کوہلی کی انا کمبلے اور ٹیم کو لے ڈوبی


دہلی: بھارت کے سابق کوچ و آل رانڈر مدن لال نے کہا ہے کہ کوہلی کی انا نے کوچ انیل کمبلے کو استعفی دینے پر مجبور کیا۔سابق بھارتی کوچ کا کہنا تھا کہ کوچ کے ساتھ کپتان کا رویہ ٹھیک نہیں تھا اگرآپ کوچ کے دیے گئے مشوروں کو خاطرمیں نہ لائیں اور اس کا مذاق اڑائیں تو سمجھ لیں کہ آپ زوال کی جانب گامزن ہورہے ہیں۔

ایک انٹرویو کے دوران سابق بھارتی کوچ کا کہنا تھا کہ1996-97 میں میری کوچنگ میں ٹیم کی فتوحات کی اوسط 45 فیصد تھیں، لیکن میں ایک پرجوش کوچ تھا اور پلیئرز کو بھی یہی کہتا تھا کہ اپنی انا کو سائیڈ میں رکھ کر اپنے کھیل پر توجہ مرکوز رکھو۔سابق کوچ کا کہنا تھا کہ غیرملکی کوچز کے کامیاب ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سینئرز کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتے اورکھلاڑیوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہوئے ماحول کو خوشگوار رکھتے ہیں، ان کامیاب ترین کوچز میں جان رائٹ، گیری کرسٹن اور ڈنکن فلیچرز کی مثالیں موجود ہیں۔مدن لال کا کہنا تھا کہ سچن ٹنڈولکر، وی وی ایس لکشمن اورساروگنگولی پر مشتمل کمیٹی نے کمبلے کو کوچ مقرر کیا تھا جس کے خلاف ویرات کوہلی نے یہ جنگ جیت لی ہے لیکن کمبلے کے جانے کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ کوہلی دوسرے آنے والے کوچ کو گلے لگاتے ہیں یا نہیں اور کیا نیا کوچ ویرات کوہلی کو لگام دینے میں کامیاب ہوسکتا ہے یہ سوالیہ نشان ہے؟

Advertisements
%d bloggers like this: