی سنائی ہے جس پر بھارت دنیا بھر میں واویلا مچا رہا ہے،سزا پر عمل کرنے کی صورت میں سخت نتائج کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے،بھارت کی یہ خام خیالی ہے کہ وہ پاکستان او ر چین کو ترقی سے روک پائے گا۔

ّبھارتی حکمران یہ بات اپنے ذہن میں رکھیں کہ پاکستان معاشی لحاظ پیچھے ضرور ہے لیکن اتنا ہی کمزور نہیں کہ نوالہ سمجھ کر چبا لیا جائے۔پاکستان نے تو دنیا کو پرامن بنانے کیلئے ساٹھ ہزار سے زائد قربانیاں دی ہیں،اقوام متحدہ کے ہر امن مشن کا پاک فوج حصہ ہے،دنیا میں جہاں بھی ظلم کی بات ہوتی ہے پاکستان اس کی مذمت کرنے میں پیش پیش ہوتا ہے،بھارت نے تو خود اپنے ملک میں گاؤ ماتا کی پوجا کے نام پر الاؤ جلا رکھے ہیں،تمام اقلیتیں نام نہاد سیکولر جمہوری نظام سے تنگ ہیں،روزانہ نفرت کے نام پر قتل کیے جانیوالوں کی خبریں ملتی ہیں،بھارت کو پاکستان کی فکر چھوڑ کراپنے وطن کی فکر کرنی چاہیے،اپنا وجود بر قرار رکھنے کیلئے اپنے عوام کو رام کرے نہ کہ ہمسایوں کے سینگوں میں سینگ ڈالتا پچرے۔
کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے سے یہ انگ بھارت کا تھوڑا ہی ہوجائے گا،جنگ جنگ کرنے سے کہیں ایسا نہ ہو کہ بھارت کا انگ انگ ہی نہ ٹوٹ جائے،کالے کوے کو سفید کہنے سے سفید نہیں ہوجاتا

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s