Kashmir on protest


Advertisements

Contours of debt trap


THIS refers to the news report ‘Trade deficit surges to all-time high’ (April 12). The trade deficit has already crossed the $23bn mark during July-March and expected to exceed $30bn by June, which is forcing the government to seek fresh borrowings from other sources to meet its import requirements, as well as debt service obligations.

The reserves have declined from the peak of $24.5bn in early October 2016 to $21.5bn as of now, with falling exports, increasing imports and the resultant enlarged current account deficit expected at about $6bn. Further erosion in reserves in the subsequent months looks certain as the improvement is not foreseen in the performance of external trade.

The above scenario demonstrates that the country is into a serious debt trap. Debt trap is a situation in which a debt is difficult or impossible to repay, the borrower is sucked into obtaining fresh debt to pay old debt and a vicious cycle is created from which there is no exit.

Pakistan’s external debt stands at $75bn while its exports are $20bn. This means its external debt is almost four times that of exports. Bangladesh’s external debt is just 1.2 times its exports.

The bottom line is that the nation is close to financial insolvency.

تحریک آزادی کشمیر کا نیاپن،بھارتی ناکامی کا پیش خیمہ


black-day-observed-to-condemn-indian-troops-brutality-in-kashmir-920e6a72500a9d7f1b5439dd9fad7d02
مسئلہ کشمیر دو چار برس کی بات نہیں ہے یہ نصف صدی پر محیط کشمکش کا سفر ہے،اس سفر میں کشمیریوں نے آزادی کی تحریک شروع کی تو ہزاروں شہداء کی صورت میں بھارتی فوج کی طرف سے تحفہ ملا،کشمیر بھارت کو اپنا اٹوٹ انگ قراردیتا ہے تو پاکستان کیلئے شہہ رگ ہے،شہہ رگ کے بغیر کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا پاکستان اپنی شہہ رگ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا،پاکستان نے اپنے موقف میں لچک بھی دکھائی لیکن بھارت کی طرف سے ایک انچ بھی تبدیلی نہ آئی،کشمیر میں کچھ عرصہ آزادی کی تحریک کی شدت میں کمی ضرور آئی لیکن ختم نہیں ہوئی،حالیہ دنوں میں آزادی کی تحریک عروج پر ہے،کشمیریوں کو اپنے ساتھ رکھنے کی ہر بھارتی تدبیر ناکام ہورہی ہے،کشمیر یوں نے اعلانیہ پاکستانی پرچم لہرانے اور ترانے بجانا شروع کردیے ہیں،بھارتی فوج کی مزاحمت میں پتھر لے کر گلی محلوں میں اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں،حال میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے وادی کا دورہ کیا تو منہ کی کھانا پڑی،ریاستی انتخابات کا ڈرامہ رچایا تو فلاپ ہوگیا،بھارتی ٹی وی کے مطابق ٹرن آؤٹ تیس سالہ تاریخ میں سب سے کم 6فیصد رہا جس کے باعث بھارت کو یہ انتخابات منسوخ کرنا پڑے۔
پاکستان جتنا بھی کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کی طرف بڑھتا ہے بھارت اسی رفتار سے دور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے،پاکستان کا موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر مذاکرات کا معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔یہ حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے خطے کے بہت سارے مسائل خود بخودسدھر جائینگے،خطے کا امن کشمیر کے امن سے وابستہ ہے،کیونکہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تین ایٹمی طاقتوں،چین پاکستان اور بھارت کیلئے اہم ہے،اسی فوجی،سیاسی اہمیت کے پیش نظر بھارت کشمیر پر سے قبضہ چھوڑنے پر تیار نہیں۔
بھارت ہمیشہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا آیا ہے۔بھارت کہتا ہے کہ پہلے دہشتگردی اور دوسرے مسائل بارے بات کرو اس کے بعد کشمیرکا معاملہ دیکھا جائیگا،کشمیر کو وہ متنازعہ علاقہ تسلیم ہی نہیں کرتا،حالانکہ بھارتی حکومت 1948ء میں خود اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھاکر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلے کو حل کرنے کا وعدہ کرچکی ہے،اقوام متحدہ کی قرارداد کے بعد بھارتی اٹوٹ انگ کے دعوے کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔بھارت کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کی کوششوں کو بھی دہشتگردی کے کھاتے میں ڈالتا ہے،اس کا خیال ہے کہ وہاں برسر پیکار تنظمیں دہشتگرد ہیں،مان لیا یہ دہشتگرد ہیں تو اس کی وجہ بھی تو خود بھارت ہی ہے جس کی ’’میں نہ مانوں‘‘کی پالیسی نے کشمیری نوجوانوں کو اسلحہ اٹھانے پر مجبور کیا،کسی بھی جگہ امن نہ ہو تو تجارتی،ثقافتی اور دیگرتعلقات کی باتیں بے معنی ہوجاتی ہیں کاش!یہ سب بھارت سمجھ سکتا۔
اگر پاکستان کی کشمیر اور خطے میں امن کوششوں کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان نے ہر دور میں امن کیلئے پہل کی ہے۔پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو دنیا کے ہر فورم پر اٹھایا ہے،سارک سے لے کر اقوام متحدہ تک اس مسئلے کو لے کر گیا ہے،پاکستان کی اس حوالے سے پالیسی مسقل رہی ہے لیکن حل کرنے کے فارمولے تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ ساٹھ کی دہائی میں صدر مملکت ایوب خان نے اس مسئلے کو حل کروانے کیلئے امریکی صدر جان ایف کینڈی سے بھی مدد مانگی۔صدر ایوب کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی اس مسئلے کو حل کرنے میں پیش پیش رہے،او آئی سی کا وجود عمل میں آیا تو اس کے اجلاس میں بھی قراداد لائی گئی،جنرل ضیاء الحق شہید اور پیپلز پارٹی کے دوسرے دور حکومت میں بھی مسئلے کے حل کیلئے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ کارگل میں پاک بھارت جنگ اور نائن الیون کے واقعہ کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی لیکن کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی سیاسی حمایت میں کوئی کمی نہ آئی،جولائی 2001ء میں پاکستانی صدر پرویز مشرف نے بھارت کا دورہ کیا اور آگرہ میں اپنا چار نکاتی فارمولا پیش کیا۔مشرف فارمولا میں کہا گیا کہ کشمیر کو ایک منازعہ علاقہ قرار دے کر اس پر مذاکرات کا آغاز کیا جائے،غیر عملی حل کو چھوڑ دیا جائے اور اصلی حل کی جانب بڑھا جائے۔بھارت اس وقت بھی اعلامیہ پر دستخط کرنے سے مکر گیا۔پھر 2006ء میں جنرل پرویز مشرف نے ایک اور چار نکاتی حل پیش کیا جس میں کہا گیا کہ علاقے کو غیر فوجی علاقہ قرار دیکر مقامی حکومت بنائی جائے،کوئی نئی حد بندی نہ کی جائے ،پاکستان اور بھارت کی باہمی انتظامیہ مقرر کی جائے۔بھارت اس حل کی طر ف بھی نہ آیا۔اس کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی اپنے تئیں حل کی کوشش کی ،صدر زرداری نے اقوام متحدہ اور امریکی نمائندوں سے ملاقات میں بھی کشمیر کو خطے کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔2013ء میں نوازلیگ نے حکومت سنبھالی تووزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے پہلا کام بھارتی ہم منصب نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں جاکر امن کا پیغام دیا،وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا اقوام عالم کی ناکامی قرار دیا۔ پاکستان کی بھارت سے تعلقات کے حوالے سے نیت صاف ہے لیکن بھارت پاکستان کی طرف سے بھیجے گئے پھولوں کا جواب ہمیشہ نفرت اور توپوں کے گولوں سے دیتا آیا ہے۔
140516160448_nirender-modi
بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے کوششیں کی ہیں،جہاں بھی اس کا بس چلا اس نے پاک سرزمین کیخلاف زہر افشانی کی ہے،حقیقت یہ ہے کہ بھارتی ذہن نے ابھی تک پاکستان کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کیا،پاکستان اور چین کے مابین جب سے معاشی اور سٹریٹجک قربتیں بڑہی ہیں ،بھارتی حکومت ،پالیسی میکرز کو یہ بات ہضم نہیں ہورہیں،بلکہ یہ کہیں کہ ہیضہ ہوگیا ہے،بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کے زیر کنٹرول علاقہ کو اپنا حصہ ظاہر کرکے منصوبے کو شروع ہونے سے پہلے ہی رکوا دیا جائے ۔بھارت چور مچائے شور والی پالیسی پر عمل پیرا ہے،کہ اتنا شور مچایا جائے کہ بھارت کے زیر قبضہ علاقوں اور وہاں جاری آزادی کی تحریکوں کی طرف دنیا کا دھیان ہی نہ جانے پائے۔بھارتی حکومت نے پاکستان اور چین کے مابین عدم اعتماد کی فضاء قائم کرنے کیلئے اپنی خفیہ ایجنسی را کو ہدف دے دیا ہے جس کے اثرات پاکستان میں محسوس بھی کیے جا رہے ہیں،بلوچستان سے بھارتی ایجنسی را کے ایجنٹوں کا پکڑا جانا پاکستانی کی سلامتی پر بھارت کا وار ہے جو ناقابل معافی جرم ہے،بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے بجائے افغانستان سے مل کر پاکستان میں پراکسی وار شروع کے ہوئے ہے،بھارت کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ چین اقتصادی راہداری کے ذریعے افغانستان یا سنٹرل ایشیا کی ریاستوں تک پہنچے،بھارت کے اس منصوبے کا اعتراف بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے بھی کیا ہے،اس کے اسی اعتراف کے جرم میں ملٹری کورٹس نے سزا بھی سنائی ہے جس پر بھارت دنیا بھر میں واویلا مچا رہا ہے،سزا پر عمل کرنے کی صورت میں سخت نتائج کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے،بھارت کی یہ خام خیالی ہے کہ وہ پاکستان او ر چین کو ترقی سے روک پائے گا۔

ّبھارتی حکمران یہ بات اپنے ذہن میں رکھیں کہ پاکستان معاشی لحاظ پیچھے ضرور ہے لیکن اتنا ہی کمزور نہیں کہ نوالہ سمجھ کر چبا لیا جائے۔پاکستان نے تو دنیا کو پرامن بنانے کیلئے ساٹھ ہزار سے زائد قربانیاں دی ہیں،اقوام متحدہ کے ہر امن مشن کا پاک فوج حصہ ہے،دنیا میں جہاں بھی ظلم کی بات ہوتی ہے پاکستان اس کی مذمت کرنے میں پیش پیش ہوتا ہے،بھارت نے تو خود اپنے ملک میں گاؤ ماتا کی پوجا کے نام پر الاؤ جلا رکھے ہیں،تمام اقلیتیں نام نہاد سیکولر جمہوری نظام سے تنگ ہیں،روزانہ نفرت کے نام پر قتل کیے جانیوالوں کی خبریں ملتی ہیں،بھارت کو پاکستان کی فکر چھوڑ کراپنے وطن کی فکر کرنی چاہیے،اپنا وجود بر قرار رکھنے کیلئے اپنے عوام کو رام کرے نہ کہ ہمسایوں کے سینگوں میں سینگ ڈالتا پچرے۔
کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے سے یہ انگ بھارت کا تھوڑا ہی ہوجائے گا،جنگ جنگ کرنے سے کہیں ایسا نہ ہو کہ بھارت کا انگ انگ ہی نہ ٹوٹ جائے،کالے کوے کو سفید کہنے سے سفید نہیں ہوجاتا

Women in technologySilicon Valley’s sexism problem


“BOOBER” is the nickname Travis Kalanick, the boss of Uber, used to describe the effect that the ride-hailing startup had on his attractiveness to the opposite sex. Mr Kalanick’s wisecrack seems to have been emblematic of a deeply macho culture. An investigation is under way into allegations from a former employee that Uber refuses to promote capable women or to take complaints about harassment seriously. The results are due to be released in the coming weeks.

Uber is not the only technology star in the spotlight for its treatment of women. Google has been accused by America’s Department of Labour of paying female employees significantly less than male ones.Google flatly denies the charge. But that technology in general, and Silicon Valley in particular, has a gender problem is not in doubt. A survey of 210 women in the valley found that 60% had experienced unwanted sexual advances and that two-thirds felt excluded from important social and networking opportunities. PayScale, a research firm, has found that only 21% of American tech executives are female (the figure in other industries is 36%). Women in tech are paid less than men, even after controlling for experience, education and responsibilities.

Not all these problems can be laid at the door of Silicon Valley. Plenty of people are worried about the small number of girls taking science, technology, engineering and mathematics courses. Only 18% of bachelor’s degrees in computer science in America were awarded to women in 2013, down from 37% in 1985. Pay gaps are pervasive, too.

But that shouldn’t let the valley off the hook. It prides itself on solving difficult problems and on being a meritocracy. Being as bad as everywhere else in its treatment of women falls disappointingly short. More to the point, the valley suffers from a distinctive form of sexism which is in its power to fix.

Venture capitalists are the technology industry’s demigods. Through their cheques, connections and advice, they determine which startups succeed and which languish. They are bright, clannish and almost exclusively male. Only around 6% of partners at venture-capital firms are women, down from 10% in 1999. Less than 40% of the top 100 venture-capital firms have a female partner charged with investing. Many of the most highly regarded funds, including Benchmark and Andreessen Horowitz, have none.

For a set of people who finance disruptive firms, venture capitalists are surprisingly averse to disrupting their own tried-and-tested way of doing things. They sit in small groups, meet entrepreneurs and repeat a single formula for investing whenever possible. John Doerr, who backed companies like Google, summed up his philosophy thus: “Invest in white male nerds who’ve dropped out of Harvard or Stanford.”

 

Plenty of studies show that diverse teams are more productive. Hiring more women in venture capital seems to increase the odds of finding and funding those elusive female entrepreneurs. Venture capitalists play a vital role in shaping the culture of startups: investors who value diversity are likelier to guide them away from the reputational and legal risks that beset offices full of “brogrammers”. Silicon Valley is a remarkable place. But it is time for the boy’s club to grow up.

%d bloggers like this: