نواز شریف کی ریلی اور افسر کااستعفیٰ


 

میری یہ تحریر آپ تک پہنچے سے قبل میرا استعفی میرے اعلی افسران کی ٹیبل تک پہنچ چکا ہو گا۔ میں گریڈ 18کا ایک ذمہ دار سی ایس پی آفیسر ہوں اور گزشتہ 14 سال سے ایک وفاقی ادارے میں ڈویژنل سطح پر اپنی خدمات اس ملک کےلیے انجام دے رہا ہوں۔ میں نے مشرف کے مارشل لاء میں جمہوریت کی بحالی کےلیے ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے مظاہرے بھی کیے، میں نے ڈی چوک میں دھرنے کے دوران عمران خان کو ذاتی حیثیت میں خط بھی لکھا کہ شہریوں کی آمدورفت اور سرکاری ملازمین کے آنے جانے کی سہولت کا خیال رکھیں اور ان کےلیے مناسب راستے کا بندوبست کروائیں۔ چھوٹی موٹی غلطیاں سب سے ہوتی ہیں مگر میں حلفاََ اقرار کرتا ہوں کہ  اپنے 14 سالہ کیریئر میں میں نے ایک بھی غیر آئینی کام نہیں کیا اس کے باوجود مجھے ذلت کے ساتھ میرے محکمے سے رخصت کیا جا رہا ہے۔

میرا قصور بس اتنا سا ہے کہ نواز شریف کے جلسے کےلیے تعاون کا حکم ملنے پر میں نے اس ملک کا شہری ہونے کا فرض ادا کیا اور اپنے سینیئر افسر کو آئین کی پاسداری کا حوالہ دیتے ہوئے آئین کی متعقلہ شق بھی بتا دی۔ 07 اگست 2017 کو مجھے محکمے کی طرف سے ٹیلیفون کال پر مطالبہ کیا گیا کہ میں نواز شریف کے قافلے کےلیے لوگوں کا بندوبست کروں اور اپنے محکمے کے ماتحت عملے کو مجبور کروں کہ وہ نواز شریف کے جلسے میں بطورِ مظاہرین شرکت کریں۔ جواب میں میں نے درخواست کی کہ جناب یہ حکم مجھے تحریری طور پر بھی مل جائے تو میرے لیے آسانی ہو گی، جس کے جواب میں مجھے بےوقوف بدھو کہہ دیا گیا۔ اپنے ضمیر کی آواز دبا کر میں نے اپنے ماتحت سرکاری ملازمین کو یہی حکم زبانی طور پر دے دیا۔

یہ میرے 14 سالہ کیرئر میں پہلا غیر آئینی کام تھا کہ سپریم کورٹ سے سزا یافتہ شخص کے مفاد کےلیے میں نے مجبور ہو کر اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کیا کیوں کہ مجھ پر اوپر سے دباؤ تھا۔ ضمیر کی ملامت پر میری ساری رات جاگتے گزری۔ میرے ضبط کا بندھن تب ٹوٹا جب آج مجھے نواز شریف کا جلسہ کامیاب کروانے کےلیے اگلا غیر آئینی حکم آف دا ریکارڈ ملا۔ مجھے کہا گیا کہ شہر میں بھیک مانگنے والی خواتین اور مردوں کو پیسے دے کر نواز شریف کے جلسے میں پہنچانے کا بندوبست کروں۔ اس کے علاوہ راولپنڈی سے لاہور جی ٹی روڈ کے اردگرد جتنی بھی جھگیوں والی اور کچی بستیاں ہیں ان کے خواتین و حضرات کو کچھ مخصوص بینرز دے کر نواز شریف کے جلسے میں پہچانا ہے۔ جواب میں میں کچھ کہے بغیر اپنے سینیئر موسٹ افسر کے سامنے سے اٹھ گیا۔ باہر آ کر آفس میں دیکھا تو بینرز بھی موجود تھے. بینرز کھول کر دیکھے تو یہ نواز شریف کےلیے جان دینے کی قسمیں کھانے اور حمایت سے متعلق تھے۔ یعنی غریب مساکین لوگوں کو پیسے دے کر نواز شریف کےلیے نعرے لگوانے گریڈ 18 کے افسر کی زمہ داری تھی۔ وہ افسر جو تنخواہ پاکستان سے لیتا ہے نواز شریف سے نہیں۔ بینرز کی چھپائی کا معیار اور پینا فلیکس کوالٹی دیکھ کر مجھے شک ہوا۔ میں نے پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان میں موجود اپنے ایک واقف کو فون کر کے پوچھا تو پتہ لگا کہ چھپائی کا سارا کام قومی خزانے سے کیا جا رہا ہے اور کچھ وفاقی منسٹرز پیسے اپنے پاس سے بھی دے رہے ہیں۔ وفاقی منسٹرز کے محکموں میں موجود اپنے دوستوں سے پتہ کیا تو پتہ لگا کہ یہ پیسے منسٹرز اپنی جیب سے نہیں دے رہے ہیں۔ بلکہ محکمے کے بجٹ سے لے کر دے رہے ہیں اور یہ پیسہ کاغذوں میں ایسے ظاہر کیا جائے گا کہ محکمے کےلیے خرچ کیا ہوا۔

کرپشن پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں ہے کہ میں استعفی کا فیصلہ کرتا۔ لیکن سپریم کورٹ سے سزا یافتہ ایک مجرم کےلیے سرکاری محکموں اور قومی خزانے کا یوں بے دریغ استمال میری برداشت توڑ گیا۔ میں نے خاموشی سے استعفی تحریر کیا لیکن یہ سوچا کہ صرف میرے استعفی دینے سے کیا ہو گا اگر میں یوں خاموشی سے چلا گیا؟ میں سامنے آ کر ضرور بیان دیتا مگر نیب کا ایک سینیئر افسر کامران فیصل حکمرانوں کے خلاف تحقیق کرنے پر میری آنکھوں کے سامنے مرا ہے۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں جو مجھے ملک سے زیادہ پیارے تو نہیں ہیں لیکن پھر بھی انہیں حکمرانوں کے وجہ سے یتیم نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہا ہوں۔ میں نے اپنے استعفی میں کوئی ایسی بات نہیں لکھی کیوں کہ مجھے پتہ ہے کہ حکومت کبھی بھی آئین اور قانون کو نہیں دیکھتی بکہ اپنی مخالفت میں کھڑے ہونے والے سرکاری ملازموں کو عبرت کا نشان بنا دیتی ہے۔ میں نے استعفی میں ذاتی وجوہات کی بنا پر ملازمت چھوڑنے کا کہا۔ مگر میں حقائق سے آپ کو آگاہ کر رہا ہوں اس لیے کہ میرا مقدمہ عوام کی عدالت میں جائے۔ اگر پاکستان کی عوام اس ملک اور اس کے آئین کےلیے مرا مقدمہ سوشل میڈیا پر کامیابی سے لڑ سکی میرے ساتھ اور اس ملک کے ساتھ ہونے والی زیادتی پہ بات کر سکی تو میں سامنے بھی ضرور آؤں گا۔

فقط

ایک کم تر درجے کا پاکستانی

جسے آئین کی بات کرنے پر

استعفی دینا پڑا۔

Advertisements

چیمپئنز کی چیمپئن ٹیم کو”عیدی“مل گئی


لاہور(ویلیو سپورٹس ڈیسک)وفاقی حکومت نے چیمپئنزٹرافی کی فاتح ٹیم کیلئے انعامی رقم کاتوسیع شدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
توسیع شدہ نوٹیفکیشن کے مطابق 16کھلاڑیوں کو ایک، ایک کروڑ روپےانعام دیا جائےگا،فاسٹ بولروہاب ریاض کوبھی انعامی رقم کی فہرست میں شامل کرلیاگیاہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہیڈکوچ مکی آرتھر،گرانٹ لوڈن،اسٹیورکسن ، گرانٹ فلاوراوراظہرمحمود کو 50,50لاکھ روپے ملیں گے،نوٹیفکیشن کے مطابق مینجمنٹ کے 8ارکان کو 50,50لاکھ جبکہ دیگر 8افراد کو 25،25لاکھ روپے ملیں گے۔

پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں ایک بار پھرآمنے سامنے،ہاکی لیگ میں تیسری پوزیشن کیلئے دونوں کا میچ ہوگا


لندن (ویلیو سپورٹس ڈیسک) چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کو عبرتناک شکست کے بعد اب پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں ہاکی ورلڈ کپ2018 ءکوالیفائنگ کیلئے ہفتے کے روز پلے آف میچ کھیلیں گی۔
دنیا نیوز کے مطابق ہاکی ورلڈ کپ 2018ءکوالیفائنگ کیلئے ہفتے کو پلے آف مرحلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہاکی جنگ ہو گی۔ اس میچ کی فاتح ٹیم ورلڈ کپ میں براہ راست کوالیفائی کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
کوارٹرز فائنل میں پاکستان کا مقابلہ عالمی نمبرون ارجنٹائن سے ہوا، اولمپک چیمپئن ارجنٹائن نے گرین شرٹس کو 1-3 سے ہرایا۔ ایک اور کوارٹرز فائنل میں ملائیشیا نے بھارت کو 2-3 سے شکست دی۔

چیمپئنز ٹرافی کے فاتح کپتان سرفراز احمد کی مقبولیت کا موازنہ بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان سے کیا جانے لگا


کراچی:حال ہی میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کو شکست دینے والی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کے ہر جگہ چرچے ہو رہے ہیں اور اب سوشل میڈیا پر ان کی مقبولیت کا مقابلہ بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان سے بھی کیا جانے لگا ہے۔
پاکستان نے 18 جون کو روایتی حریف بھارت کو عبرتناک شکست دے کر نہ صرف چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کی بلکہ بھارت کے خلاف سب سے زیادہ ون ڈے میچز جیتنے والی ٹیم کا اعزاز بھی حاصل کر لیا، پاک بھارت میچ کو دونوں ممالک کے عوام کے علاوہ پوری دنیا میں بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور اس کی مثال ترک صدر رجب طیب اردوان کی سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی تصویر ہے جس میں وہ اپنے افس میں اسٹاف کے ساتھ پاک بھارت میچ دیکھتے اور انجوائے کرتے ہوئے نظر ا رہے ہیں۔

بھارتی عوام اور کرکٹ پنڈتوں کو چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں پاکستان کی جیت ابھی تک ہضم نہیں ہو رہی ہے ،بھارت میں اب تک سوگ کی فضا برقرار ہے، اس کے علاوہ بھارتی ٹیم کی وطن واپسی پر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے کھلاڑیوں کی سیکیورٹی انتہائی سخت ہے۔ دوسری جانب پاکستانی ٹیم کو برسوں بعد خوشی کا موقع فراہم کرنے والی ٹیم کے کپتان سرفراز کے گھر کے لوگوں کی آمد کا سلسلہ تاحال جاری ہے، سرفراز احمد کے گھر جمع ہونے والا مجمع اتنا بڑا تھا کہ لوگوں نے سوشل میڈیا پر اس کا موازنہ بھارتی سپر اسٹار شاہ رخ خان سے کرنا شروع کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ اہم مواقعوں پر اکثرشاہ رخ خان نے گھر کے باہر ہزاروں کی تعداد میں بھیڑ جمع ہوتی ہے جو اپنے اسٹارکی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں، بالکل ایسا ہی منظر چند روز قبل سرفراز کے گھر کے باہر بھی نظر ا?یا، ایک صارف نے ٹویٹر پر سرفراز کے گھر کے باہر جمع لوگوں کی تصاویرسوشل میڈیا پر شیئر کے لکھا ”کون شاہ رخ خان“؟

پاکستانی صارف کی جانب سے کی جانے والی یہ ٹویٹ بھارتی میڈیا کو پسند نہیں ا?ئی اوراس نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ شاہ رخ خان پاک بھارت دونوں ممالک میں یکساں مقبول ہیں لہٰذا سرفراز کا مقابلہ کنگ خان سے کرنا ٹھیک نہیں۔

فخر زما ن تو ہوا میں اُ ڑنے لگے


مردان:قومی ٹیم کے اوپنر فخر زمان چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کیخلاف سنچری کرنے کے ساتھ ہی شہرت کی نئی بلندیوں پر پہنچ گئے ۔27سالہ فخر زمان بھارت کیخلاف ایونٹ کا پہلا میچ نہیں کھیلے تاہم اس کے بعد بقیہ 4میچز میں 2نصف سنچریوںاور ایک سنچری کی مدد سے 252رنز سکور کیے اور فائنل میں روایتی حریف کیخلاف سنچری بھی سکور کی ۔ وطن واپسی کے بعد جب ایک نجی ٹی وی نے انہیں سٹوڈیو میں بلانے کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے 15لاکھ روپے کا مطالبہ کیا ۔

شاہد آفریدی کے پیار میں دیوانی بھارتی اداکارہ نے کھلم کھلا اعلان کردیا


ممبئی:چیمپینز ٹر افی کے فائنل سے قبل بھارتی کرکٹر وریندر سہواگ کی جانب سے باپ بیٹے کا متنازعہ بیان سامنے آیاتو اس سے پاکستانیوں کی دل آزاری ہوئی ،یہ ہی وجہ ہے کہ جب پاکستان فائنل میں جیتا تو اسٹیڈیم میں موجود پاکستانیوں نے بھی خوب نعرے بازی کی اور خود کو بھارتیوں کا باپ کہا ۔ برطانیہ میں بھارتی ٹیم کی بدترین شکست اور پاکستانیوں کے منہ سے باپ باپ کے نعرے سن کر بھارتی مداحوں کی حالت بری ہو گئی لیکن بیرون ملک مقیم بھارتی پاکستانیوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے کیونکہ یہ محاذ بھارت نے خود ہی کھولا تھا جس پر پاکستانی جارحانہ طریقے سے پیش رفت کر رہے تھے ۔تاہم اس ساری صورتحال کے بعد اب بھارتی اداکارہ اور شاہد آفریدی کی مداح عرشی خان نے بھی میدان میں آگئیں ہیں جنہوں نے کھلم کھلا پاکستان کو باپ تسلیم کر کے بھارتیوں کو مرچیں لگا دیں ہیں اور ان کے فیس بک پیج پر بھارتیوں نے طوفان بدتمیزی برپا کردیا ہے ۔
تفصیل کے مطابق پاکستان کی شاندار فتح کے بعد عرشی خان نے ویڈ یو پیغام جار ی کیا جس میں انہوں نے کہا کہ میچ سے پہلے بھارتیوں نے مجھ سے شرط لگائی تھی کہ اگر بھارت میچ جیتا تو میں بھارت کو باپ مانوں گی ،میں نے یہ شرط قبول کر لی تھی اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ اگر پاکستان میچ جیتا تو میں پاکستان کو باپ کہوں گی ۔انہوں نے کہا کہ اب پاکستان جیت گیا ہے تو میں اسے باپ کہوں گی ۔عرشی خان نے کہا کہ سب کو اپنے دل کی بات کر نے کا حق ہے ،میں بھارت کے لوگوں کو نیچا نہیں دکھانا چاہتی ،لیکن مجھے پاکستانی ٹیم پسند ہے ،اس لیے میں نے سرفراز بھائی کو سپورٹ کیا ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈ یا مجھے بد نام کرنے کی کوشش کر رہا ہے ،لیکن اب سب کو پتہ چل گیا ہے کہ فادرز ڈے والے دن کون میچ جیتا ہے اور کون باپ ہے ۔

کوہلی کی انا کمبلے اور ٹیم کو لے ڈوبی


دہلی: بھارت کے سابق کوچ و آل رانڈر مدن لال نے کہا ہے کہ کوہلی کی انا نے کوچ انیل کمبلے کو استعفی دینے پر مجبور کیا۔سابق بھارتی کوچ کا کہنا تھا کہ کوچ کے ساتھ کپتان کا رویہ ٹھیک نہیں تھا اگرآپ کوچ کے دیے گئے مشوروں کو خاطرمیں نہ لائیں اور اس کا مذاق اڑائیں تو سمجھ لیں کہ آپ زوال کی جانب گامزن ہورہے ہیں۔

ایک انٹرویو کے دوران سابق بھارتی کوچ کا کہنا تھا کہ1996-97 میں میری کوچنگ میں ٹیم کی فتوحات کی اوسط 45 فیصد تھیں، لیکن میں ایک پرجوش کوچ تھا اور پلیئرز کو بھی یہی کہتا تھا کہ اپنی انا کو سائیڈ میں رکھ کر اپنے کھیل پر توجہ مرکوز رکھو۔سابق کوچ کا کہنا تھا کہ غیرملکی کوچز کے کامیاب ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سینئرز کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتے اورکھلاڑیوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہوئے ماحول کو خوشگوار رکھتے ہیں، ان کامیاب ترین کوچز میں جان رائٹ، گیری کرسٹن اور ڈنکن فلیچرز کی مثالیں موجود ہیں۔مدن لال کا کہنا تھا کہ سچن ٹنڈولکر، وی وی ایس لکشمن اورساروگنگولی پر مشتمل کمیٹی نے کمبلے کو کوچ مقرر کیا تھا جس کے خلاف ویرات کوہلی نے یہ جنگ جیت لی ہے لیکن کمبلے کے جانے کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ کوہلی دوسرے آنے والے کوچ کو گلے لگاتے ہیں یا نہیں اور کیا نیا کوچ ویرات کوہلی کو لگام دینے میں کامیاب ہوسکتا ہے یہ سوالیہ نشان ہے؟

قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمدپر انعامات کی بارش،راتوں رات امیر ہوگئے


کراچی: قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو جے ایس بینک کی جانب سے”بی ایم ڈبلیو“گاڑی جبکہ بحریہ ٹاون کی طرف سے 250گز کا پلاٹ دیدیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ کے کپتان سرفراز کونجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام ”جیو کھیلوپاکستان “ میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا جہاں ان کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کو بری طرح شکست سے دوچار کرنےاور شاندارکارکردگی پر جے ایس بینک کی طرف سے (BMW ) گاڑی سے نوازا گیا اور یہی نہیں اس موقع پر بحریہ ٹاون کرا چی نے بھی کپتان کو بحریہ ہاوسنگ سوسائٹی میں 250گز کا پلاٹ دیا۔

ورلڈ کپ میں رسائی کیلئے پاکستان اہم ”جنگ“آج لڑے گا


لندن:ہاکی ورلڈ لیگ کے کوارٹر فائنلز کی لائن اپ مکمل ہوگئی ، پاکستان کا گروپ اے کی ٹاپ ٹیم ارجنٹینا سے مقابلہ آج ہوگا۔ ورلڈ کپ میں رسائی کیلئے پاکستان کی کامیابی بہت اہم ہے۔
لندن میں جاری ورلڈ ہاکی لیگ میں پاکستان اور ارجنٹائن ٹیموں کے درمیان کوارٹر فائنل پاکستانی وقت کے مطابق شام 6 بجے کھیلا جائے گا۔
ارجنٹائن ٹیم چاروں میچز جیت کر کوارٹر فائنل مرحلے میں پہنچی ہے جبکہ پاکستان کو ایونٹ میں واحد کامیابی اسکاٹ لینڈ کے خلاف ملی ہے جبکہ دیگر میچز میں پاکستان نے بری طرح شکست کھائی ہے۔

Sad News For Cricket Lovers,Luke Ronchi, Retire


Luke Ronchi, the New Zealand wicketkeeper, has announced his retirement from international cricket.

Ronchi, 36, played in four ODIs and three T20Is for Australia in 2008 and 2009, but came into his own after transferring his allegiance back to his native New Zealand in 2013.

He added four Tests, 85 ODIs and 32 T20Is for the Black Caps, and was an integral member of the 2015 World Cup side that captured their country’s imagination in a memorable run to the final.

Ronchi averaged 23.67 in ODIs at a strike-rate of 114.50, and 18.89 in T20Is at 141.33, but was trusted for his ball-striking skills, not least in his final international campaign, the Champions Trophy in England earlier this month, when a brisk 65 from 43 balls as opener put New Zealand into a winning position against Australia, only for rain to have the final say.

His finest hour with the bat was an unbeaten 170 from 99 balls in an ODI against Sri Lanka at Dunedin in 2014-15. He then followed that up with scores of 88 and 31 on his Test debut against England at Headingley, as New Zealand secured only their fifth win in 54 attempts on English soil.

Ronchi will continue to be available to play for Wellington, as well as on the domestic T20 circuit around the world – with his next assignment coming in the NatWest T20 Blast for Leicestershire.

"It was a dream come true,” Ronchi said of his time as a New Zealand cricketer.

"I can’t think of a better time to have been involved with New Zealand cricket. From the 2015 World Cup campaign, through to the overseas tours of that time and some amazing games and series, it’s been a genuine highlight for me.

"It would also be remiss of me to not acknowledge the incredible support provided by my wife Shaan and our children Brody and Indi. Cricket takes you away from home for long periods of time, and my family have been very understanding,” he said.

Mike Hesson, New Zealand’s coach, described Ronchi as the ultimate team man and the epitome of a professional athlete.

"We’ll remember Luke fondly for the energy he created in the field and his selfless attitude towards the team,” said Hesson.

"He was always prepared to play a role for the greater good of the team; to do what was required even if that risked sacrificing his wicket.

"Luke was one of the best glovemen going around and I think that’s often overlooked in a game increasingly dominated by batting and run-scoring,” added Hesson. "He was a very skilful wicketkeeper, and a very destructive batsman.

"We’ll miss having him around the group and we wish him well in his future endeavours.”

%d bloggers like this: